پاکستان نے لارڈز میں میدان مار لیا

جس پاکستانی کرکٹ پرستار نے بھی چھ سال قبل لارڈز کا "وہ" ٹیسٹ دیکھا تھا، اس کے دل سے دعا نکلتی ہوگی کہ پاکستان کو اسی میدان پر اسپاٹ فکسنگ کا داغ دھونے کا موقع ملے۔ وہ سر جو اگست 2010ء کی اس "منحوس" شام شرم سے جھکے ہوئے تھے، وہ دوبارہ "کرکٹ کے گھر" لارڈز میں کارکردگی کے ذریعے اٹھے ہوئے نظر آئیں اور مصباح الحق اور ان کے "جوانوں" نے ایسا کر دکھایا۔ پاک-انگلینڈ سیریز کا پہلا ٹیسٹ 75 رنز سے جیت کر پاکستان نے سیریز میں ناقابل یقین طور پر ایک-صفر کی برتری حاصل کرلی ہے۔ آپ کے خیال میں اس ٹیسٹ کا "منطقی انجام" کیا ہونا چاہیے تھا؟ یہی نا کہ محمد عامر اپنے گناہوں کو دھوتے ہوئے بہترین کارکردگی دکھائیں؟ میلہ تو خیر مصباح الحق اور یاسر شاہ نے لوٹا لیکن محمد عامر نے آخری وکٹ ضرور حاصل اس جشن کا آغاز ضرور کیا۔ جس کے آخر میں پوری پاکستانی ٹیم نے کپتان مصباح الحق کی پیروی کرتے ہوئے "پش اپس" کیے یعنی ڈنڈ پیلے اور اس تربیتی کیمپ کو یاد کیا جو دورے سے قبل فوجی نگرانی میں ایبٹ آباد میں ہوا تھا۔ مصباح الحق نے اس کامیابی کو عظیم انسان دوست شخصیت عبد الستار ایدھی کے نام کیا جو گزشتہ دنوں پاکستان میں انتقال کرگئے تھے۔

لارڈز میں چوتھے دن کا آغاز پاکستان کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا تھا۔ اس کی آخری دو وکٹیں اسکور میں صرف ایک رن کا اضافہ کر سکیں اور یوں دوسری اننگز 215 رنز پر تمام ہوئی۔ انگلستان کو 283 رنز کا توقعات سے کم، لیکن مشکل، ہدف ملا جس کے تعاقب میں پاکستان نے اسے لمحے بھر سکون نہیں لینے دیا۔

انگلستان پہلی اننگز میں محمد عامر نے گھبرایا ہوا تھا تو وکٹیں یاسر شاہ لے گئے، اس مرتبہ یاسر شاہ کا خوف لیے میدان میں اترا تو راحت علی نے کام دکھا دیا۔ انہوں نے ایلسٹر کک، ایلکس ہیلز اورجو روٹ کی قیمتی وکٹیں ابتدا ہی میں حاصل کرلی۔ کک کک نے وکٹوں کے پیچھے سرفراز احمد کو اور ہیلز نے پہلی سلپ میں محمد حفیظ کو کیچ دیے جبکہ روٹ نے تو حد ہی کردی۔ ایک اٹھتی ہوئی گیند پر انتہائی غیر ذمہ دارانہ پل شاٹ کھیلا اور یاسر شاہ کو کیچ دے کر چلتے بنے۔ "راحت" کے اس سامان کے بعد انگلستان نے دم بھر کو سانس ہی لیا ہوگا، یہی کوئي دس اوورز کہ جس میں جیمز ونس اور گیری بیلنس بڑھتے ہوئے پاکستانی حملوں کو روکتے رہے لیکن وہاب ریاض نے ونس کو سلپ میں یونس خان کے ہاتھوں آؤٹ کرا دیا اور یوں 49 رنز کی شراکت داری کا خاتمہ ہوگیا۔ 42 رنز بنانے والے ونس کی قسمت اچھی ثابت نہیں ہوئی کیونکہ کیچ یونس کے ہاتھ سے نکل گیا تھا لیکن دوسری کوشش میں پکڑ لیا گیا۔

