شین وارن محمد عامر کی حمایت میں کود پڑے

آسٹریلیا کے معروف سابق اسپن "جادوگر" شین وارن کی اور کوئی خوبی ہو یا نہ ہو، لیکن وہ باصلاحیت کھلاڑیوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں چاہے وہ پاکستان کے یاسر شاہ ہوں یا اب اسپاٹ فکسنگ میں طویل پابندی سہنے کے بعد انگلستان کا پہلا دورہ کرنے والے محمد عامر۔ ایک ایسے دورے پر کہ جہاں ذہنی دباؤ شدید ہوگا، ایک عظیم کھلاڑی کی حمایت عامر کے لیے یقیناً حوصلہ افزاء ہوگی۔

46 سالہ شین وارن نے اسکائی اسپورٹس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس امید کا اظہار کیا کہ ماضی کی تلخ یادوں کے برعکس پاکستان اور انگلستان کی یہ سیریز بہت کامیاب رہے گی اور عامر کو اچھے ماحول میں کرکٹ کھیلنے کو ملے گی۔ وارن نے اس خدشے کو یکسر مسترد کردیا کہ عامر کو انگلش تماشائیوں کے جارحانہ رویے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے بجائے وارن نے یقین ظاہر کیا کہ انہیں بہت مثبت اور خوشگوار حالات ملیں گے۔

2010ء میں جب پاکستان نے آخری بار انگلستان کا دورہ کیا تھا تو محمد عامر اور ساتھ ہی کپتان سلمان بٹ اور محمد آصف اسپاٹ فکسنگ میں دھر لیے گئے تھے جس کی پاداش میں ان پر کم از کم پانچ، پانچ سال کی پابندی عائد کردی گئی تھی۔ پابندی کا دورانیہ مکمل ہونے کے بعد محمد عامر تو رواں سال کے اوائل میں ہی دورۂ نیوزی لینڈ سے بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آ گئے اور اب 14 جولائی کو اسی میدان پر اپنا "نئی زندگی کا پہلا ٹیسٹ" کھیلیں گے جہاں وہ مجرم ثابت ہوئے تھے یعنی لارڈز میں۔

پاکستان کے کپتان مصباح الحق کا دعویٰ ہے کہ محمد عامر توقعات سے بڑھ کر کارکردگی دکھائے گا کیونکہ اس میں دنیا کے بہترین باؤلر بننے کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔ انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ وہ اپنے گزشتہ دورۂ انگلستان کی کارکردگی کو یقینی بنائے گا جہاں چار میچز میں 19 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

اس کے برعکس شین وارن کا کہنا ہے کہ پاک-انگلستان سیریز میں فیصلہ کن کردار بیٹنگ کا ہوگا اور جیت کے لیے دونوں ٹیموں کے ٹاپ آرڈر کو بھرپور ذمہ داری دکھانی ہوگی۔ گیندبازی کے معاملے میں وارن نے دونوں ٹیموں کو متوازن قرار دیا۔ سابق لیگ اسپنر نے کہا کہ انگلستان کا موسم بلے بازی کے لیے بہت خطرناک ہو سکتا ہے اور پچیں بھی مشکل ہو سکتی ہیں اس لیے ہو سکتا ہے کہ ٹاپ آرڈر کو سخت مشکلات کا سامنا ہو۔

Facebook Comments