کک پاکستان کے "فوجی جشن" پر چراغ پا

انگلستان کے کپتان ایلسٹر کک نے کہا ہے کہ لارڈز میں پاکستان کا جشن منانے کا "فوجی انداز" اگلے ٹیسٹ کے لیے ان کے حوصلوں کو بڑھائے گا۔

پہلے ٹیسٹ میں 75 رنز سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد مصباح الحق اور پاکستان تمام کھلاڑیوں نے فوجی انداز سے سلوپ کرتے ہوئے ڈنڈ پیلے اور ان تمام تربیت کاروں کو خراج تحسین پیش کیا، جنہوں نے انگلستان آمد سے قبل فٹنس کیمپ میں قومی کھلاڑیوں کی سخت تربیت کی تھی۔ لیکن شکست سے مایوس ایلسٹر کک کو یہ جشن ہضم نہیں ہو رہا۔ کہتے ہیں کہ "لارڈز میں شکست کبھی اچھی نہیں لگتی اور مخالف ٹیم کو ایسا جشن مناتے دیکھنا بھی کہ گویا سیریز ختم ہو چکی ہے، اس لیے ہم اس حرکت سے تحریک حاصل کریں گے اور سیریز میں بھرپور انداز میں واپس آئیں گے۔ برا مت منائیے گا لیکن شکست کھانے کے فوری بعد جب جذبات بے قابو ہوتے ہیں یہ ہرگز اچھا نظارہ نہیں تھا۔ ان کی مرضی ہے جو چاہے کریں۔"

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب انگلستان نے 2011ء میں 24 سال بعد پہلی بار بیرون ملک ایشیز سیریز جیتی تھی تو ملبورن میں ٹیم نے اجتماعی رقص کیا تھا اور خود ایلسٹر کک بھی اس میں شامل تھے۔ اس وقت آسٹریلیا کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے تو انگلستان کو ذرا "شرم" نہیں آئی، اب پاکستان کا جشن منانا برا لگ رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس کے بعد ہوم گراؤنڈ پر ایک اور ایشیز جیت کر انگلستان کے کھلاڑیوں نے اوول کی پچ پر پیشاب کرکے "جشن" منایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  شکریہ۔۔۔ مصباح!

ایک بہتر ٹیم کے ہاتھوں ناکامی کے باوجود ایلسٹر کک نے ایک لفظ کسی پاکستانی کھلاڑی کی تعریف پر خرچ نہیں کیا بلکہ یہ تک کہا کہ ہم نے چند بہت برے شاٹ کھیلے اور یاسر شاہ کو اس وقت چھ وکٹیں دے دیں جب گیند زیادہ ٹرن نہيں کر رہی تھی۔ یہ سخت مایوس کن تھا۔ لیکن یہ چار ٹیسٹ میچز کی سیریز ہے اور ہمارے پاس واپس آنے کے لیے ابھی تین مقابلے ہیں۔ ہم پہلے بھی شکست کھانے کے بعد مقابلے میں واپس آئے ہیں اور اب بھی آئیں گے۔

Facebook Comments