پاکستان حال سے بے حال، امیدیں کسی معجزے سے وابستہ

اولڈ ٹریفرڈ میں بارش زدہ تیسرا دن بھی انگلستان کی بالادستی کو روک نہیں سکا ۔ انگلستان نے پہلی اننگز میں 391 رنز کی برتری حاصل کرنے کے بعد بھی حیران کن طور پر پاکستان کو فالو-آن پر مجبور نہیں کیا اور اب دوسری اننگز میں صرف ایک وکٹ پر مزید 98 رنز جوڑ چکا ہے یعنی مجموعی برتری 489 رنز کو چھو رہی ہے۔ پاکستان مکمل طور پر بے دست و پا دکھائی دے رہا تھا جب ایلسٹر کک نے دوبارہ خود بیٹنگ کرکے اسے کچھ دم لینے کا موقع دیا، لیکن یہ بالکل واضح ہے کہ اگر دوسری اننگز میں پاکستان کے بلے بازوں نے کوئی غیر معمولی کارکردگی نہ دکھائی تو لارڈز کی جیت کا نشہ اولڈ ٹریفرڈ میں بدترین شکست سے اترے گا۔

تیسرے دن کھیل کا آغاز مصباح الحق اور شان مسعود سے وابستہ بلند و بالا توقعات کے ساتھ ہوا۔ موسم ابر آلود تھا جس میں بلے بازی کرنا ہرگز آسان نہیں تھا، خاص طور پر جب 57 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ پر سخت دباؤ میں اننگز کی شروعات ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مزاحمت زیادہ دیر تک نہ چل سکی اور گرنے والا پہلا برج شان مسعود کا تھا۔ شان صرف 39 رنز بنانے کے بعد جمی اینڈرسن کی واحد وکٹ بنے۔ اب "بے جا امیدوں" کا مرکز آخری مستند جوڑی تھی یعنی مصباح اور اسد شفیق۔ اور جتنی توقع تھی اسد نے اتنا ہی مایوس کن کھیل پیش کیا، صرف 4 رنز بنانے کے بعد اسٹورٹ براڈ کی گیند پر سلپ میں کیچ دے گئے۔ 76 رنز پر 6 وکٹیں گری ہوئی دیکھ کر سرفراز احمد نے سمجھا کہ تیزی سے رنز بنا کر شاید دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ صرف 18 گیندوں پر 26 رنز بنانے کے بعد ان کا بھی بلاوا آ گیا۔ شاید پاکستان کو اتنی جلد بازی کی ضرورت نہیں تھی۔ پھر یاسر شاہ سلپ میں جو روٹ کا چوتھا شکار بنے یعنی کھانے کے وقفے سے پہلے ہی پاکستان 8 وکٹوں سے محروم ہوگیا، وہ بھی صرف 119 رنز کے ساتھ۔

Misbah-ul-Haq

دوسرے سیشن میں مصباح الحق اور وہاب ریاض نے 60 رنز کی شراکت داری قائم کی جو مصباح الحق کی اننگز کے ساتھ اختتام کو پہنچی۔ مصباح معین علی کی گیند پر سویپ کھیلنے کی کوشش میں ایلسٹر کک کو کیچ دے کر چلتے بنے۔ انہوں نے 114 گیندوں پر 52 رنز بنائے جبکہ وہاب ریاض کچھ ہی دیر بعد معین علی کی گیند پر چھکا لگانے کی کوشش میں دھر لیے گئے۔ انہوں نے 61 گیندیں کھیلیں اور 39 رنز اسکور کیے۔ یوں پاکستان 200 رنز تک بھی نہ پہنچ سکا۔ پوری ٹیم 63.4 اوورز میں 198 رنز پر ڈھیر ہوئی۔ ووکس ایک مرتبہ پھر سب سے نمایاں گیند باز رہے کہ جنہوں نے 67 رنز دے رک 4 وکٹیں لیں۔

اب انگلستان کو پہلی اننگز میں 391 رنز کی پہاڑ جیسی برتری مل چکی تھی، لیکن حیران کن طور پر اس نے پاکستان کو فالو-آن پر مجبور نہیں کیا اور بارش سے آنکھ مچولی کھیلتے کھیلتے دن میں 21 اوورز کھیل گیا۔

کچھ دیر قبل جس وکٹ پر پاکستان کے بلے باز ایسے کھیل رہے تھے، گویا پچ میں بارودی سرنگیں نصب ہیں۔ وہاں انگلستان کے بیٹسمین باآسانی رنز بٹورتے دکھائی دیے۔ وہی ابر آلود موسم، وہی وکٹ اور پاکستان کا کوئی گیندباز ان کے لیے خطرہ بنتا نہیں دکھائی دیا۔ پہلی وکٹ پر 16 ویں اوور میں ہی اوپنرز ایلسٹر کک اور ایلکس ہیلز نے اسکور کو 68 رنز تک پہنچا دیا جہاں محمد عامر نے انہیں وکٹوں کے پیچھے آؤٹ کروایا۔ اس کے بعد تقریباً 5 اوورز کا کھیل ممکن ہو سکا جس میں انگلستان نے اسکور کو 98 رنز تک پہنچایا۔ ایلسٹر کک صرف 53 گیندوں پر 49 رنز کے ساتھ کھیل رہے ہیں، جس میں 6 چوکے بھی شامل ہیں جبکہ پہلی اننگز کے ڈبل سنچورین جو روٹ 19 گیندوں پر 23رنز بنا چکے ہیں۔

489 رنز کی برتری بھی اتنی ہے کہ پاکستان کے لیے کافی ہوگی، اور نہ ہی کوئی ایسا خطرہ دکھائی دے رہا ہے کہ جس میں پاکستان کو بلے بازی کے لیے نہ اتارنا بہتر تھا۔ اس لیے تماشائیوں کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر کک نے دوبارہ خود بلے بازی کا فیصلہ کیوں کیا؟ کیا انگلستان کے گیندباز تھک گئے تھے یا وہ مزید بیٹنگ کرنا چاہ رہے ہیں؟ خیر، جو بھی ہو نتیجہ انگلستان کے حق میں نکلا تو یہ سب باتیں دم توڑ جائیں گی۔ فی الوقت تو ایسا ہی لگتا ہے کہ پاکستان کو کوئی معجزہ ہی اب مقابلے میں شکست سے بچا سکتا ہے اور وہ معجزہ اسی صورت رونما ہوگا کہ یا تو بلے بازی دوسری اننگز میں ڈیڑھ دو دن تک مقابلہ کریں، یا مانچسٹر میں دو دن تک کھل کر بارش ہوتی رہے۔

Facebook Comments