سرفراز احمد نئے ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر

پاکستنا کرکٹ بورڈ نے شاہد آفریدی کی جانب سے استعفے کے بعد سرفراز احمد کو ٹی ٹوئنٹی کپتان بنانے کا اعلان کردیا ہے۔

اس امر کا اعلان چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ شہریار خان نے کیا، جنہوں نے کہا کہ یہ ایک متفقہ فیصلہ ہے اور وہ اُمید کرتے ہیں کہ مستقبل میں سرفراز ٹیم کے لیے اچھے ثابت ہوں گے۔

ایشیا کپ کے بعد ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بدترین شکست کے بعد شاہد آفریدی پر کڑی تنقید کی جا رہی تھی اور اسی تنقید کی وجہ سے "لالا" نے کپتانی چھوڑنے کا اعلان کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ صرف قیادت سے دستبردار ہو رہے ہیں اور بطور کھلاڑی دستیاب ہوں گے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ عرصہ دراز سے یہ بات کہی جا رہی تھی کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء شاہد آفریدی کے بین الاقوامی کیریئر کا آخری ٹورنامنٹ ہوگا۔ بہرحال، نائب کپتان ہونے کی وجہ سے سرفراز احمد کے امکانات ویسے بھی زیادہ تھے پھر بھی عماد وسیم سمیت مختلف نام سامنے آ رہے تھے، جو ہمارے ذرائع ابلاغ کا "خاص شوق" ہے کہ وہ خواہشات کو خبر بناتا ہے، بہرحال پی سی بی کا فیصلہ آنے کے بعد تمام افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی، اور اس سے قبل ایشیا کپ کو ملا کر پاکستان نے کل 8 مقابلے کھیلے اور صرف تین میں فتوحات حاصل کیں۔ ان ناکامیوں کے بعد بورڈ نے کوچ، مینیجر اور کپتان سے شکست کی وجوہات پر مبنی رپورٹ طلب کی تھی لیکن اس معاملے پر تنازع نے اس وقت جنم لیا جب کوچ اور مینیجر کی رپورٹ ذرائع ابلاغ پر جاری ہوگئیں جس میں دونوں ہی نے کپتان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ وقار یونس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ شاہد آفریدی نہ تو بطور بیٹسمین ٹیم کے کام آئے اور نہ ہی گیندباز کی حیثیت سے اور یہی معاملہ کپتانی کے ساتھ بھی ہوا۔ ٹیم میٹنگ کے ساتھ ساتھ وہ پریکٹس سیشن سے بھی غائب رہتے۔ رپورٹ میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کبھی کوئی کپتان اس رویے کے ساتھ ٹیم کو میدان میں لڑانے میں کامیاب ہو سکتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:  پرانے "لالا" کی جھلک، پشاور نمبر ایک

اسی طرح مینیجر انتخاب عالم کی رپور میں کہا گیا کہ شاہد آفریدی کو معلوم ہی نہیں کہ کپتان کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔ میدان میں ایسا لگتا ہے کہ وہ سب کچھ بھول گئے ہیں۔ اپنی اسی رپورٹ میں انتخاب عالم کہتے ہیں کہ شاہد آفریدی نے پورے ایونٹ میں سرفراز احمد کی صلاحیتوں کا کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور ہمیشہ انہیں آخری نمبروں پر بھیجا۔

یاد رہے کہ سرفراز احمد اب تک 21 ٹی ٹوئنٹی میچز میں 29 سے زیادہ کے اوسط کے ساتھ 291 رنز بنا چکے ہیں جن میں دو نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔

2006ء میں پاکستان کو انڈر19 ورلڈ کپ جتوانے والے سرفراز میں اب قیادت کی کتنی صلاحیتیں ہیں، اس کے لیے پاکستان سپر لیگ کا پہلا سیزن دیکھنا کافی ہے جہاں ان کی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو ابتدا میں کوئی خاطر میں نہیں لا رہا تھا لیکن سرفراز نے اسے ٹورنامنٹ کی مضبوط ترین ٹیم بنایا۔ گوکہ وہ فائنل نہ جیت سکے لیکن پوری قوم کے دل جیتنے میں ضرور کامیاب ہوئے۔

Facebook Comments