یونس خان اور سب سے زیادہ سنچریاں

طویل دورانیے کی کرکٹ میں تین ہندسوں تک پہنچنا ہمیشہ ایک خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ چارلس بینرمین نے 139 سال پہلے ٹیسٹ کی پہلی سنچری بنا کر جس روایت کا آغاز کیا تھا وہ یونس خان کی اوول کے میدان پر اپنی 32 ویں سنچری بنانے تک جاری و ساری ہے۔ لیکن یونس کی اس اننگز کا کمال یہ ہے کہ اس کے ساتھ وہ سب سے زیادہ سینکڑے بنانے والے دس بلے بازوں میں شامل ہوگئے ہیں۔

اب اگر یونس خان مزید تین سنچریاں بنانے میں کامیاب ہوگئے تو وہ برائن لارا، سنیل گاوسکر اور مہیلا جے وردھنے جیسے عظیم بلے بازوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیں گے اور ایک ایسے کلب میں شامل ہو جائیں گے، جو پہلی بار 2005ء میں بنا تھا، یعنی 35 سنچریاں بنانے والے بلے بازوں کا کلب۔ اس میں کون کون شامل ہے؟ آئیے آپ کو دکھاتے ہیں:

Younis-Khan1

سچن تنڈولکر

16 سالہ ڈرپوک نوجوان کے بارے میں کون سوچ سکتا تھا کہ وہ کرکٹ تاریخ کو از سر نو لکھے گا۔ بلے بازی کے کئی ریکارڈ ایسے ہیں جو سچن کے پاس ہیں۔ بے عیب تکنیک اور مہارت نے سچن کو اپنے زمانے کے تمام بلے بازوں سے ہمیشہ ممتاز رکھا۔

تنڈولکر دو عشروں تک کرکٹ کی دنیا پر چھائے رہے اور ایسی کرکٹ کھیلی کہ بین الاقوامی کیریئر میں 100 سنچریوں تک پہنچنے والے پہلے بلے باز بھی بنے۔ یہ ایسا منفرد ریکارڈ ہے جو مستقبل قریب میں کوئی بھی توڑتا نہیں دکھائی دیتا۔ 1990ء میں 17 سال کی عمر میں انگلستان کے خلاف پہلی سنچری بنانے کے بعد اس عظیم بلے باز نے 2013ء تک ٹیسٹ میں مزید 50 سنچریاں بنائیں اور ایسا ریکارڈ قائم کیا جو عرصے تک رہے گا۔

ژاک کیلس

جنوبی افریقہ کے ژاک کیلس کو "دور جدید کا گیری سوبرز" کہتے ہیں۔ اعداد و شمار کے لحاظ سے ان جیسا بہترین آل راؤنڈ کرکٹ تاریخ نے نہیں دیکھا۔ ٹھنڈے مزاج اور مضبوط ارادوں کے کیلس نے 166 ٹیسٹ کھیلے اور اپنے ملک کے لیے سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنائے۔ 2000ء سے 2013ء کے درمیان انہوں نے 45 ٹیسٹ سنچریاں بنائیں اور 224 رنز کی بہترین اننگز بھی تراشی۔ یاد رہے کہ کیلس کو اپنی پہلی سنچری کے لیے دو سال تک انتظار کرنا پڑا تھا لیکن کیریئر کے اختتام پر وہ سچن تنڈولکر کے بعد سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے بلے باز بنے۔

رکی پونٹنگ

آسٹریلیا کے سابق کپتان اور ڈرائیو اور پل کھیلنے والے لاثانی بیٹسمین رکی پونٹنگ 1995ء سے 2012ء تک رہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں 100 ٹیسٹ مقابلے جیتے اور ساتھ ہی اس دوران سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والے بیٹسمین بھی رہے۔

پونٹنگ نے 164 ٹیسٹ میچز میں 51.85 کی شرح سے 13378 رنز بنائے، جن میں 41 شاندار سنچریاں بھی شامل تھیں۔ پونٹنگ کی بدقسمتی کہ ان کے کیریئر کی بہترین اننگز 242 رنز انہیں بھارت کے خلاف کامیابی نہ دلا سکی۔

کمار سنگارگارا

بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے کمار سنگاکارا سری لنکا کی طرف سے ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں طرز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔ علاوہ ازیں سنگا کے پاس کئی ریکارڈ بھی ہیں، جن میں مسلسل چار ایک روزہ سنچریاں بنانا، وہ بھی عالمی کپ میں، سر ڈان بریڈمین کے بعد سب سے زیادہ ڈبل سنچریاں اور مسلسل چار اننگز میں 150 سے زیادہ رنز بنانے کا منفرد ریکارڈ بھی۔ اپنے کیریئر میں 39 سنچریاں بنانے والے سنگا کے پاس سب سے تیزی سے 8 ہزار، 9 ہزار، 11 ہزار اور 12 ہزار رنز مکمل کرنے کے ریکارڈ بھی موجود ہیں۔ سنگاکارا نے گزشتہ سال ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔

راہول ڈریوڈ

اپنے بھرپور دفاعی انداز کی وجہ سے "دیوار" کہلائے جانے والے راہول ڈریوڈ اپنی تکنیک اور مستقل مزاجی کی وجہ سے طویل طرز کی کرکٹ کے بہترین کھلاڑی تھے۔ بدقسمتی سے وہ اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں پانچ رنز کی کمی کی وجہ سے سنچری مکمل نہ کر سکے، جس کے بعد انہیں پہلی سنچری کے لیے نویں میچ تک انتظار کرنا پڑا۔ کیپ ٹاؤن میں جنوبی افریقہ کے خلاف کیریئر کی پہلی سنچری بنانے کے بعد اپنے کیریئر میں ڈریوڈ نے اس تعداد کو 36 تک پہنچایا جو تنڈولکر کے بعد کسی بھی بھارتی بلے باز کی سب سے زیادہ سنچریاں ہیں۔ راہول کی بہترین اننگز 270 رنز ہے۔

سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں بنانے والے 10 بلے باز

بلے باز مقابلے رنز اوسط بہترین اننگز سنچریاں
سچن تنڈولکر 200 15921 53.78 248* 51
ژاک کیلس 166 13289 55.37 224 45
رکی پونٹنگ 168 13378 51.85 257 41
کمار سنگاکارا 134 12400 57.40 319 38
راہول ڈریوڈ 164 13288 52.31 270 36
سنیل گاوسکر 125 10122 51.12 236* 34
برائن لارا 131 11953 52.88 400* 34
مہیلا جے وردھنے 149 11814 49.84 374 34
یونس خان 108 9456 53.72 313 32
اسٹیو واہ 168 10927 51.06 200 32

Facebook Comments