مصباح، پاکستان کرکٹ کا "نجات دہندہ"

جب پاکستان کے کپتان مصباح الحق ڈریسنگ روم سے لارڈز کے تاریخی میدان میں داخل ہو رہے تھے تو ان کے سامنے تاریخ کے دو پہلو تھے۔ ایک، وہ کبھی انگلستان سے کوئی ٹیسٹ نہیں ہارے، دوسرا یہ ان کا پہلا دورۂ انگلستان تھا کہ جہاں پاکستان کے جیتنے کے امکانات 30 فیصد بھی نہیں سمجھے جا رہے تھے۔ وجہ صاف ظاہر تھی۔ انگلستان اپنے ہوم گراؤنڈ پر ایک بہترین ٹیم ہے اور اسے شکست دینا بہت مشکل سمجھا ا رہا ہے لیکن مصباح جانتے تھے کہ یہ ناممکن ہرگز نہیں ہے۔

یہی نہیں بلکہ ماضی کے تلخ تجربات نے اس دورے کی اہمیت بھی مزید بڑھا دی ہے کیونکہ یہ 2010ء اسپاٹ فکسنگ معاملے کے بعد پاکستان کا پہلا دورۂ انگلستان ہے۔ اس لیے ماضی کو بھلانے، آگے دیکھنے اور مثبت پہلوؤں پر نظر رکھتے ہوئے بڑھنے کی ضرورت ہے اور مصباح الحق نے اپنی مثال سامنے رکھ کر پوری ٹیم کے حوصلوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔

پاکستان کا یہ 42 سالہ "نوجوان" دنیائے کرکٹ میں ملک کی امیدوں کا واحد مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے پاکستان کرکٹ کو اسپاٹ فکسنگ معاملے کے بعد بدترین گہرائیوں سے اٹھایا اور آج اس مقام تک پہنچایا ہے کہ جس لارڈز کے میدان پر پاکستان کو بدترین ہزیمت اٹھانی پڑی تھی، وہیں پاکستان نے پے در پے فتوحات حاصل کرنے والے انگلستان کو چت کیا ہے۔ دو "لارڈز" کے درمیان پاکستان کو نچلے درجوں سے تیسرے نمبر پر لانے کے لیے مصباح کا کردار نجات دہندہ کا ہے۔

چھ سال میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے لیکن "وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر" وہ حساب ابھی باقی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ دورہ ہرگز آسان نہیں۔ انگلستان کا اسی کے میدانوں پر مقابلہ کرتے ہوئے تو بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے۔ جہاں حالات، وکٹ، موسم، تاریخ سب کچھ انگلستان کے حق میں ہے۔ وہ سری لنکا کے خلاف کامیابی حاصل کرکے حوصلے بھی بلند کر چکا ہے جبکہ پاکستان نے تو آٹھ ماہ سے کوئی ٹیسٹ ہی نہیں کھیلا۔ لیکن مصباح الحق کو بھروسہ ہے اپنے گیندبازوں کی صلاحیت پر، اپنی بلے بازی کی مہارت پر اور یہی وجہ ہے کہ وہ تمام تر تنقید، اور ریٹائرمنٹ کے مطالبات، کے باوجود انگلستان پہنچے اور میزبان کو پہلے معرکے میں تاریخی شکست سے دوچار کیا ہے۔

اس کامیابی کے ساتھ ہی مصباح عمومی احساس کو تو فتح کر ہی چکے ہیں، اب حقائق پر غلبہ پانے کی ضرورت ہے۔ وہی ایک ڈوبتی کشتی کے کپتان بنائے گئے جو اب کنارے آنے لگی ہے۔

چہرے پر داڑھی سجائے مصباح الحق پہلے سے مختلف لگ رہے ہیں اور عام تاثر یہی تھا کہ 42 سال سے زیادہ کی عمر میں وہ پہلے جیسے فٹ نہیں۔ لیکن لارڈز میں پہلی ہی اننگز میں مصباح نے سب کو غلط ثابت کردیا۔ جس طرح تیز گیند بازوں کا سامنا کیا، اسپنرز کو کھل کر شاٹ مارے، نظر جیسی تیز ہے، ضرب جتنی بروقت ہے، وہ سب ظاہر کرتا ہے کہ جو تاثر میڈیا و سوشل میڈیا نے پھیلایا تھا، مصباح اس کو قبر تک پہنچا چکے ہیں۔ لارڈز کے تاریخی میدان پر پہلی بار قدم رکھتے ہی نازک ترین مرحلے پر فاتحانہ سنچری سے انہوں نے ملکی کرکٹ تاریخ پر ایک لازوال نقش چھوڑا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کرکٹ کو نظر انداز کردیا گیا تھا، کوئی پاکستان کا دورہ تک کرنے کو تیار نہیں تھا، فکسنگ تنازعات نے بنیادیں ہلا کر رکھ دی تھیں، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوئی موزوں کوشش نہیں ہو رہی تھی اور نئے کھلاڑیوں کو دنیا بھر میں کرکٹرز کو دستیاب عام فوائد اور سہولیات تک میسر نہیں تھیں۔ اس سنگین صورت حال میں دنیا کی بہترین ٹیموں کو شکست دینا ایک غیر معمولی عمل تھا اور یہ سب مصباح کے غیر متزلزل اعتماد و یقین کی وجہ سے ممکن ہوا کہ پاکستانی ٹیم نے ہر رکاوٹ کو عبور کرنا اور جیتنا سیکھ لیا۔

لارڈز میں یادگار سنچری بنانے کے بعد دس ڈنڈ پیل کر مصباح نے نہ صرف اپنی فٹنس ثابت کی بلکہ بعد میں مقابلہ جیت کر اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے۔ گو کہ ماضی میں وہ آسٹریلیا، انگلستان اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کو شکست دے چکے ہیں لیکن انگلستان کو انگلستان میں ہرانا نہلے پر دہلا ہوگا۔

Misbah-ul-Haq

Facebook Comments