چھ سال میں بلندیوں کو چھونے کی داستان

ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستانی ٹیم سرِ فہرست آچکی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان اور مایہ ناز بلے باز مصباح الحق نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آسٹریلوی ویب سائٹ cricket.com.au کے لیے ایک مضمون تحریر کیا۔ اردو قارئین کے لیے مضمون کا ترجمہ پیش کیا جارہا ہے:


میں نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے اس سفر کا آغاز خاصے ڈرامائی انداز میں کیا تھا، اور آج ہمارے نمبر ایک بننے کی خبر بھی بہت ڈرامائی محسوس ہوتی ہے۔

خوشی اور اطمینان بھرا یہ احساس ہی ناقابلِ یقین ہے کہ ان چھ سالوں میں ہم عروج پر پہنچ چکے ہیں۔ اس ٹیم میں جدوجہد کرنے کا جوش و ولولہ بے مثال ہے۔

ماضی میں کئی مواقع ایسے آئے جب بھاری فرق سے شکستوں نے ہمیں دباؤ کا شکار کردیا، لیکن ہم نے اب یہ روایت بدل ڈالی ہے۔ انگلستان کے ساتھ حالیہ سیریز اس کی بہترین مثال ہے۔

لارڈز کے میدان میں فتح کے بعد ہمیں اولڈ ٹریفورڈ میں بری شکست ہوئی، لیکن ہم بھرپور طریقے سے واپس آئے اور ایجبسٹن ٹیسٹ کے دوران زیادہ تر ہمارا ہی غلبہ رہا۔ اگرچہ ہم وہ میچ بھی جیت نہیں سکے، لیکن ہم اسے پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھے اور اوول میں فتح حاصل کرکے سیریز دو-دو سے برابر کردی۔

اوول میں ہونے والا میچ ہمارا اصل امتحان تھا۔

ذاتی طور پر میرے لیے اس میچ کی بہت اہمیت تھی کیونکہ انگلستان میں یہ میرا آخری میچ تھا، لہٰذا میں اس میں بہتر کارکردگی کے لیے بے چین تھا۔ ویسے، پانچواں ٹیسٹ میچ اس سیریز کو چار چاند لگاسکتا تھا۔

حتیٰ کہ میں نے مذاق میں ایلسٹر کک کو مشورہ دیا کہ کیوں نہ ہم ایک فیصلہ کن میچ کھیل لیں۔ جواب میں کک نے کہا کہ ’’تم یقیناً یہ میچ لارڈز یا اوول میں کھیلنا چاہو گے؟‘‘، میں نے کہا، ’’ہرگز نہیں! ہم تمھیں اولڈ ٹریفورڈ اور ایجبسٹن میں بھی ہرا سکتے ہیں۔ ‘‘

اوول ٹیسٹ سے پہلے میں نے اپنی ٹیم سے بات کی اور انھیں یاد دلایا کہ 14 اگست کا دن قریب آ رہا ہے، لہٰذا اگر ہم اپنے وطن کے جشنِ آزادی کے موقع پر یہ میچ جیت جاتے ہیں تو پاکستانی عوام کے لیے یہ ایک بڑا تحفہ ہوگا، کیونکہ وہ کرکٹ سے بہت جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ ہم نے اس میچ میں خوب جان لگائی اور اپنے ملک کی عوام کے لیے اسے ایک خاص موقع بنایا۔

پہلی بار نمبر ایک ٹیم بننے کے امکانات نے بھی ہم میں جوش بھر دیا تھا۔

دنیا میں سب سے بلند مقام پر پہنچ جانا بہت بڑی کامیابی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اپنی ٹیم کا ورلڈ کپ جیتنا۔ لہٰذا ٹیم میں ہر ایک اس مقام تک پہنچنا چاہتا تھا، خواہ یہ اعزاز ہمارے پاس ایک دن کے لیے رہتا یا ایک ہفتے یا ایک مہینے کے لیے۔ ہر کھلاڑی کے پیشِ نظر نمبر ایک بننے کا اعزاز تھا اور اس خیال نے ہمیں بہت حوصلہ دیا۔

اب ہمیں اپنی اس رینکنگ کو برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے جس کے لیے ہمیں ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں اچھا کھیلنا ہوگا۔ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کا دورہ خاصا مشکل ہوگا۔

نیوزی لینڈ بہت ہی متوازن اور نکھری ہوئی ٹیم ہے اور انھیں ان ہی کی زمین پر ہرانے کے لیے بہت محنت کرنی پڑے گی۔ یہ بھی سبھی جانتے ہیں کہ مہمان ٹیموں کے لیے آسٹریلیا بے حد مشکل میدان ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ ہمیں نئے چیلنجوں کا سامنا ہوگا۔

انگلستان میں ہمارا مقابلہ سوئنگ اور سیم گیندوں سے تھا جبکہ آسٹریلیا میں ہمیں تیز اور باؤنس گیندوں کا سامنا ہوگا اور ہمارے بیٹسمین یقیناً اچھا اسکور کرسکیں گے کیونکہ وہ اس تیز اور باؤنس گیندوں کے عادی ہیں۔ جس طرح ہم انگلستان میں جیتے ہیں، اسی طرح ہماری ٹیم آسٹریلیا میں بھی فتح یاب ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس سفر کا آغاز کیسے ہوا؟

