اولمپکس 2024ء میں کرکٹ کی شمولیت یقینی

جب جدید اولمپکس اپنے ابتدائی زمانے میں تھے تو 1900ء میں پیرس میں ہونے والے کھیلوں میں پہلی، اور آخری، بار کرکٹ کو شامل کیا گیا۔ وہ دن اور آج کا دن کرکٹ کبھی "دنیا کے سب سے بڑے کھیل" کا حصہ نہیں بن سکا۔ لیکن 2024ء کے اولمپکس کے لیے امید کی ایک کرن سامنے آئی ہے۔ اطالوی کرکٹ فیڈریشن نے کہا ہے کہ اگر ان کھیلوں کی میزبانی روم کو ملی تو اس میں کرکٹ بھی کھیلا جائے گا۔

روم 2024ء کے اولمپکس کی میزبانی کے لیے امیدوار شہروں میں سے ایک ہے، جس میں اس کا مقابلہ پیرس، لاس اینجلس اور بڈاپسٹ سے ہے۔ اولمپک قواعد کے مطابق میزبان شہر اپنی مرضی کے پانچ کھیل بھی شامل کر سکتا ہے اور اطالوی کرکٹ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ اس نے اولمپکس کی انتظامی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات مکمل کرلیے ہیں اور اگر میزبانی روم کو ملی تو کرکٹ یقینی طور پر کھیلوں میں شامل ہوگا۔ دوسری جانب فرانس کرکٹ بھی پیرس اولمپکس انتظامی کمیٹی سے مذاکرات کر رہا ہے اس لیے قوی امکانات ہیں کہ اگلی دہائی میں کرکٹ اولمپکس کا حصہ بن جائے گی۔

اگر ایسا ہوگیا تو یہ طے کیا جائے گا کہ کتنے ممالک کھیلیں گے۔ زیادہ سے زیادہ 16 اور ممکنہ طور پر 12 بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن انتخاب اولمپکس قاعدے کے مطابق مختلف براعظموں سے ہوگا۔ یورپ، ایشیا اور امریکین و کیربیئن سے تین، تین، جنوبی بحر الکاہل کے سے دو یا تین جبکہ افریقہ سے دو ٹیموں کا انتخاب ہو سکتا ہے۔ چند اہم کرکٹ ممالک ہو سکتا ہے کہ نہ کھیل پائیں جیسا کہ انگلستان جو اولمپک کے معاہدے کے تحت برطانیہ کی حیثیت سے کھیلتا ہے۔

روم اولمپکس میں کرکٹ کے ممکنہ مقابلے بلونا میں ہوں گے جہاں جہاں 2010ء میں ورلڈ کرکٹ لیگ ڈویژن فور کے چار مقابلے ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ یہ خبر ایک ایسے موقع پر آئی ہے جب آئی سی سی کا سالانہ اجلاس جاری ہے۔ ویسے آئی سی سی کو کبھی اولمپکس میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔

جب 2012ء میں لندن میں اولمپکس ہوئے تب لارڈز کا میدان تیر اندازی کے مقابلوں کی میزبانی کرتا رہا

جب 2012ء میں لندن میں اولمپکس ہوئے تب لارڈز کا میدان تیر اندازی کے مقابلوں کی میزبانی کرتا رہا

Facebook Comments