خسارے کے بعد شاندار کامیابی، انگلستان کو ناقابل شکست برتری مل گئی

انگلستان نے اولڈ ٹریفرڈ میں سیریز تو برابر کردی لیکن ایجبسٹن میں وہ ابتدا ہی سے پچھلے قدموں پر تھا لیکن پھر جوابی وار کرتے ہوئے مقابلے کو اس مقام تک لے آیا کہ آخری روز پاکستان کو 141 رنز کی بھاری شکست دے دی۔ یوں چار ٹیسٹ میچز کی سیریز میں انگلستان کی برتری دو-ایک کی ہوچکی ہے یعنی اب وہ سیریز ہار نہیں سکتا۔ ساتھ ہی پاکستان کے درجہ بندی میں عالمی نمبر ایک بننے کے امکانات کا بھی تقریباً خاتمہ ہوچکا ہے۔

پہلی اننگز میں 100 رنز سے زیادہ کا خسارہ سہنے کے باوجود انگلستان جس طرح مقابلے میں واپس آیا، اس سے ایلسٹر کک اور ان کے دستے کے مضبوط اعصاب کا اندازہ ہوتا ہے۔ ابتدائی دو ڈھائی دن تک جدوجہد کے بعد اس نے مقابلے پر اپنی گرفت مضبوط کرنا شروع کی یہاں تک کہ پانچ بلے بازوں کی نصف سنچریوں کی مدد سے برتری کو 342 رنز تک پہنچا دیا۔ دھڑکا تو بہرحال تھا، لیکن پاکستان کے بلے بازوں سے اتنی بدترین کارکردگی کی توقع ہرگز نہیں تھی۔ جس پچ پر آخری وکٹ پر سہیل خان اور راحت علی نے نصف سنچری شراکت داری بنا ڈالی ہو، 10 سے زیادہ اوورز تک انگلستان کے بڑھتے قدموں کو روکے رکھا ہو، وہاں پاکستان کے مرکزی بلے باز محمد حفیظ، یونس خان، اسد شفیق اور سرفراز احمد کی اننگز دہرے ہندسے میں بھی داخل نہ ہو سکی جبکہ کپتان مصباح الحق کی صرف 10 رنز بنا سکے۔ ٹاپ آرڈر میں واحد قابل ذکر مزاحمت 20 سالہ سمیع اسلم نے کی کہ جو 70 رنز بنا سکے۔ پاکستان کی قابل رحم بلے بازی کا اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو پہلی اننگز میں 445 رنز بنانےکے باوجود دوسری اننگز میں 151 رنز پر 9 وکٹوں سے محروم ہوچکی تھی۔

ایجبسٹن ٹیسٹ کے آخری دن کا آغاز ہوا تو انگلستان کو جانی بیئرسٹو کی سنچری کا انتظار تھا لیکن وہ گزشتہ دن کے اسکور میں صرف ایک رن کا اضافہ کر سکے اور سہیل خان کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ انگلستان کی کامیابی میں بہت اہم کردار بیئرسٹو کی 127 گیندوں پر 83 رنز کی اننگز اور معین علی کے ساتھ 152 رنز کی شراکت داری کا تھا۔ معین علی 86 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے جب ایلسٹر کک نے 445 رنز پر اننگز ڈکلیئر کرنے کا اعلان کیا۔ پاکستان کو باقی رہ جانے والے 84 اوورز میں 343 رنز کا ہدف ملا۔

اس بڑے، اور کافی حد تک ناقابل عبور، ہدف کی جانب پیش قدمی کا آغاز ہوا تو محمد حفیظ ایک مرتبہ پھر ناکام ہوئے۔ محمد حفیظ 16 گیندوں پر صرف 2 رنز بنانے کے بعد اسٹورٹ براڈ کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ سمیع اسلم اور اظہر علی نے دوسری وکٹ پر 73 رنز جوڑ کو حوصلے کافی حد تک جمع کرلیے لیکن اظہر کی اننگز اتنی پر اعتماد نہیں تھی یہی وجہ ہے کہ بالآخر وہ 38 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ یہیں پر پاکستان کے کھلاڑیوں کے ہاتھ پیر پھول گئے۔

سیریز میں اب تک صرف ناکامی کا منہ دیکھنے والے یونس خان کے لیے یہ بہت بڑا موقع تھا کہ وہ خود کو ثابت کریں لیکن صرف 4 رنز بنانے کے بعد جیمز اینڈرسن کا نشانہ بن گئے۔ مصباح الحق نے سمیع اسلم کے ساتھ مل کر اسکور کو 124 رنز تک پہنچا جب اسٹیون فن نے پہلی اور فیصلہ کن ضرب لگائی۔ ان کی ایک خوبصورت گیند مصباح کے بلّے کا کنارہ لیتے ہوئے وکٹ کیپر کے دستانوں میں چلی گئی۔ کپتان کی وکٹ گرتے دیکھی تو شاید پاکستانی کھلاڑی حوصلہ ہار بیٹھے۔ صرف ایک رنز کے اضافے سے اسد شفیق، سرفراز احمد اور سمیع اسلم تینوں آؤٹ ہوگئے۔ کہاں 124 رنز پر تین کھلاڑی آؤٹ تھے اور 125 رنز پر 7 وکٹوں کا ہندسہ پاکستان کا منہ چڑا رہا تھا۔

اگر پاکستان کا مڈل آرڈر آخری تین بلے بازوں جتنی مزاحمت بھی کرلیتا تو شاید نتیجہ مختلف ہوتا۔ آخری تین وکٹوں پر محمد عامر، سہیل خان اور راحت علی نے 76 رنز کا اضافہ کیا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ لگ بھگ 19 اوورز مزاحمت کی اور کھیل کو آخری گھنٹے تک لے کر گئے۔ سہیل خان 37 گیندوں پر 36 رنز کے ساتھ قابل ذکر رہے جبکہ راحت علی نے بھی 35 گیندوں پر 15 رنز بنائے۔ جب سہیل خان معین علی کی گیند پر انہی کو کیچ دے بیٹھے تو اس وقت پاکستان کو صرف 14 اوورز مزید کھیلنا تھے اور مقابلہ ڈرا ہوجاتا۔

انگلستان کے تمام ہی گیندبازوں نے شاندار باؤلنگ کی۔ اینڈرسن، براڈ، ووکس، فن اور معین سب نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں لیکن سب سے نمایاں گیندبازی فن اور معین کی تھی۔ فن نے مصباح اور سمیع کی قیمتی وکٹیں حاصل کیں جبکہ معین نے اظہر علی اور آخر میں سہیل خان کو آؤٹ کیا۔

معین علی کو، جن کے بارے میں سب سے زیادہ کہا جارہا تھا کہ انہیں ناقص کارکردگی پر باہر کردینا چاہیے، دونوں اننگز میں شاندار نصف سنچریوں اور آخری دن قیمتی وکٹیں حاصل کرنے پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا۔

لارڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں تاریخی کامیابی کے بعد اولڈ ٹریفرڈ اور ایجبسٹن کی ان بدترین شکستوں نے پاکستان کے عالمی نمبر ایک بننے کے امکانات کا تقریباً خاتمہ کردیا ہے۔ پاکستان کے لیے انگلستان کے خلاف سیریز جیتنا ضروری تھا جو اب ممکن نہیں ہے کیونکہ چار مقابلوں کی سیریز میں انگلستان کو دو-ایک کی برتری حاصل ہے اور اوول میں ہونے والے آخری ٹیسٹ میں پاکستان کی کامیابی بھی اسے سیریز نہیں ہرا سکتی۔

Steven-Finn

Facebook Comments