"ٹیڑھی انگلی" اب کبھی نہیں اٹھے گی؟

کرکٹ شائقین میں جتنے مقبول نیوزی لینڈ کے بلی باؤڈن ہیں، اتنی شہرت شاید ہی کرکٹ میں کسی امپائر کو ملی ہو۔ منفرد انداز اور ایک دلچسپ شخصیت ہونے کی وجہ سے باؤڈن کو ہمیشہ ایک خاص مقام حاصل رہا ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ شاید وہ کبھی دوبارہ کسی بین الاقوامی مقابلے میں نظر نہ آئیں۔ نیوزی لینڈ کرکٹ نے بلی باؤڈن کو بین الاقوامی امپائروں کے پینل سے نکال کے قومی امپائروں کی فہرست میں ڈال دیا ہے۔ اب ہو سکتا ہے کہ ہمیں انٹرنیشنل کرکٹ میں کبھی "ٹیڑھی انگلی" نظر نہ آئے۔

53 سالہ بلی باؤڈن کے بین الاقوامی امپائرنگ کیریئر کا آغاز 21 سال پہلے ہوا اور اس دوران انہوں نے 84 ٹیسٹ اور 200 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں فرائض سر انجام دیے۔ چوکے، چھکے، آؤٹ بلکہ تمام ہی اشاروں میں دیگر امپائروں سے جداگانہ انداز کی وجہ سے وہ شاید کرکٹ تاریخ کے پہلے امپائر ہوں گے جن کی کمرشل اہمیت بھی تھی اور وہ کئی اشتہاروں تک میں نظر آتے تھے۔

لیکن 2013ء میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے انہیں اپنے امپائروں کے ایلیٹ پینل سے خارج کردیا تھا۔ 2014ء میں وہ واپس آئے اور 2015ء میں ایک مرتبہ پھر باہر نکال دیے گئے۔ رواں سال فروری میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا گیا مقابلہ ان کا 200 واں ایک روزہ تھا اور اس کے بعد سے اب تک انہوں نے کسی انٹرنیشنل میچ میں خدمات انجام نہیں دیں۔

نیوزی لینڈ کرکٹ نے بلی باؤڈن سمیت متعدد امپائروں کو نکال کر اپنے بین الاقوامی پینل میں شان ہیگ، کرس براؤن اور وین نائٹس کو جگہ دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل اور جذباتیت
Billy-Bowden

Facebook Comments