Misbah-ul-Haq

2010ء میں متحدہ عرب امارات میں جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی سیریز سے ایک ماہ قبل، مجھے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اعجاز بٹ کے سیکریٹری کا فون آیا۔ انھوں نے پیغام دیا کہ چیئرمین صاحب مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔

مجھے حیرت ہوئی چونکہ مجھے پچھلی سیریز سے ڈراپ کردیا گیا تھا، یہاں تک کہ میں ابتدائی 35 کھلاڑیوں کی ٹیم سے بھی باہر تھا۔ لیکن اس فون کے بعد مجھے ایک موقع ملنے کی امید جاگی۔

چیئرمین اس ملاقات کو راز رکھنا چاہتے تھے اور یہ ملاقات ایک کلرک کے کمرے میں ہوئی جہاں مجھے کپتانی کی پیشکش کی گئی۔ میں نے یہ بات راز ہی رکھی، اور حالات کے پیشِ نظر، اپنے گھر والوں تک سے اس بارے میں بات نہیں کی۔

چیئرمین نے مجھے بتایا کہ ان کے پاس زیادہ آپشن نہیں ہیں، اور چونکہ مجھے ’اے‘ ٹیم کی قیادت کا تجربہ ہے، اسی لیے وہ مجھے کپتانی دینے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ انھوں نے اس بارے میں میرے خیالات دریافت کیے اور میں نے انھیں بتایا کہ اگر وہ مجھے اس قابل سمجھتے ہیں تو میں یہ ذمہ داری اداکرنے کی پوری کوشش کروں گا، اور یوں میں نے ٹیم کی قیادت کی پیشکش قبول کرلی۔

ایک ہفتے بعد، جب میں ڈومیسٹک ٹی20 ٹورنامنٹ کے لیے فیصل آباد ٹیم کے کیمپ میں تھا تو یہ خبر آئی کہ مجھے پاکستان کے ایک روزہ اور ٹی20 اسکواڈ کے لیے طلب کرلیا گیا ہے۔ کیمپ میں موجود ہر شخص اس خبر سے حیران ہوگیا۔

اگلے دن جب یہ اعلان ہوا کہ مجھے ٹیسٹ کپتان مقرر کردیا گیا ہے تو ان پر مزید حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ ان دنوں پاکستانی ٹیم خاصی شرمناک کیفیت سے دوچار تھی۔ ٹیم اپنے تین بہترین کھلاڑیوں سے محروم ہوچکی تھی، اس کے پاس کپتان نہیں تھا، ٹیم ملک سے باہر تھی، اور رینکنگ میں چھٹے نمبر پر پہنچ چکی تھی۔ سبھی کچھ بگڑا ہوا تھا۔

میں جانتا تھا کہ ان حالات میں ٹیم چلانا بہت بڑا چیلنج ہوگا لیکن پھر یہ بھی سوچا کہ اگر خدا نے مجھے ٹیم کی قیادت کا موقع دیا ہی ہے تو وہ اس مرحلے میں بھی میری مدد کرے گا۔

ہمارے لیے ہر میچ اور ہر سیریز ہی یادگار ہے۔

اس ٹیم کی سب سے واضح خوبی اس میں جدوجہد کی لگن ہے؛ ہم ایسے حالات میں واپس آئے کہ اگر دوسری ٹیمیں ہوتیں تو اس دباؤ کو برداشت ہی نہیں کرپاتیں۔ نہ صرف ہم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، بلکہ ہر نئی سیریز میں ہم پہلے سے بہتر ہوتے گئے۔

میرے لیے ان چھ سالوں کی سب سے بڑی فتح وہ تھی جب ہم نے 2012ء میں عرب امارات میں انگلستان کو تین-صفر سے شکست دے کر کلین سوئپ کیا تھا۔ اس سیریز کے بڑے چرچے تھے اور انگلستان ان دنوں نمبر ایک ٹیم ہوا کرتا تھا۔ تین-صفر کے ساتھ سیریز میں فتح سے ہمارا اعتماد بڑھ گیا اور ہم میں مزید جوش و ولولہ بھرگیا۔

جب کبھی میں اس جوش و ولولے کی بات کرتا ہوں تو مجھے وہ مواقع یاد آتے ہیں جب ہم نے شکست کے منھ سے فتح چھینی تھی۔ ابوظہبی میں 144 رنز کا دفاع کرتے ہوئے انگلستان کو 72 رنز پر میدان بدر کرنا بہت ہی یادگار تھا۔

شارجہ میں سری لنکا کے خلاف پانچویں دن دو سیشن میں 300 رنز کا تعاقب بھی ایک یادگار میچ تھا اور کس نے سوچا تھا کہ ہم پالے کیلے میں سری لنکا کے خلاف چوتھی اننگز میں 377 رنز کا ہدف جالیں گے؟

اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ جس طرح کھلاڑیوں نے مشکل حالات میں خود کو سنبھالا ہے، وہ لائق تعریف ہے اور فاتحِ عالم ہونے کی نشانی ہے۔

جب ہم انگلستان آئے تھے تو کہا جارہا تھا کہ میزبان ٹیم یہ سیریز تین-صفر یا چار-صفر سے جیت جائے گی، لیکن ہم نے ان سب باتوں کے جواب میں 2-2 سے سیریز جیت کر اپنے آپ کو ثابت کردیا۔

اگلی سیریز میں بھی ہمارا ہدف یہی ہے۔

اب ہم پر نمبر ایک پوزیشن پر برقرار رہنے کی ذمہ داری عائد ہے۔

Facebook Comments