صرف انضمام کو باؤلنگ کرواتے ہوئے گھبراتا تھا، شعیب اختر کا اعتراف

"راولپنڈی ایکسپریس" شعیب اختر طویل عرصے تک بلے بازوں کے لیے دہشت کی علامت بنے رہے۔ یہاں تک کے بہترین بلے باز سچن تنڈولکر تک دنیا کے اس تیز ترین باؤلر سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ لیکن کیا کوئی ایسا بلے باز بھی تھا کہ جس سے خود شعیب اختر گھبراتے تھے؟

پاکستان کے "سوئنگ سلطان" وسیم اکرم کی میزبانی میں شروع ہونے والے ایک ٹیلی وژن پروگرام میں شعیب اختر نے یہی انکشاف کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ کیریئر میں کئی بڑے بلے بازوں کا سامنا کیا مگر سب سے مشکل بلے باز انضمام الحق تھے۔"انضی کو آؤٹ کرنا نیٹ پریکٹس میں بھی بہت مشکل تھا، اس کے لیے کافی محنت کرنا پڑتی تھی۔"

41 سالہ شعیب اختر نے کہا کہ میں نے اپنی گیندوں پر انضمام سے بہتر کوئی کھلاڑی نہيں دیکھا۔ وہ اپنی ذہانت اور تجربے سے وقت سے بہت پہلے گیند کی سمت بھانپ لیتے تھے، اور قدموں کا تیزي سے اور بہترین استعمال کرکے منہ توڑ جواب دیتے تھے۔

انضمام الحق نے 120 ٹیسٹ مقابلوں میں 49 سے زیادہ کے اوسط سے 8830 رنز بنائے جبکہ 378 ایک روزہ مقابلوں میں 11739 رنز ان کے ریکارڈ پر موجود ہیں۔ یہ دونوں اپنی طرز کی کرکٹ میں عرصے تک پاکستان کے لیے کسی بھی بلے باز کے سب سے زیادہ رنز رہے ہیں۔

انٹرویو کے دوران جب شعیب اختر سے کیریئر کے پسندیدہ ترین لمحات کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ فوراً 1999ء میں ایڈن گارڈنز، کلکتہ پہنچ گئے۔ وہی مقابلہ کہ جس میں شعیب نے مسلسل دو گیندوں پر اپنے زمانے کے دو بہترین بلے بازوں راہول ڈریوڈ اور سچن تنڈولکر کو آؤٹ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  آفریدی کے فیصلے پر سیمی بھی حیران و پریشان

وسیم اکرم اس سوال پر کہ کسی کے ساتھ کشیدگی کی صورت حال تو نہیں رہی تو شعیب نے طنزاً کہا آپ کے ساتھ۔ "بھارت کے خلاف اس یادگار ٹیسٹ میں کھانے کے وقفے کے بعد آپ نے ہی مجھے گیند تھماتے ہوئے کہا تھا کچھ کرکے دکھاؤ۔ اس کے بعد آپ خاموش ہوگئے اور میں نے سوچا، خود سے عزم کیا اور مکمل طاقت سے گیند پھینکی۔ جسے راہول ڈریوڈ نہیں سمجھ سکا اور بولڈ ہوگیا۔ پھر سچن کو میدان میں اترتے دیکھا۔ اس لمحے کو یادگار بنانے کے ارادے کے ساتھ میں گیند کو چمکاتے باؤلنگ کے نشان کی طرف مڑا تو آپ نے زور سے کہا "او شعیب! گیند کو کنٹرول میں رکھ کر ڈالنا، لیگ اسٹمپ سے باہر نہ جائے۔" ادھر میں نے کچھ دیر رک کر دعا کی کہ "اگر یہ وکٹ مل جائے تو میری زندگی کا سب سے بڑا خواب پورا ہو جائے گا۔" میں دوڑتا ہوا پچ کے قریب پہنچا تو مجھے سچن کے بیٹ اور پیڈ کے درمیان واضح فاصلہ نظر آ گیا تھا۔ میں نے آف اسٹمپ پر یارکر پھینکا جو سیدھا ہدف پر گیا اور درمیانی وکٹ اڑ گئی۔ یہ میرے لیے حیران کن لمحہ تھا اور یوں میں نے اپنے خواب کی تعبیر حاصل کرلی۔

shoaib-akhtar-inzamam-ul-haq

Facebook Comments