انگلستان پہلی بار پاکستان پر حاوی

پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد انگلستان کے دستے میں اضطراب واضح طور پر محسوس کیا جا رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دوسرے ٹیسٹ کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے 14 رکنی دستے کا اعلان کیا گیا، جو غیر یقینی کیفیت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی تھا۔ لیکن اولڈ ٹریفرڈ کی بلے بازی کے لیے سازگار وکٹ، ایلسٹر کک کی قائدانہ اننگز، جو روٹ کا توقعات پر پورا اترنا اور پاکستان کے فیلڈرز کی فیاضی نے انگلستان کو پہلے ہی دن بالادست مقام پر پہنچا دیا ہے۔ جمعے کو ایک طرف جہاں اینٹیگا میں بھارت کے ویراٹ کوہلی ویسٹ انڈیز کے گیندبازوں کی تواضع کر رہے تھے، عین اسی وقت انگلستان کے ایلسٹر کک اور جو روٹ پاکستان کے باؤلرز کو اپنی "مہمان نوازی" دکھا رہے تھے۔

پہلے ٹیسٹ میں 10 وکٹیں لے کر پاکستان کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کرنے والے یاسر شاہ اولڈ ٹریفرڈ میں مکمل طور پر بجھے بجھے دکھائی دیے یہاں تک کہ دن کا اختتام بغیر کوئی وکٹ لیے 111 رنز دے کر کیا۔ پورے دن کی دوڑ دھوپ کے بعد پاکستانی گیندباز صرف 4 وکٹیں لے سکے اور اس کا سہرا انگلش بلے بازوں کو نہ دینا زیادتی ہوگی۔ محمد عامر کی ایک شاہکار گیند پر ابتدائی لمحات میں ایلکس ہیلز کی وکٹ گرنے کے بعد ایک تو اپنی خوبصورت بیٹنگ، اور کسی حد تک پاکستان کے فیلڈرز کی مہربانیوں کی بدولت جو روٹ اور ایلسٹر کک نے بڑی شراکت داری جمائی، پورے 185 رنز کی۔ دونوں کھلاڑی کھانے کے وقفے سے پہلے ہی مجموعے کو 95 رنز تک پہنچا چکے تھے اور چائے کے وقفے سے کچھ دیر قبل تک 200 کا ہندسہ عبور ہوچکا تھا۔ ایلسٹر کک کی 29 ویں سنچری پاکستان کو مقابلے کی دوڑ سے باہر کرگئی۔ لیکن یہ سنگ میل عبور کرنے کے کچھ ہی دیر بعد کک کی اننگز 105 رنز پر تمام ہوئی۔ محمد عامر کی ایک خوبصورت گیند نے انہیں کلین بولڈ کردیا۔

اس کے بعد جیمز ونس آئے جنہیں ایک نئی زندگی ملی جب سلپ میں ان کا کیچ چھوڑ دیا گیا لیکن وہ اس کا کچھ خاص فائدہ نہ اٹھا سکے اور راحت علی کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ دے گئے۔ دن کے آخری لمحات میں راحت نے گیری بیلنس کو بھی بولڈ کیا جو کٹ کھیلنے کی کوشش میں گیند کو وکٹوں کی راہ دکھا گئے۔ دن کے اختتام پر انگلستان 4 وکٹوں پر 314 رنز پر موجود تھا۔ جو روٹ 141 رنز کے ساتھ پاکستان کی راہ میں 'دیوار' کی طرح کھڑے ہیں اور کرس ووکس ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

پاکستانی گیندبازوں میں محمد عامر اور راحت علی نے کسی حد تک اچھی کارکردگی دکھائی۔ دونوں نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا لیکن مجموعی طور پر پاکستانی گیندبازی میں وہ دم خم نظر نہیں آیا۔ بہرحال، ابھی پہلا دن ہے۔ کھیل ابھی کافی باقی ہے لیکن انگلستان کا مجموعہ اس کے لیے بہترین بنیاد رکھ چکا ہے۔ اب پاکستان کو کیچ پکڑنے کی صلاحیت بڑھانی ہوگی۔ انگلستان کی صرف ڈھائی اننگز میں پاکستانی فیلڈرز نصف درجن سے زیادہ مواقع ضائع کر چکے ہیں۔

Alastair-Cook

Facebook Comments