ٹیسٹ کرکٹ کو ڈویژنز میں تقسیم کرنا ضروری

سری لنکا انگلستان کے دورے پر موجود ہے اور سیریز کے پہلے ہی مقابلے سے اندازہ ہوگیا کہ یہ یکطرفہ ہوگی۔ دو ایسی ٹیمیں باہم مقابل ہیں جو ٹیسٹ کرکٹ میں دو مختلف مقامات پر کھڑی ہیں۔ انگلستان پہلے ٹیسٹ میں بھی غالب رہا، ایک اننگز اور 88 رنز سے جیتا اور دوسرے میں بھی مکمل طور پر چھایا ہوا ہے اور 498 رنز پر اننگز کے خاتمے کا اعلان کرکے سری لنکا کو صرف 91 رنز پر 8 وکٹوں سے محروم کردیا ہے۔ اس 'بے مزا' سیریز اور ٹیسٹ کرکٹ پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے انگلستان کے سابق کپتان مائیکل وان نے معروف اخبار 'ٹیلی گراف' میں کالم لکھا ہے اور چند بہترین تجاویز پیش کی ہیں، جن کا ترجمہ و تلخیص ذیل میں آپ کے لیے پیش کی جا رہی ہے:


Michael-Vaughan

صاف ظاہر ہے کہ انگلستان سیریز باآسانی جیت جائے گا، ان کے پاس نوجوانوں اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا بہترین ملاپ موجود ہے۔ خاص طور پر اپنے ملک میں تو وہ ناقابل شکست دکھائی دیتے ہیں کہ جہاں جیمز اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ بہترین باؤلنگ دکھاتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں سری لنکا کے پاس حقیقی تجربہ موجود نہیں۔ پہلے مرلی دھرن اور پھر کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے کی روانگی سے گزشتہ چند سالوں میں ٹیسٹ میں سری لنکا کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اب انگلستان میں وہ ایسے ہدف کو حاصل کرنا چاہ رہے ہیں، جو ان جیسے ناتجربہ کاروں کے بس کی بات نہیں ہے۔

انگلستان کو یوں جیتتے دیکھنا بہت سوں کے لیے خوش کن منظر ہوگا، پاکستانی شائقین کے لیے پریشانی کی بات بھی لیکن بحیثیت مجموعی ٹیسٹ کرکٹ کو ایسی یکطرفہ سیریز سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ ویسی ہی سیریز ہے جیسی چند ماہ قبل آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے کھیلی تھی کہ سب کو پہلے سے معلوم تھا کہ آسٹریلیا باآسانی جیتے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز اور سری لنکا جیسی درجہ بندی میں نچلے نمبروں کی ٹیموں کو اپنے برابر کے دستوں سے ہی کھیلنا چاہیے۔ وجہ؟ کیونکہ اس وقت ٹی ٹوئنٹی جیسی تیز کرکٹ کے ہاتھوں ٹیسٹ کو بقاء کا خطرہ لاحق ہے اور اس صورت حال میں ایسے یکطرفہ مقابلے ٹیسٹ کے لیے بالکل فائدہ مند نہیں ہوں گے۔ اس لیے بہترین بمقابلہ بہترین کا فارمولا اپنانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  "مصالحہ" ذرا تیز ہے بھائی!

کرکٹ کو جدید عہد میں جتنی بھی جدت بخشی گئی ہے، وہ محدود اوورز کی کرکٹ میں ہے۔ ایک روزہ میں صرف عالمی کپ ہی نہیں، بلکہ چیمپئنز ٹرافی بھی بنا دی گئی، جس میں سرفہرست آٹھ ٹیمیں کھیلتی ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی میں بھی ہر دو سال بعد ایک عالمی چیمپئن شپ ہوتی ہے جبکہ ہر سال مختلف ممالک شاندار لیگز منعقد کرواتے ہیں۔ لیکن دہائیوں تک دنیا بھر میں مقبول رہنے والی ٹیسٹ کرکٹ میں کون سی جدت اختیار کی گئی ہے؟ بڑی مشکل سے اب کہیں جاکر ڈے نائٹ ٹیسٹ، وہاں بھی گلابی رنگ کی گیند کی وجہ سے ایک ہنگامہ برپا ہے۔

اس صورت حال میں ضروری ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں شاندار مقابلے دیکھنے کو ملیں اور اگر دو مزید ٹیموں کو ٹیسٹ کھیلنے کی اجازت دے کر چار، چار ٹیموں کے تین ڈویژن بنا دیے جائیں اور ہر ڈویژن کی ٹیمیں آپس میں 'ہوم' اور 'اوے' کی بنیاد پر کھیلیں تو اس سے ٹیسٹ کرکٹ کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔ ایک مقررہ عرصے، جو ایک سال بھی ہو سکتا ہے، کے بعد ہر ڈویژن کی سب سے نچلی ٹیم دوسرے ڈویژن کی سرفہرست ٹیم کے ساتھ کھیلے گی اور یوں ان کی اگلے ڈویژن میں ترقی یا پچھلے میں تنزلی طے پا سکتی ہے۔ یوں یکطرفہ ٹیسٹ مقابلوں کا سلسلہ کافی حد تک ختم ہو سکتا ہے۔

تصور کیجیے کہ پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد انگلستان کے لیے اگلے دونوں ٹیسٹ جیتنا ضروری ہوں تاکہ وہ ٹاپ ڈویژن میں برقرار رہ سکے۔ اس سے ٹیسٹ کرکٹ میں عوامی دلچسپی بہت زیادہ بڑھ سکتی ہے۔

Facebook Comments