انگلستان دوبارہ ثقلین کی خدمات حاصل کرنے کا خواہاں

لارڈز میں بدترین شکست کے بعد انگلستان کو دوسرے ٹیسٹ میں ثقلین مشتاق کی خدمات حاصل ہوئیں۔ سابق پاکستانی آف اسپنر کے معاملات انگلستان کے ساتھ پہلے سے طے شدہ تھے کہ انہوں نے دوسرے ٹیسٹ سے قبل مانچسٹر پہنچنا ہے اور کمال دیکھیں، ان کے پہنچتے ہی یاسر شاہ کا توڑ معلوم ہوگیا اور شاید انہی کے مشورے کام دکھا گئے کہ پہلے ٹیسٹ کے مرد میدان دوسرے مقابلے میں بے بس دکھائی دیے یہاں تک کہ انگلستان نے 330 رنز کی بڑی کامیابی حاصل کی۔ علاوہ ازیں معین علی کی کارکردگی میں نظر آنے والی اور عادل رشید کی ممکنہ بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے انگلستان ثقلین مشتاق کی خدمات دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انگلستان کے کوچ ٹریور بیلس نے کہا کہ بنگلہ دیش اور بھارت کے آئندہ دوروں کے لیے ثقلین مشتاق بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ معین اور رشید ثقلین کے ساتھ بہت پر اعتماد دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسرے ٹیسٹ میں معین کی پانچ وکٹیں کھلا ثبوت ہیں۔ اس لیے ہم انہیں دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ہیڈ کوچ کا کہنا ہے کہ وہ ٹیم کے لیے کسی تکنیکی کوچ کی زیادہ ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے مگر ثقلین کے گروں نے معین اور رشید میں کافی بہتری پیدا کی ہے جو ان کے کیریئر میں آگے بھی مددگار ہوگی۔ ان دونوں کو دباؤ برداشت کرنا سیکھنا ہوگا کیونکہ موجودہ کرکٹ میں دباؤ کے شکار کھلاڑی کے لیے کارکردگی دکھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ معین وکٹ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بس مستقل مزاجی سے بلے باز کی کمزوری پر حملہ کرتے رہنے کی عادت اپنانا ہوگی۔

انگلستان کے پاس ویسے باؤلنگ کوچ پیٹر سچ موجود ہیں مگر وہ زیادہ تر نیشنل اکیڈمی میں نوجوان کھلاڑیوں کو نکھارنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ بیلس کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک کل وقتی باؤلنگ کوچ کی ضرورت ہے اور ہم بہتر سے بہترین کی تلاش میں ہیں۔ اگر مطلوبہ شخص مل گیا تو امید ہے کہ وہ ثقلین مشتاق کی طرح اپنا علم کھلاڑیوں میں منتقل کرے گا۔ لیکن کیونکہ اس وقت ایسا کوئی شخص دستیاب نہیں اس لیے ہمیں مقابلہ بہ مقابلہ اس کے لیے فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے۔

saqlain-mushtaq-moeen-ali

Facebook Comments