ہیراتھ کی ہیٹ ٹرک، آسٹریلیا گال میں بے حال

ایشیا میں آسٹریلیا غم و الم کی داستان طویل ترین ہوتی جا رہی ہے اور وہ گال میں بے حال نظر آتا ہے۔ پہلے ٹیم 54 رنز دو کھلاڑی آؤٹ سے آگے بڑھتے ہوئے 106 رنز پر ڈھیر ہوئی اور پھر 413 رنز کے ہدف کے تعاقب میں صرف 25 رنز پر تین کھلاڑیوں سے محروم ہوچکی ہے۔ اب تین دن کا کھیل باقی ہے اور آسٹریلیا کو جیتنے کے لیے مزید 388 رنز کی ضرورت ہے جو فی الوقت ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ رنگانا ہیراتھ اور دلرووان پیریرا کی گیندبازی آسٹریلیا کو ہر لمحے مقابلے کی دوڑ سے باہر کر رہی ہے جنہوں نے پہلی اننگز میں مشترکہ طور پر آٹھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جن میں سب سے نمایاں ہیراتھ کی ہیٹ ٹرک تھی۔

38 سالہ رنگانا ہیراتھ سری لنکا کی تاریخ کے محض دوسرے گیندباز بنے کہ جنہوں نے ٹیسٹ میں ہیٹ ٹرک کی ہے۔ اس سے قبل واحد باؤلر نووان زوئیسا تھے کہ جنہوں نے 1999ء میں زمبابوے کے خلاف ہرارے ٹیسٹ میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔

آسٹریلیا کی اننگز کے 25 ویں اوور میں جب اسکور بورڈ 80 رنز چار کھلاڑی آؤٹ دکھا رہا تھا، ہیراتھ نے چوتھی گیند پر ایڈم ووجس کو ایکسٹرا کور پر دیموتھ کرونارتنے کے شاندار کیچ کے ذریعے آؤٹ کروایا۔ اگلی ہی گیند پر وکٹ کیپر پیٹر نیول کی باری تھی کہ جو وکٹوں کے عین سامنے دھر لیے گئے۔ اوور کی آخری گیند مچل اسٹارک کی روانگیکا پروانہ لے کر آئی۔ ایک اور ایل بی ڈبلیو ہوا اور اس کے ساتھ ہی ہیراتھ نے نئی تاریخ رقم کردی۔

یہ بھی پڑھیں:  صلاحیت کی تلاش صرف پی ایس ایل سے کیوں؟

بائيں ہاتھ سے اسپن گیندباز کرنے والوں میں ہیراتھ صرف تیسرے کھلاڑی ہیں کہ جنہوں نے ٹیسٹ میں ہیٹ ٹرک کی۔ اس سے قبل 1892ء میں جونی برگس اور 1958ء میں آسٹریلیا کے لنڈسے کلائن نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

ہیراتھ کی اس ہیٹ ٹرک کی خاص بات یہ ہے کہ اس وقت ہیراتھ کی عمر 38 سال اور 139 دن ہے یعنی وہ ٹیسٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے معمر ترین باؤلر بن گئے ہیں۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ انگلستان کے آف اسپنر ٹام گوڈارڈ کے پاس تھا کہ جنہون نے 1938ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف اس وقت ہیٹ ٹرک کی تھی جب ان کی عمر 38 سال اور 86 دن تھی۔

یوں گال ٹیسٹ کا دوسرا دن بلے بازوں کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوا کہ جس میں 21 وکٹیں گریں۔ 11 آسٹریلیا کی اور 10 سری لنکا کی جو سری لنکا میں ہونے والے کسی بھی مقابلے میں ایک دن مین گرنے والی دوسری سب سے زیادہ وکٹیں ہیں۔ اس سے زیادہ وکٹیں گرنے کا واحد واقعہ 2001ء میں انگلستان-سری لنکا ٹیسٹ میں پیش آیا جب کولمبو میں ایک ہی دن میں 22 وکٹیں گری تھیں۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا ایشیا میں مسلسل 7 ٹیسٹ میچز ہار چکا ہے اور اب آٹھویں شکست کی جانب گامزن ہے۔ یہ شکست آسٹریلیا کو یقینی طور پر درجہ بندی میں عالمی نمبر ایک مقام سے محروم کردے گی۔ سری لنکا کی اس ناقابل یقین کامیابی میں بڑا کردار رنگانا ہیراتھ کا ہے جنہوں نے خود کو ایک مرتبہ پھر ثابت کر دکھایا ہے۔

Facebook Comments