اسمتھ "آسٹریلیا کے آفریدی" بن گئے

ویسے تو برصغیر کے میدان آسٹریلیا کے لیے کبھی آسان نہیں رہے، لیکن اس مرتبہ سری لنکا میں 'کینگروز' کے ساتھ جو ہوا ہے وہ شاید ہی اسے کبھی بھلا سکیں۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ لگانے کے لیے اتنا ہی جان لینا کافی ہے کہ آسٹریلیا کے سپہ سالار یعنی کپتان اسٹیون اسمتھ نے دوران "جنگ" ہی میدان سے فرار ہونے میں عافیت سمجھی ہے۔ اسے شکست کا دباؤ کہہ لیں کہ جسے کپتان مستقبل کی اہم سیریز کے لیے آرام قرار دے رہے ہیں۔ وجہ جو بھی ہے یہ حرکت کپتان اسٹیون اسمتھ کے کیریئر پر ایک سیاہ دھبہ ثابت ہوگی۔

ایسا بہت کم دیکھنے یا سننے کو ملتا ہے کہ کسی ٹیم کا کپتان سیریز ادھوری چھوڑکر وطن واپس لوٹ جائے۔ 2010ء میں پاکستان کے شاہد آفریدی انگلستان کے دورے کو ادھورا چھوڑ گئے تھے اور انہیں آج تک غیر ذمہ دار کے طعنے سننے کو ملتے ہیں لیکن یقین نہیں آتا کہ آسٹریلوی کپتان اسمتھ بھی ایسا کر گئے ہیں۔ سری لنکا میں جاری پانچ ایک روزہ مقابلوں کی سیریز کے دوسرے مقابلے میں شکست کے بعد وہ ڈیوڈ وارنر کو کپتانی سونپ کر وطن واپس نکل گئے ہیں جبکہ تین ون ڈے اور دو ٹی ٹوئنٹی مقابلے ابھی باقی ہیں۔

سری لنکا اور آسٹریلیا کے مقابلوں کی اہمیت جاننے کے دونوں ٹیموں کے حالات و کیفیات جاننا ضروری ہیں۔ سری لنکا انگلستان کے ہاتھوں بدترین شکست کے بعد زخم خوردہ وطن واپس پہنچا تھا جبکہ آسٹریلیا ٹیسٹ چیمپئن شپ کا 'گرز' اٹھا عالمی نمبر ایک کی حیثیت سے سری لنکا پہنچا۔ پھر یہ ہوا کہ زخم خوردہ لنکا نے کینگروز کا غرور خاک میں ملا دیا۔ وہ جو سیریز سے پہلے 26 میں سے صرف ایک ٹیسٹ جیت سکا تھا، تینوں ٹیسٹ مقابلے جیت کر کلین سویپ کیا اور پھر پہلے ایک روزہ میں شکست کے بعد بھی واپسی کی اور دوسرے میں آسٹریلیا کو شکست دے کر سیریز کو برابر کیا۔ اس مرحلے پر جب ایک روزہ سیریز دلچسپ مرحلے میں تھی، اسمتھ کا یوں واپس لوٹ جانا آسٹریلیا کے امکانات کے لیے کافی نقصان دہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  اسد شفیق کی سنچری رائیگاں؛ برسبین ٹیسٹ آسٹریلیا کے نام

قومی سلیکٹر روڈ مارش کا کہنا ہے کہ اسمتھ گزشتہ ایک سال سے مسلسل کرکٹ کھیل رہے تھے، انہیں آرام کی سخت ضرورت تھی کیونکہ اگلے مہینے جنوبی افریقہ کے خلاف اہم سیریز کھیلنی ہے اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ باقی ماندہ مقابلوں میں قیادت ڈیوڈ وارنر کریں۔

آسٹریلیا کی تاریخ کے 23 ویں ون ڈے کپتان ڈیوڈ وارنر کے لیے اب یہ بہترین موقع ہے کہ وہ خود کو اسمتھ کا بہترین متبادل ثابت کریں۔

گزشتہ سال عالمی کپ جیتنے والے مائیکل کلارک کی جگہ سنبھالنے والے اسٹیون اسمتھ نے اب تک 24 مقابلوں میں آسٹریلیا کی قیادت کی ہے، جن میں سے 15 میں کامیابی حاصل کی۔ سری لنکا کے خلاف دوسرے ایک روزہ میں شکست ان کی آٹھویں ہار ہے۔

ڈیوڈ وارنر ٹیسٹ اور ایک روزہ دونوں میں اسمتھ کے نائب کے طور پر ذمہ داریاں ادا کرتے رہے ہیں جبکہ وہ انڈین پریمیئر لیگ میں سن رائزرز حیدرآباد کی کپتانی کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔

steven-smith

Facebook Comments