ناقابل بھروسہ لیکن نمبر ایک، پاکستان کا اصل امتحان اب ہوگا

پاکستان کے بارے میں یہ تاثر بہت عام ہے، اور کافی حد تک درست بھی ہے، کہ یہ بہت باصلاحیت لیکن ناقابل بھروسہ ٹیم ہے۔ کارکردگی میں تسلسل کی شدید کمی ہے لیکن اس کے باوجود اگر وہ درجہ بندی میں سب سے بلند مقام پر پہنچا ہے تو اس کے پیچھے سخت محنت، ریاضت اور جدوجہد ہوگی، اور ہاں! قسمت بھی۔ ویسٹ انڈیز میں برستے بادلوں سے لے کر سری لنکا میں حیران کن نتائج تک، سب نے مل کر پاکستان کو ٹیسٹ کی عالمی درجہ بندی میں نمبر ایک ٹیم بنایا ہے۔

ایجبسٹن کے تلخ تجربے کے بعد اوول میں تاریخی کامیابی اور انگلستان کے خلاف سیریز دو-دو سے برابر کرنے کے بعد مصباح الیون نے کم از کم یہ تو ثابت کردیا کہ وہ کسی سے کم نہیں ہیں اور چاہے وہ متحدہ عرب امارات کی بے جان وکٹیں ہوں یا انگلستان کے میدان، وہ ہر جگہ اور ہر ٹیم کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن وہیں اس نے خود کو حقیقی عالمی نمبر ایک ثابت بھی کیا۔ گو کہ سیریز کے خاتمے پر پاکستان درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر تھے لیکن سری لنکا میں غیر متوقع نتائج اور پھر بھارت-ویسٹ انڈیز سیریز میں غیر معمولی واقعات نے پاکستان کو نمبر ایک بنا دیا اور اس انگریزی محاورے کو درست ثابت کردیا کہ "قسمت دلیروں کا ساتھ دیتی ہے۔"

اس تاریخی موقع پر کپتان مصباح الحق کہتے ہیں کہ یہ وہ مقام ہے جسے حاصل کرنے کی خواہش ہر کھلاڑی کے دل میں تھی، ہم نے یہاں تک آنے کے لیے ایک منصوبہ تشکیل دیا، پھر حصول کے لیے سخت محنت کی اور اب صلہ مل گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  آسٹریلیا بمقابلہ پاکستان: ٹیسٹ سیریز کے دلچسپ اعداد و شمار

2009ء میں سری لنکا کے کھلاڑیوں پر دہشت گردوں کے حملے، اور اس کے نتیجے میں پاکستان سے بین الاقوامی کرکٹ کے خاتمے اور اگلے ہی سال 2010ء میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سے پاکستان کرکٹ کی چولیں ہل گئیں۔ اہم ترین گیندبازوں اور اوپننگ بلے بازوں پر طویل پابندیوں کے باوجود پاکستان خاک تلے سے ابھرا اور آج ثابت کردیا کہ وہ دنیا میں سب سے بہترین ہے۔

'سدا بہار' مصباح کی قیادت، یونس خان کا تجربہ اور نوجوان کھلاڑیوں کا جوش و جذبہ، ان سب نے مل کر گزشتہ دو سالوں میں تین بڑی ٹیموں کو شکست سے دوچار کیا۔ آسٹریلیا، انگلستان اور اس کے بعد سری لنکا کو سری لنکا میں۔ اب انگلستان کو اس کے ملک میں جاکر سیریز جیتنے سے روکنا ایسا کارنامہ ہے، جس کے بعد پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کی سرداری کا حق رکھتا ہے۔

مصباح الحق کہتے ہیں کہ ہماری طویل مدتی حکمت عملی بڑی ٹیموں سے بہتر مقابلے کی فضا قائم رکھنا ہے۔ ہم نے یہ مقام حاصل کرنے کے لیے بڑا طویل اور مشکل سفر کیا ہے اور اب اصل امتحان ہمارے سامنے ہے، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے دورے، جس کے بعد تعین ہوگا کہ کون کس درجے پر موجود ہے۔

team-pakistan2

Facebook Comments