گرانٹ ایلیٹ ایک روزہ کرکٹ چھوڑ گئے

عموما یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ بڑے ٹورنامنٹ کے بعد شکست خوردہ ٹیموں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ عوامی دباؤ بھی یہی ہوتا ہے کہ تجربہ کار کھلاڑیوں کی ناکامی کے بعد اب نوجوانوں کو مواقع فراہم کئے جائیں اور ہر طرف سے ریٹائرمنٹ کی خبریں آنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ نیوزی لینڈ کے معاملے میں یہی دباؤ کارفرما ہے یا نہیں لیکن اتنا ضرور ہوا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے سیمی فائنل میں انگلستان سے شکست کھانے کے بعد ان کے سالہ 37 آل راؤنڈر گرانٹ ایلیٹ نے ایک روزہ کرکٹ چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ٹی ٹوئنٹی کیریئر جاری رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اس فارمیٹ سے خوب محظوظ ہو رہے ہیں۔

اسے ایلیٹ کی خوش قسمتی ہی کہیں گے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں ان کے لیے گزشتہ ایک سال بہت ہی یادگار رہا ہے۔ طویل انتظار کے بعد انہیں عالمی کپ 2015ء کے لیے طلب کیا گیا حالانکہ 2013ء کے بعد سے انہوں نے کوئی بین الاقوامی مقابلہ نہیں کھیلا تھا۔ عالمی کپ میں انہوں نے اپنے آبائی وطن جنوبی افریقہ کے خاف سیمی فائنل میں 73 گیندوں پر 84 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ اس میں مشکل ترین مرحلہ وہ تھا جب نیوزی لینڈ کو آخری دو گیندوں پر پانچ رنز کی ضرورت تھی اور دنیا کے تیز ترین باؤلر ڈیل اسٹین باؤلنگ کروا رہے تھے۔ ایلیٹ نے انہیں شاندار چھکا لگا کر میچ کا فیصلہ کیا۔ اس چھکے نے ایلیٹ کو غیر معمولی شہرت دی۔ نیوزی لینڈ کے سابق کپتان برینڈن میک کولم نے کہا تھا کہ وہ ڈرامائی کامیابی ہمارے لیے زندگی کا سب سے یادگار دن تھا۔

2009ء میں پاکستان کے خلاف اپنے پہلے ہی مقابلے میں، جہاں وہ مکمل طور پر فٹ بھی نہیں تھے، ایلیٹ نے ناقابل شکست 75 رنز بنائے تھے۔ کیونکہ ایلیٹ نیوزی لینڈ کا مستقل حصہ نہیں رہ سکے تھے اس لیے ان کے بین الاقوامی مقابلوں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے۔ انہوں نے 83 ایک روزہ کھیلے، 34 کے اوسط سے 1976 رنز بناغے جس میں دو سنچریاں اور 11 نصف سنچریاں شامل رہیں۔

ایلیٹ نے ایک روزہ کرکٹ چھوڑنے کا فیصلہ 2015ء میں ہی کرلیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد اپنے کرکٹ کیریئر کا از سر نو جائزہ لیں گے۔

Grant-Elliott

Article Tags

Facebook Comments