اب گیری بیلنس اور جانی بیئرسٹو نے مجموعے کو 135 رنز تک پہنچایا۔ حالات کچھ سنبھلے ہی تھے کہ یاسر نے ایک اور "بال آف دی سنچری" پھینک دی۔ نومبر 2015ء میں انگلستان ہی کے خلاف سمیت پٹیل کو کلین بولڈ کرکے دنیا کو حیران کرنے والے یاسر نے اس بار بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بیلنس کو نشانہ بنایا۔ وہ آف اسٹمپ سے کہیں باہر پڑنے والے گیند کو 'گلانس' کرنے کے لیے گئے اور دھوکہ کھا گئے۔ گیند ان کو غچہ دیتی ہوئی لیگ اسٹمپ اڑا گئی۔ اس گیند نے شین وارن کے ہاتھوں 2005ء میں اینڈریو اسٹراس کے آؤٹ ہونے کی یادیں تازہ کردیں۔ اب انگلستان کی آدھی ٹیم آؤٹ ہو چکی تھی۔ اگلے ہی اوور میں معین علی کو اپنی "بھیانک" غلطی کی سزا وکٹ کی صورت میں بھگتنا پڑی۔ وہ یہ سمجھے کہ یاسر شاہ کو پچھلے قدموں پر کھیل کر دیگر بلے بازوں نے غلطی کی ہے، اس لیے وہ آگے بڑھے لیکن گیند پھر بھی نکل گئی اور وکٹوں میں جا گھسی۔

یہ بھی پڑھیں:  یہ 'پلے آف' کیا ہے؟

139 رنز پر چھ وکٹیں گرنے کے بعد انگلستان کا کیا امکان باقی رہ گیا تھا؟ پھر بھی جانی بیئرسٹو اور کرس ووکس کی دن کی سب سے بڑی رفاقت نے امید کی معمولی کرن ضرور پیدا کی۔ 195 رنز تک اسکور پہنچا تو پاکستانی کھلاڑیوں کے چہرے بھی سنجیدہ دکھائی دینے لگے جن پر صبح سے مسکراہٹ موجود تھی۔ یہاں یاسر نے ایک مرتبہ پھر اپنا جادو جگایا اور جانی بیئرسٹو کو نصف سنچری تک پہنچنے سے پہلے دبوچ لیا۔

انگلستان کی اننگز اب خاتمے کے قریب تھی جس پر سب کی نظریں تھیں، اس نے ابھی تک کوئی وکٹ نہیں لی تھی یعنی محمد عامر نے۔ صرف تین وکٹیں رہ گئی تھیں، جب عامر آئے اور اسٹورٹ براڈ کی گلیاں اڑا کر رکھ دیں، وہ کرس ووکس کی وکٹ بھی اگلی ہی گیند پر حاصل کر جاتے اگر ریویو سے امپائر کا فیصلہ نہ بدل جاتا۔ بہرحال، ووکس کچھ دیر بعد ہی یاسر شاہ کو وکٹ دے گئے اور یوں ان کے میچ میں 10 شکار مکمل ہوئے لیکن عامر نے جیک بال کو کلین بولڈ کرکے حتمی ضرب ضرور لگائی۔ یوں پاکستان نے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی جو مدتوں یاد رکھی جائے گی۔

یاسر شاہ کو میچ میں دس وکٹیں لینے پر بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔ وہ 42 سال بعد لارڈز میں میچ میں دس وکٹیں لینے والے پہلے اسپن باؤلر بنے۔

پاک-انگلستان دوسرا ٹیسٹ 22 جولائی سے اولڈ ٹریفرڈ، مانچسٹر میں شروع ہوگا۔ حالات ہو سکتا ہے مختلف ہوں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ وہاں پاکستانی تماشائیوں کی بڑی تعداد آئے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مصباح کا انگلستان کے خلاف ناقابل شکست رہنے کا ریکارڈ برقرار رہتا ہے یا ایلسٹر کک اور ان کے ساتھی بھرپور جوابی حملہ کرکے دوسرا معرکہ جیتیں گے۔

pakistan-team

Facebook Comments