دلشان نے رازوں سے پردے اٹھانا شروع کردیے

باصلاحیت افراد کی ناقدری اور زندگی کے ہر شعبے میں ان کی ٹانگیں کھینچنے کا چلن تیسری دنیا کا المیہ ہے۔ کرکٹ کا میدان بھی اس سے خالی نہیں ہے۔ چاہے بات پاکستان کی ہو یا سری لنکا کی کہ جس کے اسٹار آل راؤنڈر تلکارتنے دلشان نے بین الاقوامی کرکٹ چھوڑتے ہی کہا ہے کہ 2011ء میں قیادت ملنے کے بعد انہیں دیگر کھلاڑیوں کا ساتھ میسر نہيں آیا، خاص طور پر موجودہ کپتان اینجلو میتھیوز تو گیندبازی سے صاف انکار کر دیتے تھے اور جب وہ قیادت سے دستبردار ہوگئے تو اینجلو نے فوراً گیندبازی دوبارہ شروع کردی۔

آسٹریلیا کے خلاف کیریئر کے آخری ایک روزہ میں شرکت کے بعد دلشان کو گویا زبان مل گئے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے سامنے کھل کر ان اسرار سے پردہ اٹھایا، جو ان کے مختصر قائدانہ عہد میں رونما ہوئے تھے۔ دلشان کا کہنا تھا کہ کپتان بننا میری خواہش نہیں تھی، بلکہ سری لنکا کرکٹ کے چیئرمین نے چھ ماہ تک کپتان بننے کو کہا جب تک کہ موزوں فرد کی تلاش کی جائے۔ بدقسمتی سے اس وقت مرلی دھرن ریٹائر ہوگئے تھے اور نووان کولاسیکرا اور اجنتھا مینڈس زخمی ہونے کی وجہ سے اہم گیندباز ٹیم میں نہیں تھے اور ان کے متبادل بھی میسر نہ تھے۔ "2011ء کے عالمی کپ کے بعد کوئی بھی قیادت کے لیے تیار نہیں تھا۔ کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے جیسے تجربہ کار بھی انکاری تھے کیونکہ اس وقت قیادت کوئی قابل رشک اور آسان کام نہیں تھا۔ پھر انگلستان کے دورے میں میری انگلی پر گیند لگی اور وہ ٹوٹ گئی تو میں نے سینئر کھلاڑیوں پر اصرار کیا کہ وہ قیادت سنبھالیں لیکن سب نے انکار کردیا۔ مجھے دکھ تھا کہ میرے زخمی ہونے کے باوجود کوئی اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لے رہا۔

دلشان نے کہا کہ مجھے دکھ ضرور تھا لیکن میں نے کبھی اسے ملکی خدمات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا اور میرا ریکارڈ آس بات کا گواہ ہے۔ قیادت چھوڑنے کے بعد پہلا مرحلہ آسٹریلیا میں سہ ملکی سیریز تھی جس میں میں نے 51 کے اوسط سے 553 رنز بنائے، جو سب سے زیادہ تھا۔ دورۂ جنوبی افریقہ میں اپنی تمام صلاحیتیں جھونک دیں کیونکہ مجھے پروا نہیں تھی کہ کون کپتان ہے اور نہ ہی اس بات کا دکھ تھا کہ مجھے ہٹایا گیا، کیونکہ میں صرف ملک کے لیے کھیلتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ جو چھ، سات کھلاڑی اس وقت ٹیم کا حصہ ہیں جیت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ان سب کو میں نے ہی موقع فراہم کیا تھا۔ اس وقت مجھ پر سخت تنقید ہوئی تھی کہ نوجوانوں کو ضرورت سے زیادہ شامل کیا جا رہا ہے لیکن اب دنیش چندیمل جیسے نوجوان قوم کا سرمایہ بن گئے ہیں۔

آئندہ چند ماہ میں 40 سال کی عمر کو پہنچنے والے تلکارتنے دلشان نے کہا کہ حقیقت میں وہ مزید دو سال باآسانی کرکٹ ھیل سکتے تھے لیکن اب مستقبل کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگلے عالمی کپ میں کم وقت باقی ہے، اس وقت سینئرز کا بے جا ٹیم سے چپکے رہنا نئے کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ

گزشتہ ایک دہائی میں سری لنکا نے جو بھی کامیابیاں حاصل کیں ان میں مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا کے ساتھ دلشان کا بھی بڑا کردار رہا، لیکن وہ اس مقام کو نہیں پا سکے جس کے وہ حقدا رتھے۔ اس کی وجہ دلشان کا جارحانہ رویہ بھی ہے، جو ان کی قیادت کی قبولیت کی راہ میں رکاوٹ بنا رہا۔

Tillakaratne-Dilshan

Facebook Comments