آسٹریلیا کی شکستوں کا سلسلہ دراز تر، سری لنکا سے سیریز بھی ہار گیا

کرکٹ کے ایک معروف تجزیہ کار نے اس وقت جاری تین ٹیسٹ سیریز کے حوالے سے پیشن گوئی کی تھی کہ بھارت کی ویسٹ انڈیز پر چار-صفر سے کامیابی ممکن ہے، پاک-انگلستان سیریز کا ڈرا ہوجانا بھی خلاف قیاس ہے لیکن سری لنکا کا آسٹریلیا سے جیتنا ناممکن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا چار-صفر سے جیتنا اب ناممکن ہے کیونکہ دوسرا ٹیسٹ ڈرا ہوچکا ہے، پاک-انگلستان سیریز کا اونٹ ابھی کسی کروٹ بیٹھنا باقی ہے اور یہ ڈرا ہو بھی سکتی ہے کیونکہ پاکستان ابتدائی دو میں سے ایک ٹیسٹ جیت چکا ہے لیکن جس نے سب کو حیران کردیا ہے وہ یہ کہ سری لنکا نے ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچز جیت کر آسٹریلیا کو سیریز میں سے شکست دے دی ہے۔ وہ بھی اس طرح کہ گال ٹیسٹ میں صرف تین دن میں 229 رنز سے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے اور وارن-مرلی ٹرافی جیت لی ہے۔

یہ 17 سال بعد سری لنکا کی آسٹریلیا کے خلاف پہلی سیریز کامیابی ہے۔ سری لنکا نے پہلی اور آخری بار 1999ء میں آسٹریلیا کو سیریز ہرائی تھی اور تب سے اب تک صرف شکست ہی اس کا مقدر تھی۔ لیکن رنگانا ہیراتھ اور دلرووان پیریرا نے اس کے نصیب کو بدل دیا ہے۔ آسٹریلیا کی ایشیا میں شکستوں کا سلسلہ مزید دراز ہو چکا ہے، یہ مسلسل تیسری سیریز شکست ہے اور ساتھ ہی لگاتار آٹھویں ٹیسٹ ہار بھی۔

آسٹریلیا کے ماتھے پر شکست دو دن ہی میں لکھ دی گئی تھی۔ پہلے روز مچل اسٹارک کی تباہ کن باؤلنگ کے سامنے سری لنکا 281 رنز پر آل آؤٹ ہوا اور دن کے اختتام تک آسٹریلیا دو وکٹوں کے نقصان پر 54 رنز تک پہنچا، تب بھی معاملہ برابری کی بنیاد پر کھڑا تھا۔ سری لنکا کی پہلی اننگز میں کوسال مینڈس کے 86، اینجلو میتھیوز کے 54 اور کوسال پیریرا کے 49 رنز نمایاں تھے جبکہ اسٹارک نے 44 رنز دے کر پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ لیکن جیسے ہی مقابلہ دوسرے دن میں داخل ہوا، یکدم حالات تبدیل ہوگئے۔ رنگانا ہیراتھ اور دلرووان پیریرا کے ہاتھوں آسٹریلیا کی اننگز صرف 106 رنز پر تمام ہوگئی۔ یعنی اس کی آخری 9 وکٹیں صرف 52 رنز کے اضافے پر گریں۔ ہیراتھ نے 35 اور پیریرا نے صرف 29 رنز دے کر چار، چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ دن کی سب سے خاص جھلک رنگانا ہیراتھ کی ہیٹ ٹرک تھی جنہوں نے مسلسل تین گیندوں پر ایڈم ووجس، پیٹر نیول اور مچل اسٹارک کو آؤٹ کیا اور یوں سری لنکا کی طرف سے ہیٹ ٹرک کرنے والے دوسرے گیندباز بنے۔

دوسرے دن کا پورا کھیل باؤلرز کے نام رہا کیونکہ آسٹریلیا کے 106 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد سری لنکا بھی 121 رنز پر چھ وکٹوں سے محروم ہوگیا۔ یہاں پر آخری چار وکٹوں نے کام دکھایا اور مجموعے کو 237 رنز تک پہنچایا۔ پہلی اننگز کی بڑی برتری کی وجہ سے آسٹریلیا کو 413 رنز کا ہدف ملا جس کے تعاقب میں وہ دوسرے دن کے اختتام سے پہلے ہی تین مزید وکٹیں گنوا بیٹھا۔ یعنی کہ صرف دوسرے دن میں 21 وکٹیں گریں۔

صرف 25 رنز تین کھلاڑی آؤٹ کے ساتھ آسٹریلیا نے تیسرے دن کا کھیل شروع کیا تو اس کے پاس کوئی جائے فرار نہیں تھی۔ گویا صرف یہ طے ہونا باقی تھا کہ وہ کتنے رنز سے ہارے گا۔ پہلے ہی سیشن میں 4 مزید وکٹیں گرنے کے بعد کھانے کا وقفہ ہوا اور اس کے بعد پوری ٹیم 183 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔

دلرووان پیریرا نے دوسری اننگز میں چھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور یوں میچ میں 10 وکٹیں حاصل کیں۔ اس کارکردگی پر انہیں میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔ وہ ایک ہی میچ میں 10 وکٹیں حاصل کرنے اور نصف سنچری بنانے کا کارنامہ انجام دینے والے سری لنکا کے پہلے کھلاڑی بھی بنے۔

سیریز کا تیسرا و آخری ٹیسٹ 13 اگست سے کولمبو میں کھیلا جائے گا اورآسٹریلیا کے لیے عزت بچانے کا یہ آخری موقع ہوگا۔

David-Warner

Facebook Comments