خرم منظور صاحب! موقع کا فائدہ اس طرح اٹھاتے ہیں

صرف دو دن پہلے لینڈل سیمنز سات سمندر پار گھر بیٹھے ویسٹ انڈیز کی کارکردگی سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ انہیں اچانک خبر ملی کہ آندرے فلیچر کے زخمی ہونے کی وجہ سے انہیں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں فوراً طلب کیا گیا ہے۔ فلیچر کا زخمی ہونا ویسٹ انڈیز کے لیے اچھی خبر نہیں تھی۔ بہرحال، سیمنز سرپٹ دوڑے اور طویل سفر کے بعد بھارت پہنچے جہاں ان کا پہلا مقابلہ ہی سیمی فائنل تھا وہ بھی میزبان کے خلاف۔

گزشتہ اتوار کو جب ویسٹ انڈیز کی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ کلائیو لائیڈ نے سیمنز سے رابطہ کیا اور فٹنس کے بارے میں پوچھا اور بتایا کہ انہیں بھارت کے خلاف سیمی فائنل کھیلنا ہوگا تو سیمنز نے لمحے بھر کو بھی نہ سوچا اور کہا کہ وہ مکمل طور پر تیار ہیں۔ دو پروازیں لینے اور طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد منگل کو وہ ممبئی پہنچے اور آرام کے بجائے فوراً مشقوں کا آغاز کردیا۔ یہی وجہ تھی کہ بھارت کے خلاف سیمی فائنل میں فاتحانہ اننگز کھیلنے کے بعد ان سے پہلا سوال ہی یہ کیا گیا کہ میچ سے پہلے آپ سوئے بھی تھے یا نہیں؟ جس پر مسکراتے ہوئے سیمنز نے کہا کہ سفر کے دوران ہی نیند مکمل کرلی تھی، پھر یہاں آ کر بھی سکون کی نیند سویا۔ سیمنز کا کہنا تھا کہ سب سے اچھی بات یہ ہوئی کہ مقابلہ ممبئی میں تھا، آئی پی ایل میں ممبئی انڈینز کی جانب سے کھیلتے ہوئے وہ یہاں کے حالات سے وکٹ سے کافی ہم آہنگ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر اتوار کو اچانک طلب نہ بھی کیا جاتا تو وہ جمعے کو آئی پی ایل کھیلنے کے لیے ویسے ہی ممبئی آ رہے تھے لیکن خوش قسمتی کہ یہ میچ کھیلنے کا موقع ملا اور کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز کی جانب سے مایوس کن مہم کھیلنے کے بعد سے اب تک کوئی مقابلہ نہ کھیلنے والے کے باوجود سیمنز نے دنیا کو دکھایا کہ اگر موقع ملے تو اس کا فائدہ کس طرح اٹھایا جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی موقع خرم منظور کو بھی ملا تھا۔ خود ان کے اپنے الفاظ میں سلیکشن پر وہ خود حیران تھے۔ ایسا موقع نصیب والوں کو ہی ملتا ہے۔ پاکستان میں ہزاروں ایسے کھلاڑی ہیں جو پاکستان کی نمائندگی کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں اور اس کے لیے مطلوبہ اہلیت بھی رکھتے ہیں لیکن ایسے کھلاڑیوں کی بڑی تعداد شاید پوری عمر اسی انتظار میں گزارے دے گی لیکن خرم کو موقع ملا اور انہوں نے کیا کیا؟ کیریئر کو نیا رخ دینے کے بجائے وہ آخری وقت تک اس دھچکے سے ہی نہیں نکل پائے۔

ملک کی نمائندگی نہ سب کو راس آتی ہے اور نہ ہی سب اس کی اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں۔ لینڈل سیمنز اور خرم منظور کو ایک ہی جیسے موقع ملے لیکن نتیجہ دیکھیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ موقع ملنا سب کچھ نہیں ہوتا، ذہنی و جسمانی مضبوطی کا اندازہ میدان میں اتر کر ہی ہوتا ہے۔

Facebook Comments