اوول میں 'ری پلے'

ایجبسٹن میں پہلے روز پاکستان 158 رنز پر پانچ حریف بلے بازوں کو ٹھکانے لگانے کے باوجود انگلستان کو 297 رنز بنانے کا موقع دیتا ہے اور یہیں سے مقابلے کا پانسہ پلٹ جاتا ہے۔ لگ بھگ اسی صورت حال کا سامنا اوول میں جاری آخری ٹیسٹ کے پہلے دن بھی رہا جہاں فیلڈرز کی نااہلی کی وجہ سے پاکستان 110 رنز پر انگلستان کی آدھی ٹیم کو آؤٹ کرنے کے باوجود اسے 328 رنز بنانے سے نہ روک سکا۔

معین علی نے 108 اور جانی بیئرسٹو نے 55 رنز کی شاندار اننگز کھیلیں اور 93 رنز کی شراکت داری کے ذریعے انگلستان کو برے حال سے بچایا۔ لیکن اس میں پاکستانی کی بدترین کارکردگی کا عمل دخل رہا۔ بیئرسٹو 11 رنز پر کیچ دے گئے تھے لیکن وہاب ریاض کی وہ گیند نو-بال کہلائی۔ وہاب کی غلطی دیکھیں کہ وہ پچھلی گیند کو بھی نو-بال پھینک چکے تھے لیکن اس کے باوجود اپنی غلطی درست نہیں کی جس کا نقصان اٹھانا پڑا۔ پھر معین علی کا کیچ اس وقت چھوڑا گیا، جب وہ صرف 9 رنز پر کھیل رہے تھے۔ تیسری سلپ میں کھڑے اظہر علی نے محمد عامر کی گیند پر ایک انتہائی آسان کیچ ضائع کیا، اور شاید میچ بھی۔ کیونکہ صرف ان دونوں نے ہی نے 145 مزید رنز بنائے اور انگلستان کو کہیں مضبوط مقام پر پہنچا دیا۔

پاکستان کے فیلڈرز کا مواقع ضائع کرنے کا سلسلہ تمام دن جاری رہا۔ انگلستان نے ٹاس جیتنے کے بعد تیز رفتاری سے اننگز کا آغاز کیا۔ 16 ویں اوور میں پاکستنا کو پہلا موقع ملا جب گیند 34 رنز پر کھیلنے والے ایلسٹر کک کے بلے کا کنارہ لیتی ہوئی پہلی سلپ میں گئی۔ یہاں پر محمد حفیظ کی جگہ کھلائے گئے افتخار احمد کھڑے تھے اور انہوں نے وہی کیا، جو حفیظ کرتے آ رہے تھے۔ کیچ چھوڑ دیا اور یوں پاکستان کے اعتماد کو پہلا نقصان پہنچایا۔ پھر بھی خوش قسمتی یہ رہی کہ کک اسکور میں صرف ایک مزید رن کا اضافہ کر سکے اور سہیل خان کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔

جب انگلستان کا مجموعہ صرف 130 رنز پر تھا، اور اس کے پانچ کھلاڑی آؤٹ تھے تو محمد عامر کی گیند پر اظہر علی نے ایک آسان کیچ چھوڑا۔ وہ تو گیری بیلنس کا پکڑا گیا کیچ بھی تقریباً اسی طرح چھوڑ چکے تھے بس کسی نہ کسی طرح اسے گرنے سے بچا لیا۔ جب معین 15 رنز پر پہنچے تو ایک مرتبہ پھر اظہر علی شارٹ لیگ پر ایک کیچ پکڑنے میں ناکام رہے۔

اتنے زیادہ مواقع ملنے کے بعد انگلستان کا 328 رنز بنانا تو بنتا ہے۔ معین علی اور جانی بیئرسٹو نے گزشتہ مقابلے کی طرح مواقع کا پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ بیئرسٹو بالآخر محمد عامر کے ہاتھوں منطقی انجام کو پہنچے لیکن معین کا سفر جاری رہا۔ انہوں نے ایک شاندار چھکے کے ساتھ اپنی سنچری مکمل کی اور 152 گیندوں پر 108 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی بنے۔ یہ ان کی تیسری ٹیسٹ سنچری تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  پشاور زلمی فائنل میں، کراچی کا سفر تمام

معین علی کو پہلے ٹیسٹ کی کارکردگی کے بعد باہر کرنے کی باتیں کی جا رہی تھیں، لیکن انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ایسی باتیں کرنے والے غلط کہہ رہے تھے۔ وہ سیریز میں 71 کے اوسط کے ساتھ بیٹنگ کر رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر بات یہ کہ بحرانی صورت حال میں اہم اننگز کھیلی ہیں۔

پاکستان کی فیلڈنگ نے سہیل خان کی پانچ وکٹوں کی کارکردگی کوگہنا دیا۔ گزشتہ مقابلے کی پہلی اننگز میں بھی پانچ وکٹیں لینے والے سہیل نے اس مرتبہ 68رنز دے کر انگلستان کی آدھی اننگز کا خاتمہ کیا۔ تین وکٹیں وہاب ریاض اور دو محمد عامر کو ملیں۔ درحقیقت پانچ وکٹیں وہاب ریاض کو ملتیں لیکن ان کی گیند پر ایک کیچ چھوڑا گیا جبکہ ایک گیند نو-بال قرار دی گئی۔ یہ وہاب کا اسپیل ہی تھا جس کی وجہ سے پاکستان مقابلے پر چھا گیا تھا لیکن پھر "چراغوں میں روشنی نہ رہی۔"

انگلستان کی ابتدائی پانچ وکٹیں تو صرف 110 رنز بنا کر دے سکیں، لیکن اس کے بعد آخری پانچ وکٹوں نے 218 رنز کا اضافہ کیا جو میچ کے ساتھ ساتھ سیریز میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

پاکستان کو آخر میں صرف تین اوورز کھیلنے کو ملے اور اس میں بھی اسے ایک وکٹ گنوانی پڑی۔ اس سے زیادہ حوصلہ شکن دن کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ تیسرے ٹیسٹ میں نوجوان سمیع اسلم نے دونوں اننگز میں ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن اوول میں وہ صرف 9 گیندوں کے محتاج ثابت ہوئے۔ اسٹورٹ براڈ نے انہیں ایل بی ڈبلیو کرکے انگلستان کے ٹیسٹ پر مکمل غلبہ عطا کردیا۔ دن کے اختتام پر پاکستان ایک وکٹ کے نقصان پر تین رنز بنا چکا ہے اور اظہر علی کا ساتھ دینے کے لیے 'نائٹ واچ مین' یاسر شاہ میدان میں موجود ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے پاس عالمی نمبر ایک بننے کا یہ آخری موقع ہے، اسے اوول ٹیسٹ جیت کر سیریز لازمی برابر کرنی ہے اسی صورت میں دیگر مقابلوں کے نتائج کی بنیاد پر اس کی درجہ بندی کا فیصلہ ہوگا جو نمبر ایک پوزیشن بھی ہو سکتی ہے۔ ویسے انگلستان کے پاس بھی یہ ٹیسٹ جیت کر ایک مرتبہ پھر نمبر ایک بننے کا موقع ہوگا۔

Moeen-Ali

Facebook Comments