اسٹین کی تباہ کن باؤلنگ، جنوبی افریقہ سیریز جیت گیا

جوش اور ولولے سے بھرپور یہ ایک مصروف ہفتہ رہا۔ ایک طرف پاکستان اور انگلستان کے مقابلے میں جدوجہد کرتا دکھائی دے رہا ہے، بلکہ سیریز ہی ہار چکا ہے تو دوسری جانب ویسٹ انڈیز اور بھارت کے درمیان امریکا میں سنسنی خیز ٹی ٹوئنٹی بھی ہوئے۔ سری لنکا اور آسٹریلیا کی ایک روزہ سیریز بھی دلچسپ مرحلے میں ہے تو نیوزی لینڈ کا دورۂ جنوبی افریقہ بھی اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے، لیکن جنوبی افریقہ کے ہاتھوں ایک مایوس کن شکست کے ساتھ۔

نیوزی لینڈ کو سنچورین میں ہونے والے دوسرے و آخری ٹیسٹ میں فتح کے لیے 400 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن تجربہ کار ڈیل اسٹین نے کی گیندوں نے اس کے بلے بازوں کو ایسا نچایا کہ ابتدائی چار بلے بازوں نے گویا چھری تلے دم بھی نہ لیا اور چل دیے۔ صرف 7 رنز پر چار وکٹیں اس طرح گری کہ تین بلے بازوں کو کھاتہ کھولنے کا موقع بھی نہ ملا۔ یوں ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں بلیک کیپس صرف 195 رنز پر ہمت ہار گئے اور چوتھے روز ہی مقابلے کا فیصلہ ہوگیا۔

سیریز کے دوسرے ٹیسٹ کا ابتدائی مقابلہ بارش کی نذر ہوا تھا اور سیریز کے نتیجے کا تمام تر انحصار اس دوسرے ٹیسٹ پر تھا۔ نیوزی لینڈ نے ٹاس جیتا اور مقابلے کا آغاز ہی غلط فیصلے سے کیا، جنوبی افریقہ کے بلے باز دے کر۔ اسٹیفن کک اور کوئنٹن ڈی کوک میدان میں اترے اور 133 رنز کا مستحکم آغاز فراہم کیا۔ اس دوران دونوں اوپنر کئی بار آؤٹ ہونے سے بال بال بچے لیکن لگ بھگ تین سال بعد سے جنوبی افریقہ کی پہلی اوپننگ سنچری شراکت داری بنانے میں کامیاب رہے۔ ڈی کوک 82 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ ان کے بعد مجموعی اسکور میں صرف 18 رنز کا اضافہ ہی ہوا تھا کہ اسٹیفن کک کی 56 رنز کی اننگز بھی تمام ہوئی۔ اب ہاشم آملا اور جے پی دومنی نے میدان سنبھالا اور نے مل کر 95 رنز جوڑے۔ 246 رنز کے مجموعی اسکور پر نیوزی لینڈ کو تیسری کامیابی حاصل ہوئی جب ہاشم آملا 58 رنز بناکر نیل ویگنر کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ ہاشم آملا کو نصف سنچری تک پہنچنے میں قسمت کا واضح ساتھ حاصل رہا۔ انہیں بولٹ کی گیند پر تب ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا گیا تھا جب وہ صرف 17 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔ تاہم آملا نے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا اور ڈی آر ایس نے ثابت کیا کہ گیند لیگ اسٹمپ سے باہر جارہی تھی۔ چنانچہ آملا اپنی اننگز کو 58 رنز تک لے جانے میں کامیاب ہوسکے۔ اب کپتان فف دو پلیسی نے ان کی جگہ سنبھالی جو اے بی ڈی ولیئرز کی عدم موجودگی میں یہ فریضہ سر انجام دے رہے تھے۔ مقابلہ واضح طور پر جنوبی افریقہ کے پلڑے میں تھا۔ پھر دوسری طرف سے وکٹیں تو گرتی رہیں لیکن دو پلیسی اپنی جگہ کھڑے رہے۔ دومنی 88 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، تیمبا باووما 36 گیندوں پر صرف 8 رنز بناکر چلتے بنے، ستیان وان زیل نے 35 رنز کی اننگز کھیلی، اور ویرنن فلینڈر 8 اور کاگیسو رباڈا 7 رنز بناسکے۔ جنوبی افریقہ نے آٹھ وکٹوں پر 481 رنز بناکر اپنی اننگز ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ کیا تو دوپلیسی ناقابلِ شکست 112 رنز کے ساتھ میدان میں موجود تھے۔

