اسلام کے لیے کرکٹ بھی چھوڑ سکتا ہوں، معین علی

انگلستان کے معین محض شکل و صورت سے ہی راسخ العقیدہ مسلمان نہیں لگےت بلکہ عملاً بھی وہ مذہب کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ اس امر کا کھلا اظہار کرتے ہوئے معین نے کہا ہے کہ مذہب سے زیادہ میرے لیے کسی چیز کی اہمیت نہیں اور وہ اسلام کے لیے اپنے کرکٹ کیریئر کو بھی ترک کر سکتے ہیں۔ "اسلام میں خود کو آزاد محسوس کرتا ہوں اور میرا دین ہی مجھے سب سے زیادہ خوشی دیتا ہے۔"

27 ٹیسٹ اور 39 ایک روزہ مقابلے کھیلنے والے معین علی تینوں طرز کی کرکٹ میں انگلستان کی نمائندگی کر چکے ہیں اور اپنی بلے بازی اور گیندبازی دونوں کے جوہر دکھائے ہیں۔ ٹیسٹ میں 68 اور ایک روزہ میں 39 وکٹیں ان کے پاس ہیں۔ کہتے ہیں کہ "میرے ذہن کے کسی نہاں خانے میں یہ تصور موجود ہے کہ اسلام، مسلمانوں اور برطانیہ میں موجود ایشیائی برادری کی نمائندگی کرنا میری ذمہ داری ہے جو مثبت بات ہے اور اس لیے میری ذاتی کارکردگی بہت اہمیت رکھتی ہے۔

معین کا کہنا ہے کہ جب وہ اٹھارہ، انیس سال کے تھے تو تبھی فیصلہ کرلیا تھا کہ کیسی زندگی گزارنی ہے۔ "میرے لیے کرکٹ بہت اہم ہے مگر اسلام سے زیادہ ہرگز نہیں۔؟

معین گزشتہ دو سال سے انگلستان کی کرکٹ ٹیم کا اہم حصہ ہیں اور نہ صرف بلے باز کی حیثیت سے بلکہ آف بریک باؤلنگ کی وہ سے بھی خاصے معروف ہیں۔ پاکستان کے خلاف سیریز میں ان کی کارکردگی میزبان کی کامیابی کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  انگلستان کی نیا ڈوب گئی، سیریز بھارت کے نام

پاکستان کے خلاف لارڈز کے پہلے ٹیسٹ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد اب اگلے مقابلوں میں معین کو خود کو ثابت کرنا ہوگا۔

Moeen-Ali2

Facebook Comments