روئے چھا گئے، انگلستان کو سیریز میں کامیابی دلادی

جب مقابلہ بارش سے متاثر ہو جائے، آپ کا مقابل 42 اوورز میں ہی 305 رنز جڑ دے اور جواب میں آپ کی پہلی وکٹ صرف 18 رنز پر گر جائے تو امیدیں کافی کم ہو جاتی ہیں لیکن انگلستان کے نئے کھلاڑی بھی کیا کمال ہیں، دباؤ نامی کسی شے کو قبول ہی نہیں کرتے۔ سری لنکا کے خلاف چوتھے ایک روزہ میں جیسن روئے نے ایک اور سنچری جڑتے ہوئے ناممکن کو ممکن بنا دیا ہے اور یوں انگلستان سیریز بھی جیتنے میں کامیاب ہوگیا۔

اوول میں کھیلے گئے چوتھے ایک روزہ میں روئے نے صرف 118 گیندوں پر 162 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 13 چوکے اور تین چوکے بھی شامل تھے۔ یوں 42 اوورز میں ملنے والے 308 رنز کے ہدف تک پہنچنا آسان بنا دیا۔ روئے اس وقت آؤٹ ہوئے جب صرف چار اوورز کا کھیل باقی بچا تھا یہی وجہ ہے کہ وہ آؤٹ ہونے کے بعد سخت مایوس دکھائی دیے لیکن ان کی اننگز رائیگاں نہیں گئی۔ سیریز کا ایک مقابلہ ٹائی اور ایک بارش کی نذر ہونے کی وجہ سے پانچویں و آخری روزہ سے قبل ہی انگلستان دو-صفر سے سیریز جیت گیا ہے۔

جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے روئے صرف پانچ رنز کی کمی سے انگلستان کی جانب سے سب سے بڑی ایک روزہ اننگز کا ریکارڈ نہ توڑ سکے جو بدستور رابن اسمتھ کے پاس ہے جنہوں نے 1993ء میں آسٹریلیا کے خلاف ناقابل شکست 167 رنز بنائے تھے۔ بہرحال، ان کی اننگز کی بدولت انگلستان نے 41 ویں اوور میں صرف 4 وکٹوں پر ہدف ضرور حاصل کرلیا۔

انگلستان نے یہ شاندار کامیابی عین اس مقابلے میں حاصل کی جس میں سری لنکا نے اب بلے بازی کا بہترین مظاہرہ کیا۔ دنوشکا گوناتھلکا، کوسال مینڈس، دنیش چندیمال اور اینجلو میتھیوز کی نصف سنچریوں کی بدولت بارش سے متاثرہ اننگز صرف 42 اوورز میں ہی 305 رنز تک پہنچ گئے۔ اس میں مینڈس کے 77 رنز سب سے نمایاں تھے جبکہ کپتان میتھیوز نے 67 رنز اسکور کیے۔ صرف 8 رنز پر پہلی وکٹ گرنے کے بعد مینڈس اور چندیمال کی 128 رنز کی شراکت داری نے بہترین بنیاد فراہم کی جس کا آنے والے بلے بازوں نے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔

جواب میں انگلستان کا آغاز بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ معین علی کو اوپنر بھیجنے کا تجربہ بری طرح ناکام ہوا کیونکہ وہ صرف دو رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوگئے۔ یہاں جو روٹ آئے، جن کے بلّے سے بالآخر رنز نکلے۔ دوسری وکٹ پر روئے کے ساتھ 149 رنز کی شراکت داری میں روٹ کا حصہ 65 رنز کا تھا۔

جیسن روئے نے سیریز کے دوسرے ایک روزہ میں سنچری بنائی تھی جہاں 255 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انہوں نے 112 رنز بنائے تھے اور ایلکس ہیلز کے ساتھ ریکارڈ شراکت داری بھی قائم کی تھی۔

بہرحال، 305 رنز کا ہدف کامیابی سے عبور کیا گیا انگلستان دوسرا سب سے بڑا ہدف تھا بلکہ اس لحاظ سے بہترین تھا کہ اسے صرف 42 اوورز دیے گئے تھے۔

ٹیسٹ کے بعد ایک روزہ میں بھی شکست کھانے کے بعد سری لنکا کی نظریں آخری ایک روزہ پر ہیں کہ جو سنیچر کو کارڈف میں کھیلا جائے گا۔

Jason-Roy2

Facebook Comments