پاک-انگلستان ایک روزہ سیریز، اظہر علی کی توقعات بلند

دورۂ انگلستان میں ٹیسٹ مرحلے میں تو پاکستان نے بڑا معرکہ سر کرلیا ہے اور عالمی درجہ بندی میں سرفہرست جگہ پائی ہے لیکن اب باری ہے ایک روزہ دستے کی کہ وہ کس طرح پاکستان کو کامیابیوں کی راہ پر ڈالتا ہے۔

آج شام ہونے والے پہلے ایک روزہ سے قبل کپتان اظہر علی تو پرامید ہیں کہ ٹیسٹ کی اچھی کارکردگی اور جذبہ ہمارے لیے ایک روزہ سیریز میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

اظہر علی مصباح الحق کی قیادت میں اس دستے کا حصہ تھے، جس نے اوول میں بہترین کارکردگی پیش کرتے ہوئے انگلستان کے خلاف سیریز دو-دو سے برابر کی تھی اور یوں ٹیسٹ درجہ بندی میں نمبر ایک بننے کی طرف اہم پیش قدمی کی۔

لیکن پاکستان کی ایک روزہ کارکردگی ٹیسٹ کے بالکل برعکس ہے۔ ایک روزہ درجہ بندی میں پاکستان زوال کی انتہا تک پہنچا ہوا ہے اور اب بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز سے پیچھے نویں نمبر پر ہے۔ صرف افغانستان، زمبابوے اور آئرلینڈ ہی پاکستان سے پیچھے ہیں۔ اب پاکستان کے سر پر عالمی کپ 2019ء کی براہ راست کوالیفکیشن سے محرومی کا خطرہ منڈلانا رہا ہے۔ اس مایوس کن حالت کے باوجود اظہر علی کو یقین ہے کہ ٹیم اپنی درجہ بندی میں جلد بہتری لائے گی کیونکہ گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستان نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا ہے اور حالیہ ٹیسٹ کارکردگی کے بعد کھلاڑیوں کے جذبے بلند ہیں۔

مصباح الحق کے بعد ایک روزہ کی قیادت سنبھالنے والے اظہر علی نے کہا کہ پاکستان کا ٹیسٹ نمبر ایک بننے پر بڑے پیمانے پر پذیرائی کی گئی ہے اور یہ ساری قوم کے لیے خوشی و فخر کا لمحہ ہے، لیکن ہماری ایک روزہ ٹیم بہت نیچے ہے جو تکلیف دہ امر ہے۔ اس کے باوجود مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم اس پانچ مقابلوں کی سیریز کو اپنے عروج کی جانب سفر کا موقع سمجھ کر کھیلیں گے اور درجہ بندی میں بہتری لائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  گرین شرٹس کی مثبت اپروچ تاریخ بدل سکتی ہے!

عالمی کپ 2015ء کے پہلے ہی مرحلے سے باہر ہونے کے بعد ایون مورگن کا انگلستان بہت شاندار کھیل پیش پیش کر رہا ہے۔ اس وقت انگلستان ایک روزہ کی بہترین ٹیموں میں سے ایک ہے اور اس کے جرات مندانہ اور جارحانہ کھیل کے شائقین دلدادہ ہیں۔ اظہر علی سمجھتے ہیں کہ پاکستان بھی ایسی ہی جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترے تو حیران کن نتیجے دے سکتا ہے۔ "بالکل ٹیسٹ کی طرح کہ جہاں انگلستان کے مقابلے میں ہمیں کمزور حریف سمجھا جا رہا تھا، کسی کو یقین نہیں تھا کہ پاکستان یہاں ٹیسٹ جیت پائے گا لیکن ہمیں خود پر یقین تھا اور ہم نے ایسا کر دکھایا۔ بالکل ایسے ہی مجھے ایک روزہ ٹیم پر بھی اعتماد ہے۔"

پاکستان نے انگلستان کے خلاف ایک روزہ سیریز سے قبل آئرلینڈ کے خلاف بھی مقابلے کھیلے۔ گو کہ دو میں سے صرف ایک مقابلہ ہی کھیلا جا سکا لیکن وہاں پاکستان نے 255 رنز کی بھاری کامیابی حاصل کی، یعنی آئرلینڈ کو کچل کر رکھ دیا لیکن انگلستان کے مقابلے میں پاکستانی بلے بازوں کو معیاری باؤلنگ کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس بات کا ادراک اظہر علی کو بھی ہے کہ "میزبان کے پاس مارک ووڈ جیسے بہترین باؤلر اور بین اسٹوکس جیسے آل راؤنڈر موجود ہیں، جو میچ جتوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ہم نے سب کو سنجیدہ لیتے ہوئے منصوبہ بندی کی اور پانچ مقابلوں میں میزبان کے لیے بہت سخت حریف ثابت ہوں گے۔"

CRICKET-IRL-PAK-ODI

Facebook Comments