اگلی منزل بنگلہ دیش! انگلستان کو ہری جھنڈی دکھادی گئی

انگلستان کی کرکٹ ٹیم طے شدہ منصوبے کے مطابق بنگلہ دیش کا دورہ کرے گی۔ اس بات کا اعلان انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے ڈائریکٹر اینڈریو اسٹراس نے کیا۔

گزشتہ ماہ (جولائی)، بنگلہ دیش کا دارالحکومت ڈھاکا دہشت گردی کا نشانہ بنا تھا، جس کے نتیجے میں کئی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ انگلش کرکٹ بورڈ کی جانب سے ایک سیکیورٹی ٹیم نے حال ہی میں بھارت اور بنگلہ دیش کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔ وفد کا ماننا ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے جیسی سیکیورٹی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے، وہ قابلِ قبول ہے۔

حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے والے وفد میں بورڈ کے سیکیورٹی مشیر ریگ ڈکیسن، پروفیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ لیدرڈیل اور بورڈ کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز، جان کار شامل تھے۔ بعد ازاں ایک ملاقات میں، انگلستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان ایلسٹر کک، اور ایک روزہ ٹیم کے کپتان ایون مارگن کو ریگ ڈکیسن نے حفاظتی انتظامات اور خطرات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر انگلینڈ کرکٹ کے ڈائریکٹر اینڈریو اسٹراس، اور بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو ٹام ہیریسن بھی موجود تھے۔

ملاقات کے بعد اسٹراس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تمام پہلوؤں پر کھل کر گفتگو کی، کئی سوالات زیر بحث آئے، اور مستقبل میں اٹھنے والے سوالات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہم صورتحال کا مستقل بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے پراعتماد ہیں۔

آپ کو یاد دلاتے چلیں کہ ڈھاکا میں دہشت گردی کی کارروائی کے بعد، آسٹریلیا اس سال کے اختتام پر پہلے ہی نہ صرف دورۂ بنگلہ دیش منسوخ کرچکا ہے، بلکہ رواں سال بنگلہ دیش میں ہونے والے انڈر19 ورلڈکپ میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔ ایسی صورتحال میں اگر انگلستان کی جانب سے مثبت ردعمل نہ ملتا تو بنگلہ دیش کے لیے خاصی مشکلات پیدا ہوسکتی تھیں۔ بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو، نظام الدین چودھری نے جمعہ کی صبح انگلش کرکٹ بورڈ کے اس اعلان پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے لیے یہ نہ صرف اچھی خبر ہے، بلکہ اب اسے یہ امید بھی ہوگی کہ شاید آسٹریلیا بھی اپنا فیصلہ بدل لے۔ واضح رہے کہ وزارتِ خارجہ کی جانب سے پہلی ہی خبردار کیا جاچکا ہے کہ بنگلہ دیش میں دہشت گردی کی مزید کارروائیوں کا خطرہ ہے لہٰذا شہری احتیاط برتیں۔ اسی انتباہ کے پیشِ نظر، خیال کیا جارہا ہے کہ انگلش کھلاڑی اگر اپنی یا اپنے خاندان کی عدم تسلی کے باعث دورۂ بنگلہ دیش میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کریں گے تو ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔

انگلش کرکٹ ٹیم طے شدہ پروگرام کے مطابق 30 ستمبر کو بنگلہ دیش پہنچے گی، جہاں وہ 3 ایک روزہ اور 2 ٹیسٹ مقابلوں میں حصہ لے گی۔ بعد ازاں، 2 نومبر کو بھارت کے لیے روانہ ہوجائے گی جہاں 9 نومبر سے پانچ ٹیسٹ میچز کی سیریز کا آغاز ہوگا۔

Facebook Comments