انگلستان کے لیے اہم کامیابی لیکن منزل ابھی دور

ایک اننگز اور 88 رنز کی بڑی فتح، انگلستان کا اعتماد اب بلندیوں کو چھو رہا ہوگا لیکن یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ سوائے جونی بیئرسٹو اور ایلکس ہیلز کے کوئی انگلش بلے باز سری لنکا کی باؤلنگ سامنے ٹک نہیں پایا تھا۔ خاص طور پر ابتدائی بلے بازوں کو نئی اور گھومتی گیند سے نمٹنے کے لیے کچھ کر دکھانے کی ضرورت ہے۔

ایلکس ہیلز نے بہت عمدہ بلے بازی کی، اتنی گیندیں کھیلیں، جتنی سری لنکا کی پوری ٹیم اپنی کسی بھی اننگز میں نہ کھیل سکی۔ ان کی 86 رنز کی اننگز کو سراہنا چاہیے کیونکہ یہ بلے بازی کے لیے سازگار کسی وکٹ پر کہیں زیادہ بڑی اور قیمتی باری ہوتی۔ بیئرسٹو نے سری لنکا کے باؤلنگ منصوبوں کے طشت از بام ہو جانے کے بعد خوب فائدہ اٹھایا۔ 70 رنز پر وکٹوں کے پیچھے موقع ملنے کے بعد ان کو روکنے والی کوئی طاقت نہیں دکھائی دی۔ ان سے پہلے صرف میٹ پرائیر ہی تھے جنہوں نے انگلستان کی جانب سے کسی ٹیسٹ میں سنچری بنائی اور اننگز میں پانچ کیچ بھی پکڑے۔

سری لنکا کے پاس جمی اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ کا کوئی جواب نہیں تھا، جو انگلستان کے لیے تاریخ کی سب سے کامیاب باؤلنگ جوڑی بن چکے ہیں۔ اینڈرسن جیسے باؤلر کے لیے کامیابی کی کلید یہ ہے کہ جب حالات ان کے حق میں دکھائی دیتے ہیں، جیسا کہ ہیڈنگلے میں تھے، تو وہ پوری خوبی کے ساتھ اپنے کام کو انجام دیتے ہیں جہاں ہو سکتا ہے کہ دیگر گیندباز کامیابی کے لیے جدوجہد کرتے دکھائی دیں۔ تاریخ میں صرف پانچ گیندباز ایسے ہیں جنہوں نے صرف 45 رنز یا اس سے کم رنز دے کر کسی میچ میں 10 وکٹیں حاصل کی ہوں۔ سری لنکا کی تیاری میں کمی کھل کر سامنے آئی اور اسے اندازہ ہوگیا کہ انگلستان اپنے ملک اور اپنی کنڈیشنز میں سخت ترین حریف ہے۔

گو کہ کوسال مینڈس جیسے نوجوان کھلاڑی کو نصف سنچری بناتے ہوئے دیکھنا بہت اچھا لگا لیکن انہیں کئی مواقع بھی ملے اور ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں قسمت ان پر اتنی مہربان نہ ہو۔ گو کہ جیمز ونس کو ملنے والے دو مواقع اتنے آسان نہیں کہلا سکتے لیکن انگلستان کی فیلڈنگ کا جو معیار ہے، اس کے مطابق ان کو یہ لینے چاہیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  یہ 'پلے آف' کیا ہے؟

انگلستان کے لیے ایک پریشانی کی بات بین اسٹوکس کا زخمی ہونا ہے، جو اب کم از کم سری لنکا کے خلاف سیریز سے تو مکمل طور پر باہر ہو چکے ہیں۔ ان کے گھٹنے کا آپریشن جلد از جلد ہوگا اور خدشہ ہے کہ پاکستان کے خلاف سیریز تک وہ فٹ نہ ہو سکیں۔ ان کی جگہ کرس ووکس کو 27 مئی سے چیسٹر-لی-اسٹریٹ میں شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے لیے بلا لیا گیا ہے۔ ووکس کی آمد ایک چوتھے تیز باؤلر کا اضافہ کرے گا، جو سری لنکا کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ ہوگا اور ان کی بیٹنگ صلاحیت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

پہلے ٹیسٹ میں یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ انگلستان نے فالو-آن لاگو کیا، جو عام طور پر اب ٹیمیں نہیں کرتیں بلکہ خود دوبارہ بیٹنگ کرلیتی ہیں۔ حالانکہ انگلستان نے پہلی اننگز میں صرف 298 رنز بنائے تھے، اس کے باوجود یہ فیصلہ واقعی جرات مندانہ تھا۔ تاریخ میں صرف ایک بار ایسا ہوا ہے کہ کسی ٹیم نے اس سے کم رنز پر حریف کو فالو-آن کرنے کے لیے دوبارہ بیٹنگ دی ہو۔ 1990ء میں بھارت نے صرف 288 رنز بنانے کے بعد سری لنکا کو 82 رنز پر ڈھیر کیا اور دوبارہ بیٹنگ کے لیے اتارا، جس میں وہ 198 پر ڈھیر ہوا اور مقابلہ ہار گیا۔ خود انگلستان نے آخری بار 2013ء میں ویلنگٹن ٹیسٹ میں فالو-آن لاگو کیا تھا، جس کی وجہ موسمی تھی کیونکہ ایک طوفان بحیرۂ تسمان میں موجود تھا اور مقابلہ کسی بھی وقت بارش کی وجہ سے ختم ہو سکتا تھا۔ ویسے اس سے پہلے فالو-آن لاگو کرنا انگلستان کے لیے بڑی مصیبتیں لایا ہے جیسا کہ 1999ء میں ڈربن ٹیسٹ میں ناصر حسین نے جنوبی افریقہ کو فالو-آن کے بعد دوبارہ بیٹنگ کے اتارا اور پھر گیری کرسٹن نے ساڑھے 14 گھنٹے طویل 275 رنز کی یادگار اننگز کھیلی۔ پھر 2006ء میں لارڈز پر سری لنکا کے خلاف اور اس کے دو سال بعد جنوبی افریقہ کے مقابلے میں بھی، انگلستان نے دیکھا کہ دوسری اننگز تک وکٹ کافی سیدھی ہوگئی تھی اور پہلی اننگز میں شیر بن جانے والے باؤلرز گیدڑ بنے دکھائی دیے۔

Stuart-Broad

Facebook Comments