انگلستان کی ٹھوس کارکردگی، پہلا ایک روزہ باآسانی جیت لیا

اننگز سنبھلتے ہی وکٹ گر جانے، چند اہم مواقع ضائع کرنے اور انگلستان کے بلے بازوں کی جاندار کارکردگی پہلے ایک روزہ میں پاکستان کو شکست دے گئی۔ ساؤتھمپٹن میں ہونے والے مقابلے میں پاکستان 261 رنز کا دفاع نہیں کر سکا اور انگلستان نے بارش متاثرہ مقابلہ ڈک ورتھ لوئس طریقے کے مطابق 44 رنز سے جیت لیا۔

پاکستان کے کپتان اظہر علی نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا لیکن ابتدا ہی سے پاکستان کی بیٹنگ پچھلے قدموں پر نظر آئی۔ ابتدائی پانچ اوورز میں ہی اندازہ ہوگیا کہ کوئی بہت بڑا مجموعہ اکٹھا نہیں کیا جا سکے گا۔ شرجیل خان، جنہوں نے چند روز قبل 152 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی تھی، 16 رنز کی باری میں بھی متعدد بار بال بال بچے۔ محمد حفیظ کی ناکامیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا جن کی اننگز 11 سے آگے نہ جا سکی۔ البتہ اظہر علی متعدد مواقع ملنے کی وجہ سے اس ہزیمت سے بچ گئے، جو باقی دونوں ٹاپ آرڈر بلے بازوں کے حصے میں آئی۔ اظہر کو ابتدا ہی میں دو زندگیاں ملیں، جب ایلکس ہیلز اور پھر وکٹ کیپر جوس بٹلر نے ان کے کیچ چھوڑے۔ انہوں نے 82 رنز ضرور بنائے لیکن 110 گیندیں کھیلیں اور آخر میں رنز بنانے کی رفتار تیز کرنے کی کوشش میں آؤٹ ہوگئے۔ اظہر نے اپنی نصف سنچری ہی 84 گیندوں پر مکمل کی جس سے اننگز کی ابتدائی رفتار کو سخت دھچکا پہنچا۔ البتہ جن دو بلے بازوں نے اپنی کارکردگی سے متاثر کیا ان میں سے ایک بابر اعظم تھے اور دوسرے سرفراز احمد۔ بابر نے 42 گیندوں پر 40 رنز کی بہت عمدہ اننگز کھیلی اور اگر وہ امپائر کی بھیانک غلطی کی وجہ سے ایل بی ڈبلیو نہ قرار پاتے تو بلاشبہ کافی آگے جاتے۔ عادل رشید کی گیند ان کے بلے سے لگتی ہوئی پیڈ پر لگی لیکن امپائر نے ایل بی ڈبلیو کی اپیل پر انگلی اٹھا دی۔ اگر شرجیل خان اننگز کا واحد ریویو اپنی وکٹ پر ضائع نہ کر جاتے تو بابر اعظم باآسانی بچ سکتے تھے۔ بہرحال، شعیب ملک، محمد نواز اورعماد وسیم جیسے تین آل راؤنڈرز کی موجودگی کے باوجود پاکستان آخری 15 اوورز میں 90 رنز بھی نہیں اکٹھے کر سکا اور یہیں سے مقابلہ مکمل طور پر انگلستان کے حق میں چلا گیا۔ اس مرحلے پر پاکستان کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آخری 10 اوورز میں صرف چار چوکے لگے اور چھکا تو خیر پوری اننگز میں ایک بھی نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  حفیظ کی 'دو دن کی حکمرانی' ختم، اظہر علی کی واپسی

انگلستان نے ابتدا میں ایلکس ہیلز کی وکٹ ضرور گنوائی جو عمر گل کی گیند پر سلپ میں کھڑے محمد حفیظ کو کیچ دے گئے لیکن اس کے بعد ایک لمحے کے لیے بھی پاکستان مقابلے پر حاوی نہ آ سکا۔ رہی سہی کسر محمد عامر کی گیند پر جیسن روئے کا کیچ چھوڑ کر سرفراز احمد نے پوری کردی۔ وہ اس وقت صرف 24 رنز پر کھیل رہے اور اس موقع کا فائدہ انہوں نے 56 گیندوں پر 65 رنزبنا کر اٹھایا۔ جو روٹ نے 72 گیندوں پر 61 رنز کی اننگز کھیلی۔ دونوں نے دوسری وکٹ پر 89 رنز جوڑے جس کے بعد روئے ایک چھکا لگانے کی کوشش میں بابر اعظم کے عمدہ کیچ کا شکار ہوئے۔ 158 کے مجموعے پر اظہر علی نے جو روٹ کو رن آؤٹ کیا اور یہی وہ آخری وکٹ تھی جو پاکستان کے ہاتھ لگی۔ جب 35 ویں اوور میں بارش کی وجہ سے مقابلہ روکنا پڑا تو انگلستان صرف تین وکٹوں پر 194 رنز تک پہنچ چکا تھا اور یوں انگلستان 44 رنز سے فاتح قرار پایا۔ آخر میں جیسن روئے کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔

ویسے یہ شکست کوئی نئی نہیں۔ پاکستان انگلستان کے خلاف گزشتہ 10 میں سے 9 مقابلے ہار چکا ہے، اور صرف ایک کامیابی حاصل کر پایا ہے۔

بہرحال، پاکستان کے لیے ایک اچھی بات اظہر علی کا فارم میں واپس آنا ہے۔ گو کہ انہیں اننگز کی رفتار مزید بڑھانے اور فیصلہ کن مراحل کو گرفت میں لینے کی ضرورت ہے لیکن پھر بھی 82 رنز کی اننگز حوصلہ افزا تھی۔

پانچ مقابلوں کی سیریز کا دوسرا ایک روزہ 27 اگست کو لارڈز میں کھیلا جائے گا۔ جس کے سے پہلے پاکستان کو اپنی چند کمزوریوں پر اچھی طرح قابو پانا ہوگا، ایک فیلڈنگ، دوسرا آخری اوورز میں جم کر بلے بازی، بصورت دیگر کہانی ہرگز ساؤتھمپٹن سے مختلف نہ ہوگی۔

team-pakistan2

Facebook Comments