جواب میں نیوزی لینڈ کا آغاز ہی مایوس کن تھا۔ ابتدائی 10 اوورز میں اس کے تین بلے باز پویلین لوٹ چکے تھے۔ مارٹن گپٹل 8، ٹام لیتھم 4 اور روس ٹیلر صرف ایک رن بناکر آؤٹ ہوئے تھے۔ اس موقع پر کپتان کین ولیم سن اور ہنری نکلس نے حالات سنبھالنے کی کوشش کی اور 60 رنز کی شراکت داری قائم کی، لیکن 88 کے مجموعی اسکور پر نکلس ہمت ہار گئے اور رباڈا کی ایک خوبصورت گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ انہوں نے آخری کوشش کرتے ہوئے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست ضرور کی لیکن اسے تبدیل نہ کروا سکے۔ پھر بلے باز آتے رہے اور جاتے رہے۔ تیسویں اوور میں بی جے واٹلنگ رخصت ہوئے تو نیوزی لینڈ 118 رنز پر اپنے چھ کھلاڑیوں سے ہاتھ دھوچکا تھا۔ اب 150 رنز کا مجموعہ اکٹھا کرنا بھی مشکل نظر آرہا تھا اور ساری امیدیں ولیم سن سے وابستہ تھیں۔ جنوبی افریقہ کو ایک کے بعد ایک کامیابی ملتی گئی، یہاں تک کہ آخری وکٹ خود حریف کپتان کی صورت میں گری جنھوں نے 243 منٹ تک مزاحمت کی اور 133 گیندوں پر 77 رنز بنائے۔ یوں، نیوزی لینڈ کی بیٹنگ لائن نے 59ویں اوور میں 214 رنز بناکر الوداع کہہ دیا۔

صرف تیسرے دن میں 267 رنز کے بوجھ تلے دبے ہوئے نیوزی لینڈ کا اب بچنا مشکل تھا۔ جنوبی افریقہ نے اسے فالو آن پر بھی مجبور نہ کیا اور دوسری اننگز خود کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ اس بار خود جنوبی افریقہ کی بیٹنگ کچھ ایسی بکھری کہ شاید اسے فالو آن لاگو نہ کرنے کے فیصلے پر افسوس ہی ہوا ہو۔ پانچ کھلاڑی دہرے ہندسے میں بھی داخل نہ ہو سکے اور ڈی کوک کی نصف سنچری اور باووما کے 40 رنز ہی قابل ذکر اسکور رہے یہاں تک کہ 132 رنز پر سات کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے بعد اننگز کے خاتمے کا اعلان کردیا۔

حالات بالکل واضح تھے۔ ایک ایسی وکٹ پر کہ جہاں دن میں 13 وکٹیں گرجائیں وہاں 400 رنز بہت بڑا ہدف تھا۔ نیوزی لینڈ کا تو ٹاپ آرڈر ہی اس پہاڑ تلے دب کر مارا گیا۔ صرف 7 رنزپ پر اس کی چار وکٹیں گرانے میں اہم کردار ڈیل اسٹین کا تھا جنہوں نے تین بلے بازوں کو صفر پر آؤٹ کیا۔ نکلس اور واٹلنگ نے عزت بچانے کی کوشش کی اور 68 رنز جوڑے۔ لیکن ایک، ایک کرکے سب نکلس کا ساتھ چھوڑتے گئے یہاں تک کہ وہ خود بھی 76 رنز بنا کر اسٹین کا پانچواں شکار بن گئے۔ پہلی اننگز میں 214 رنز بنانے والا نیوزی لینڈ دوسری میں صرف 195 رنز بنا پایا۔ یوں اس کی دونوں اننگز کا مجموعہ بھی جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز کے اسکور تک نہ پہنچ سکا۔

204 رنز کی اس شاندار کامیابی میں اہم کردار پہلی اننگز میں کپتان دوپلیسی کی ناقابل شکست 112 رنز کی اننگز کا تھا لیکن مرد میدان کا اعزاز ڈی کوک کو ملا، جنہوں نے دونوں اننگز میں نصف سنچریاں بنائیں۔ دو ٹیسٹ مقابلوں کی اس سیریز میں سب سے زیادہ رنز ڈی کوک ہی نے بنائے جبکہ سب سے زیادہ وکٹیں ڈیل اسٹین نے حاصل کی۔

اب جنوبی افریقہ کا اگلا امتحان نومبر میں آسٹریلیا کے دورے کی صورت میں ہوگا جہاں تین ٹیسٹ مقابلے کھیلے جائیں گے جبکہ اسی عرصے میں نیوزی لینڈ پاکستان کے خلاف ہوم سیریز کھیلے گا البتہ اسے پہلے بھارت کا مشکل دورہ کرنا ہے یعنی نیوزی لینڈ کے لیے آزمائش کا وقت ابھی ختم نہیں ہوا۔

Facebook Comments