مصباح "جو دلوں کو فتح کرلے، وہی فاتح زمانہ"

تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ یہ کہنا کہ "ہمت ہونی چاہی دی جواں، عمراں وچ کی رکھیا"، مصباح الحق کی درست عکاسی کرتا ہے۔ دور جدید کے معمر ترین کپتان مصباح الحق کو پاکستان کی قیادت اس وقت ملکی جب قومی کرکٹ تاریخ کے بدترین بحران میں پھنسی ہوئی تھی۔ 2010ء کے تباہ کن اور بدنام زمانہ دورۂ انگلستان کے بعد بے حال پاکستان کو مصباح الحق نے سنبھالا اور اپنی کارکردگی کو مثال کے طور پر پیش کرکے پوری ٹیم میں ایک نئی روح پھونکی۔

یہ سب اتنا آسان نہیں تھا، اس دوران مایوس کن شکستیں بھی ہوئیں، "ٹک ٹک" کے طعنے، "بوڑھا" ہونے کے اعتراضات اور "بزدل کپتان" جیسی باتیں بھی سننی پڑیں لیکن مصباح ان سب کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلسل آگے بڑھے چلے گئے۔ آج قیادت سنبھالنے کے چھ سال بعد مصباح الحق کا پاکستان ٹیسٹ کی عالمی درجہ بندی میں نمبر ایک بننے کے قریب ہے۔

موجودہ دورۂ انگلستان میں ٹیسٹ سیریز کا اختتام یادگار ترین لمحات کے ساتھ ہوا، جب پاکستان نے چوتھے ٹیسٹ میں میزبان کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز دو-دو سے برابر کردی۔ یہ پاکستان میں یوم آزادی تھا، جشن تو ملک بھر میں ویسے ہی منایا جا رہا تھا لیکن مصباح الیون سے اس خوشی کو دوگنا کردیا۔ مصباح الحق کی لگن، محنت اور صلاحیت کو انگلش میڈیا نے بھی بھرپور انداز میں سراہا اور جب 'بی بی سی' کے نمائندے نے سوال کیا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں تو مصباح نے ازراہ مذاق کہا کہ میں معمر ترین کرکٹر کا ورلڈ ریکارڈ بنانا چاہتا ہوں، شاید 50 سال کی عمر تک کھیلتا رہوں۔ یہ جواب مصباح کے عزائم کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے، گو کہ یہ بات مذاقاً کہی گئی تھی۔

کرکٹ تاریخ میں سب سے زیادہ عمر میں کوئی ٹیسٹ کھیلنے کا ریکارڈ انگلستان کے ولفریڈ روڈس کے پاس ہے، جنہوں نے اپنے کیریئر کا آخری مقابلہ 52 سال اور 156 دن کی عمر میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا تھا، مگر یہ اس زمانے کی بات ہے جب کرکٹ عمر کی قید سے آزاد ہوتا تھا، یعنی عموماً زیادہ عمر والے ہی کھیلتے تھے۔ یہ اپریل 1930ء میں کنگسٹن، جمیکا میں کھیلا گیا ٹیسٹ تھا۔

ان کے علاوہ برٹ آئرن مونگر، ڈبلیو جی گریس اور جارج گن ایسے ٹیسٹ کرکٹر رہے ہیں، جنہوں نے 50 سال کا سنگ میل عبور کرنے کے بعد بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلی۔ موجودہ کھلاڑیوں میں 42 سالہ مصباح الحق کے بعد یونس خان 38، رنگانا ہیراتھ 38، ذوالفقار بابر 37، عمران طاہر 37 اور ایڈم ووجس 36 سال کے ساتھ طویل العمر کھلاڑی ہیں۔

بہرحال، مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف گزشتہ چھ سالوں میں متحد ہو کر کھیلا ہے بلکہ ماضی کے مقابلے میں کسی بھی تنازع یا اسکینڈل سے بھی دامن بچائے رکھا ہے۔ انگلستان کی ٹیسٹ سیریز کے اختتام پر مصباح الحق نے پرستاروں کے ساتھ حریفوں کو بھی پیغام دیا ہے کہ ان کی نظریں اگلے چھ مہینوں پر مرکوز ہیں۔ اس دوران پاکستان نے ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف اہم سیریز کھیلنی ہیں۔

2009ء میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیلی جا رہی۔ طویل عرصے سے پاکستان کے شائقین اپنے میدانوں پر مقابلے دیکھنے سے محروم ہیں۔ اس مایوس کن صورت حال میں پاکستان کی جیت شائقین کے لیے خوشی و اطمینان کا باعث ہے اور سخت ترین مراحل گزارنے کے بعد اب وہ موقع آ چکا ہے کہ پاکستانی کرکٹ پرستار چاہتے ہیں کہ مصباح جب تک ممکن ہو سکے، پاکستان کے لیے کھیلیں اور اسے یونہی فتوحات کی راہ پر گامزن رکھیں۔

Misbah-ul-Haq

Facebook Comments