"اب خوش؟" حفیظ زخمی، عرفان طلب

بظاہر بری خبر لیکن پاکستان جیسی "تجزیہ کار" قوم کے لیے باعث اطمینان کہ محمد حفیظ زخمی ہونے کے بعد دورۂ انگلستان سے باہر ہوگئے ہیں۔

محمد حفیظ کے لیے دورۂ انگلستان کسی بھیانک خواب سے کم نہیں تھا۔ تمام تر تجربے اور ماضی میں بہترین بلے بازی کے مظاہروں کے باوجود اس دورے پر محمد حفیظ توقعات پر پورے نہیں اترے۔ تین ٹیسٹ مقابلے کھیلے، چھ اننگز میں صرف 102 رنز بنائے، جس کے بعد پہلے ایک روزہ میں 15 گیندوں پر صرف 11 رنز کے ساتھ ہی ان کا سفر تمام ہوگیا۔ ٹیم انتظامیہ محمد حفیظ کی کارکردگی سے سخت نالاں تھی اور ویسے ہی دوسرے ایک روزہ میں انہيں نہ کھلانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن ساتھ ہی ان کے زخمی ہونے کی خبریں بھی سامنے آئیں اور اب کہا جا رہا ہے کہ وہ پنڈلی میں کھنچاؤ کی وجہ سے دورے کے بقیہ مقابلے نہیں کھیل سکیں گے۔

پاکستان نے محمد حفیظ کے متبادل کے طور پر طویل قامت محمد عرفان کو طلب کرلیا ہے اور سلیکشن کمیٹی سے کے انتخاب کی باقاعدہ منظوری بھی حاصل کرلی گئی ہے۔ محمد عرفان اس وقت قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں اسلام آباد کی جانب سے کھیل رہے ہیں ۔ عمر گل کو دستے میں واپس لا کر محمد عرفان کو نظر انداز کیا گیا تھا کیونکہ گزشتہ ماہ ان کی کارکردگی چیف سلیکٹر انضمام الحق کو متاثر نہیں کر سکی تھی۔ بہرحال، ایک اوپننگ بلے باز کی جگہ تیز باؤلر کو بھیج کر کون سے نتائج حاصل ہوں گے؟ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

پاکستان کی ایک روزہ ٹیم اس وقت تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ انگلستان کے خلاف پانچ ایک روزہ مقابلوں سے امید تھی کہ یہاں اچھا کھیل پیش کرکے عالمی درجہ بندی میں بہتری کا سفر شروع ہو سکے گا۔ پاکستان اس وقت ایک روزہ کی درجہ بندی میں ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش سے بھی پیچھے نویں نمبر پر ہے اور خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ وہ چیمپئنز ٹرافی 2019ء کے لیے براہ راست کوالیفائی نہیں کر سکے گا۔ لارڈز میں دوسرے ایک روزہ میں شکست نے ان مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے اور کرکٹ حلقے ناکامی کی وجہ پہلے بیٹنگ کے فیصلے کو قرار دے رہے ہیں، لیکن کپتان اظہر علی اس فیصلے کا دفاع کر رہے ہیں۔ کپتان کا کہنا ہے کہ شکست کا سبب ابتدا ہی میں تین وکٹیں گر جانا تھا۔ "پہلے دس اوورز قدرے مشکل ضرور تھے لیکن اگر انہیں کنٹرول کرلیا جاتا تو بعد میں پچ کھیلنے کے لیے اتنی مشکل نہیں تھی۔" کپتان نے مزید کہا کہ ابتدائی نقصان کا خمیازہ شکست کی صورت میں ادا کرنا پڑا۔ سرفراز احمد کی شاندار بلے بازی کی بدولت مقابلے کے قابل رنز تو بن گئے تھے لیکن یہ انگلستان کو روکنے کے لیے کافی نہیں تھے۔

اظہر علی نے کہا کہ ایک روزہ طرز میں پاکستان دوسرے ممالک سے بہت پیچھے ہے، لیکن ٹیم میں صلاحیت موجود ہے تبھی ابتدائی نقصان کے باوجود 251 رنز تک پہنچ گئے۔ اگر ٹاپ آرڈر کی مدد حاصل ہو جائے تو آرام سے 300 کا ہندسہ عبور کیا جا سکتا ہے۔

Mohammad-Irfan

Facebook Comments