انگلستان نے اینٹ کا جواب پتھرسے دے دیا

جب لارڈز میں کامیابی کا جشن عظیم منایا جا رہا تھا تو ذہن کے ایک نہاں خانے میں خوف ضرور تھا کہ کہیں اگلے میچ میں وہ نہ ہو جائےجس کی توقع نہیں کی جا رہی، اور واقعی وہی ہوا۔ انگلستان نے "اینٹ کا جواب پتھر" سے دیتے ہوئے دوسرا ٹیسٹ 330 رنز کے بھاری فرق سے جیت لیا ہے اور یوں سیریز ایک-ایک سے برابر کر ڈالی ہے۔ اسے پاکستان کی غیر ضروری خود اعتمادی کہہ لیں یا انگلستان کی ٹاس پر اچھی قسمت اور اس کے بعد جم کر دکھائی گئی کارکردگی، نتیجہ بہرحال ایسا نکلا ہے جس نے بظاہر تو سیریز کو برابری پر لاکھڑا کیا ہے لیکن درحقیقت انگلستان کو وہ نفسیاتی برتری دلا دی ہے، جو وہ پہلے مقابلے میں کھو بیٹھا تھا۔ جہاں بلے باز نہیں چلے تھے، گیندباز بے اثر دکھائی دیے تھے، وہاں پاکستان ایک اننگز میں اچھی بیٹنگ اور اس کے بعد اپنی بہترین گیندبازی کی بدولت تاریخی کامیابی سمیٹنے میں ناکام ہوا لیکن ایسا ہر بار نہیں ہوتا۔ اولڈ ٹریفرڈ نے انگلستان نے ہر اس داغ کو رگڑ رگڑ کر دھویا، جو لارڈز میں اس کے دامن پر لگا تھا۔ شاندار بلے بازی دکھائی، پاکستان کے گیندبازوں کی صلاحیتوں کی قلعی کھول کر رکھ دی، پھر پاکستان کی بیٹنگ لائن کو بری طرح روندا، ایک بھی نہیں دو مرتبہ اورپاکستان کو فالو-آن پر مجبور نہ کرکے دوسری اننگز میں تفریحاً بلے بازی کی اور رنز بنائے نہیں بلکہ لوٹے۔ اس سے زیادہ ذلت آمیز شکست پاکستان کو نہیں ہو سکتی تھی اور درحقیقت 330 رنز کا ہندسہ بھی پاکستان کی کارکردگی کی انتہائی مایوسی کو ظاہر کرنے کے لیے کافی نہیں۔

چوتھے دن کے کھیل کا آغاز انگلستان نے ایک وکٹ پر 98 رنز کے ساتھ کیااور صبح کے سیشن میں 9 اوورز مزید بلے بازی کی لیکن رنز کو 173 تک پہنچا دیا۔ یہ عقدہ چوتھے و آخری دن بھی نہیں کھل سکا کہ آخر کک نے فالو-آن کرنے کے بجائے خود بلے بازی کیوں کی؟ اگر اس کا مقصد پاکستان کے لیے کافی سے زیادہ رنز بنانا تھا تو یہ بات تو تقریباً یقینی تھی کہ پاکستان پہلی اننگز کے خسارے کو بھی پورا نہیں کر سکتا تھا۔ اگر اس فیصلے کا مقصد کسی ذاتی ہدف کی تکمیل تھا تو کک نے نہ خود اسے حاصل کیا اور نہ ہی جو روٹ کو کرنے دیا۔ اننگز اس وقت ڈکلیئر کی گئی جب روٹ صرف 48 گیندوں پر 71 رنز کے ساتھ کھیل رہے تھے جبکہ کک خود 76 رنز پر کھڑے تھے۔ تب دونوں بلے باز جی بھر کر رنز لوٹ رہے تھے۔ صرف 30 اوورز میں مجموعہ 173 کو چھو رہا تھا اور لگ رہا تھا کہ دونوں سنچری کے بعد اننگز کے خاتمے کا اعلان کریں گے لیکن ایسا بھی نہیں ہونے دیا۔ اگر روٹ کے تہرے ہندسے میں پہنچنے کے بعد یہ اعلان کرتے تو انہیں دنیا کے ان 7 مایہ ناز بلے بازوں میں پہنچا دیتے جو ایک ہی مقابلے میں ڈبل سنچری اور سنچری دونوں بنانے کا اعزاز رکھتے ہیں۔

بہرحال، انگلستان نے اننگز کے خاتمے کا اعلان کیا تو ایسا لگتا تھا کہ اس سے زیادہ آسان وکٹ شاید ہی دنیا میں کہیں کھیلنے کو ملے۔ لیکن جیسے ہی پاکستانی بلے باز میدان میں اترے، مقابلے کا نقشہ پھر بدل گیا۔ شان مسعود ایک مرتبہ پھر جمی اینڈرسن کے ہتھے چڑھے، اظہر علی ایک مرتبہ پھر دہرے ہندسے میں بھی نہ پہنچ سکے۔ محمد حفیظ 42 رنز بنا کر پویلین سدھارے تو 102رنز پر یونس خان کی اننگز بدترین شاٹ کے ساتھ اختتام کو پہنچی۔ ابھی پاکستان نے 150 کا ہندسہ بھی عبور نہیں کیا تھا کہ کپتان مصباح الحق ووکس کے ہاتھوں بولڈ ہوگئے۔ اب باقی صرف رسمی کارروائی ہی رہ گئی تھی۔ اسد شفیق نے 39 اور محمد عامر نے 39 رنز کی سعی لاحاصل کی۔ یہاں تک کہ 71 ویں اوور میں عامر کے آؤٹ ہوتے ہی مقابلے کا فیصلہ ہوگیا۔ فیصلہ تو درحقیقت پہلے ہی دن ہوگیا تھا، بس صرف باضابطہ اعلان باقی تھا جو چوتھے دن کے آخری سیشن میں جاکر ہوا۔

پاکستان کے لیے نہ صرف بلے بازی اور فیلڈنگ میں بلکہ باؤلنگ میں بھی یہ مقابلہ بہت مایوس کن رہا۔ فیلڈنگ میں یہاں بھی کئی کیچ چھوڑے گئے، بلے بازی کی ناکامی کے بارے میں کچھ مزید بتانے کی ضرورت نہیں لیکن باؤلنگ میں تو حد ہی ہوگئی۔ گزشتہ مقابلے میں مرد میدان والی کارکردگی دکھانے والےیاسر شاہ، جو اب نمبر ایک ٹیسٹ باؤلر بن گئے ہیں، اولڈ ٹریفرڈ کی دو اننگز میں 266 رنز دے کر صرف ایک وکٹ حاصل کرسکے۔ وہ تو انگلستان نے مہربانی کی کہ دوسری اننگز ڈکلیئر کردی، ورنہ نجانے کون کون سے ریکارڈ ٹوٹتے۔

جو روٹ کو دونوں اننگز میں بہترین بلے بازی دکھانے پر مین آف دی میچ ایوارڈ دیا گیا۔

اس شکست میں پاکستان کے لیے بہت سے سبق ہیں اور انگلستان کے لیے سکون کے بہت سارے سانس۔ اب دیکھتے ہیں 3 اگست سے ایجبسٹن میں کون کیا کارنامے انجام دیتا ہے۔

Chris-Woakes

Facebook Comments