مبالغہ آرائی کی انتہا، انگلستان کو 'عظیم' آسٹریلیا سے ملا دیا گیا

پاکستان کے خلاف سیریز میں انگلستان کی ریکارڈ توڑ کارکردگی چند حلقوں کے لیے تو متوقع تھی ہی، خاص طور پر ایک روزہ میں پاکستان کی ماضی قریب کی کارکردگی دیکھیں تو یہ کوئی انہونی نہیں۔ لیکن انگلستان کے سابق کھلاڑیوں کو ہمیشہ سے یہ عارضہ لاحق رہا ہے کہ وہ انگلستان کی کامیابی پر تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔ جب 2011ء میں انگلستان ٹیسٹ میں عالمی نمبر ایک بنا تھا، تو این بوتھم نے کہا تھا کہ انگلستان اگلے چار، پانچ سال تک اس مقام پر فائز رہے گا۔ وہ الگ بات کہ وہ ایک سال بھی بمشکل پہلے نمبر پر رہا۔ اب عالمی درجہ بندی میں نویں نمبر پر موجود پاکستان کے خلاف ایک روزہ سیریز جیتنے کے بعد سابق کپتان مائیکل وان کہتے ہیں کہ انگلستان کی حالیہ کارکردگی نے اس آسٹریلیا کی یادیں تازہ کردی ہیں جس نے رواں صدی کے اوائل کے بعد سالوں تک دنیائے کرکٹ پر حکمرانی کی۔

آسٹریلیا نے 1999ء کے بعد دو مزید عالمی کپ اس طرح جیتے کہ دونوں ٹورنامنٹس میں کسی ایک مقابلے میں بھی شکست نہیں کھائی۔ اس کے علاوہ چیمپئنز ٹرافی بھی جیتی اور طویل عرصے تک ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ایک روزہ میں نمبر ون رہا۔ اس لیے صرف ایک، ڈیڑھ سال کی کارکردگی پر انگلستان کا عظیم آسٹریلیا سے تقابل کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ بہرحال، برطانوی روزنامے "ٹیلی گراف" کے لیے لکھی گئی اپنی تحریر میں مائیکل وان کہتے ہیں کہ اس ٹیم کی طاقت اور صلاحیتوں میں بے خوفی کا عنصر شامل ہونا اسے سب سے تباہ کن بناتا ہے، اس میں حریف کو ناکوں چبوانے کی ویسی ہی صلاحیت موجود ہے، جیسی ماضی میں آسٹریلیا میں ہوا کرتی تھی۔ مزید لکھتے ہیں کہ آسٹریلیا ایک روزہ مقابلوں میں ابتدائی 20 اوورز میں ہی حریف کو مقابلے کی دوڑ سے باہر کر دیتا تھا، ویسے ہی جیسے انگلستان نے پاکستان کے ساتھ کیا۔ اس کے بلے بازوں کے پاس اسٹائل ہے، جوش ہے اور وہ بے رحمی سے کھیل کر مخالف گیندبازوں کے حوصلے پست کر سکتے ہیں۔

البتہ سابق کپتان نے یہ ضرور کہا کہ اس نوعیت کی کارکردگی کے بعد بہت بلند توقعات وابستہ کرلی جاتی ہیں، میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ یہ ایک روزہ میں انگلستان کی بہترین ٹیم ہے لیکن انہیں بڑے ٹورنامنٹس اور بڑے مقابلوں کے اہم مراحل پر کامیابیاں حاصل کرکے اپنے مقام کو مستحکم کرنا ہوگا۔

انگلستان عالمی کپ 2015ء میں پہلے ہی مرحلے میں شکست کھا کر باہر ہوا تھا اور اس کے بعد رواں سال ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے فائنل میں جیت کے بہت قریب پہنچ کر ہار گیا۔ وان کا کہنا ہے کہ یہ کھلاڑی ہرگز ایسی ٹیم نہیں بننا چاہیں گے جو فائنل تک پہنچے اور پھر بھی ہار جائے۔ جنوبی افریقہ کئی برسوں تک ایک روزہ کی بہترین ٹیم رہی لیکن وہ کبھی ایک ورلڈ کپ بھی نہ جیت سکی، لہٰذا یہ سب کارکردگی ضائع نہیں ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ایس ایل فائنل اور 'لیجنڈز' کا رویہ

مائیکل وان لکھتے ہیں کہ ایلکس ہیلز بہت دباؤ کا شکار رہے ہیں لیکن بالآخر اپنے ہوم گراؤنڈ کا بھرپور استعمال کیا۔ وہ جانتے تھے کہ ایسی پچ پر کیسے کھیلا جائے۔ میں دباؤ میں اچھی کارکردگی پیش کرنے والوں کی بہت قدر کرتا ہوں۔ کئی ہفتوں تک میدان میں جدوجہد کے بعد انگلستان کے لیے سب سے لمبی اننگز کا ریکارڈ توڑنا ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔

جو روٹ کی تعریف میں بھی وان کافی آگے نکل گئے اور کہا کہ ہو سکتا ہے مجھے جانبدار کہا جائے لیکن میں نے 80ء کی دہائی سے اب تک جو روٹ سے بہتر انگلش بیٹسمین نہیں دیکھا۔

دوسری طرف جوس بلر نے گزشتہ سال دبئی میں 46 گیندوں پر سنچری بنانے کے بعد بہت اعمتدا حاصل کرلیا ہے۔ ٹیسٹ میں اپنی جگہ کھونے کے بعد انہیں اس اننگز سے حوصلہ ملا ہوگا۔ ایون مورگن نے بھی بڑی مہارت سے گیندوں کا سامنا کیا اور امید ہے کہ خراب کارکردگی کے بعد یہ اننگز ان میں نئی روح پھونکے گی۔ انہیں مخالف باؤلرز کے پرخچے اڑاتے دیکھنا انگلستان کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔ "سادہ الفاظ میں یہ انگلستان کی سب سے بہتر ٹیم ہے۔ ایک اعلیٰ پائے کی ٹیم بننے کے لیے جو خوبیاں اور صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں، وہ سب اس میں موجود ہیں۔ بلے بازی میں گہرائی ہے، شاٹ مارنے والوں اور اسٹائلش بلے بازوں کا اچھا امتزاج ہے، نیز لیگ اور آف اسپنر کے ساتھ چھ یا سات باؤلنگ آپشنز بھی موجود ہیں۔انگلستان کے پاس کرس ووکس اور بین اسٹوکس کی شکل میں اعلیٰ معیار کے دو تیز گیند باز ہیں جو باؤلنگ کے تمام گر جانتے ہیں اور فیلڈنگ میں بھی اچھے ہیں۔ صرف ایلکس ہیلز اور عادل رشید ایسے کھلاڑی ہیں جنہیں فیلڈنگ میں، میں دس میں سے آٹھ نمبر نہیں دوں گا۔ انہیں دس میں سے چھ ملیں گے۔ پھر آپ ان کھلاڑیوں کو دیکھیں جو ٹیم میں نہیں ہیں، جیسے کہ سیم بلنگز، بین ڈکٹ، لیام ڈاسن، ڈیوڈ ولی، جونی بیئرسٹو اور جیمز ونس۔ انہیں بھی ٹیم میں شامل کریں تو یہ ہمارے لیے ایک ٹورنامنٹ جیت لائیں گے۔

Michael-Vaughan

Facebook Comments