بیٹنگ کوچ پاکستانی بلے بازوں سے سخت ناخوش

انگلستان نے اولڈ ٹریفرڈ میں جاری دوسرے ٹیسٹ کے ذریعے سیریز میں دھماکے دار واپسی کی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ لارڈز کے بعد بدلہ لینے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہے جبکہ پاکستان کے کھلاڑی مانچسٹر میں آغاز ہی سے تھکے ماندے دکھائی دیے جن میں جیت کی امنگ نظر نہیں آ رہی تھی۔ اولڈ ٹریفرڈ کی بلے بازی کے لیے سازگار وکٹ پر انگلستان نے پہلے پاکستانی گیندبازوں کی خوب دھلائی کی اور 600 رنز کے قریب تک پہنچے پھر میزبان باؤلرز پاکستانی بلے بازوں پر اس طرح بجلی بن کر گرے کہ پاکستان میدان میں آنے سے پہلے ہی شکست تسلیم کرتا دکھائی دیا۔

بلے بازوں کی اس ناکامی پر پاکستان کے بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور سخت ناخوش دکھائی دیتے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ چار کھلاڑیوں کے جلدی آؤٹ ہونے سے میچ میں واپس آنا آسان نہیں۔ پہلی اننگز میں بڑا مجموعہ اکٹھا ہو جانے کے بعد کھلاڑی ذہنی طور پر تھکاوٹ کا شکار محسوس ہوئے مگر یہ کوئی بہانہ نہیں ہے کیونکہ ٹیسٹ میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ پہلے دس اوورز میں اوپنرز نے بہترین شاٹس کھیلے لیکن غلط انتخاب کی وجہ سے کرس ووکس اور بین اسٹوکس نے انہیں روند کر رکھ دیا۔ وکٹ کا قصور نہیں ہے، جس میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی بلکہ وہ بلے بازی کے لیے پہلے جیسی ہی سازگار ہے۔

زمبابوے سے تعلق رکھنے والے فلاور نے کہا کہ محمد حفیظ، اظہر علی اور پھر تجربہ کار یونس خان غیر ضروری اور ناقص بلے بازی کرتے ہوئے آؤٹ ہوئے، ان کے سامنے جو روٹ کی طویل بلے بازی مثال ہے کہ کس طرح وکٹ پر کھڑے ہو کر رنز بنائے جا سکتے ہیں۔

گرانٹ فلاور بلے بازوں کی کارکردگی سے مایوس بھی ہیں اور مقابلے میں واپسی کے حوالے سے بھی زیادہ پرامید نہیں۔ کیونکہ اتنے بڑےہدف کا تعاقب کرنا اس خوف کا شکار بلے بازی کے بس کی بات نہیں۔ تین دن کے کھیل کے اختتام پر انگلستان کی مجموعی برتری 489 رنز کو چھو رہی ہے جو پاکستان کو فالو-آن پر مجبور کرنے کے بجائے دوبارہ خود بلے بازی کر رہا ہے اور صرف ایک وکٹ پر 98 رنز بنا چکا ہے۔

Asad-Shafiq-Grant-Flower

Facebook Comments