ایک روزہ کرکٹ کا ارتقا، ’ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے‘

زندگی سے متعلق ڈارون کے نظریۂ ارتقا پر آپ کا نقطۂ نظر خواہ کچھ بھی ہو، لیکن کرکٹ میں جو ارتقائی بلکہ انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں اس سے کوئی اختلاف نہیں کرسکے گا۔ ایک زمانہ تھا جب ٹیسٹ کرکٹ کا غلبہ تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کی رونق ماند پڑتی گئی اور یوں ایک روزہ کرکٹ منظر عام پر آئی۔

5 جنوری 1971ء کو پہلا ایک روزہ آسٹریلیا اور انگلستان کے درمیان ملبورن میں کھیلا گیا۔ اس مقابلے کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ درحقیقت یہ ایک ٹیسٹ میچ ہی تھا لیکن ابتدائی تین دن بارش کی نذر ہوگئے تو اس ٹیسٹ کم ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تب یہ تجویز سامنے آئی کہ کیوں نا ایک دن کے لیے محدود اوورز کا مقابلہ رکھ لیا جائے؟ جس میں ہر ٹیم کو کھیلنے کے لیے چالیس اوورز ملیں؟ یوں ایک نئی طرز کی کرکٹ کی بنیاد پڑی۔ مقابلہ آسٹریلیا نے پانچ وکٹوں سے جیتا اور اس کے بعد محدود اوورز کی کرکٹ کے باضابطہ قوانین بنائے گئے۔ ابتدا میں ہر اننگز 60 اوورز میں مشتمل ہوا کرتی تھی اور ہر گیندباز ایک میچ میں زیادہ سے زیادہ 11 اوورز پھینک سکتا تھا۔ اس زمانے میں یہ ایک روزہ بظاہر ٹیسٹ جیسا ہی لگتا تھا۔ وہی سفید لباس اور سرخ گیندیں، فیلڈنگ پابندیاں نہ ہونے کی وجہ سے بلے بازوں کے لیے رنز اکٹھے کرنا بھی آسان کام نہ تھا۔ اس وقت بلّے بھی چھوٹے اور نسبتاً بھاری اور میدان زیادہ بڑے ہوا کرتے تھے۔ اس لیے 60 اوورز کی اننگز میں کسی ٹیم کے لیے 280 رنز بھی خاصا مشکل ہدف ہوا کرتا تھا اور تعاقب کرنے والی ٹیم کی خواہش ہوتی تھی کہ معاملہ 260 رنز سے آگے نہ جائے۔

world-series

ایک روزہ کرکٹ میں ایک بڑا انقلاب تب آیا جب میڈیا سے وابستہ آسٹریلیا کی مشہور شخصیت اور "نائن نیٹ ورک" کے مالک کیری پیکر نے نشریاتی حقوق کے معاملے پر بین الاقوامی کرکٹ حکام سے ناکام مذاکرات کے بعد مقابلے میں اپنے نئے ٹیلی وژن چینل کے لیے’ورلڈ سیریز کرکٹ‘ منعقد کروانے کا فیصلہ کیا۔ ورلڈ سیریز سے کرکٹ میں وہ تبدیلیاں آئی جو آج ایک روزہ کا لازمی جزو سمجھی جاتی ہیں، جیسا کہ رنگین لباس، مصنوعی روشنی میں کھیل، سفید گیند، سیاہ اسکرین، ٹیلی وژن نشریات کے لیے کئی زاویوں سے عکس بندی کرنے والے کیمرے، اسکرین پر گرافکس، پچ پر مائیکروفون، کیا ان میں سے کسی چیز کے بغیر آج کرکٹ کا تصور کیا جا سکتا ہے؟

world-cup-1992-captains

1987ء میں ایک روزہ مقابلوں کو 60 سے گھٹا کر 50 اوورز فی اننگز تک محدود کیا گیا اور آج 29 سال بعد بھی اتنے ہی اوورز کھیلے جاتے ہیں۔

پھر بین الاقوامی کرکٹ کے کرتا دھرتاؤں نے ایک روزہ میں وقتاً فوقتاً کئی تبدیلیاں کیں۔ فیلڈنگ کی پابندیاں متعارف کروائی گئیں۔ 1992ء کے عالمی کپ میں ابتدائی 15 اوورز تک صرف دو فیلڈروں کو دائرے سے باہر کھڑے ہونے کی اجازت تھی، جبکہ 16ویں اوور سے پانچ کھلاڑی دائرے سے باہر کھڑے ہوسکتے تھے۔ یہ کہنا بالکل غلط نہ ہوگا کہ فیلڈنگ کی پابندیاں کرکٹ کو بلے بازوں کا کھیل بنانے کے لیے اٹھائے گئے اولین اقدامات میں سے ایک تھا۔ کچھ ہی عرصے میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے دائرے سے باہر صرف دو فیلڈرز کھڑے کرنے کی پابندی کو 15 کے بجائے ابتدائی 10 اوورز تک محدود کردیا۔ آگے چل کر "پاور پلے" متعارف کروائے گئے اور بیٹنگ اور باؤلنگ کرنے والی دونوں ٹیموں کو یہ اختیار تھا کہ وہ فیلڈنگ پر عائد لازمی پابندی کے اوورز کے علاوہ اپنی مرضی سے کسی بھی وقت اوورز کی مخصوص تعداد میں فیلڈنگ پابندیاں لاگو کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کرس گیل آ گیا میدان میں، ہو جمالو!
shahid-afridi

یہی وجہ ہے کہ نئی صدی کے آغاز تک کرکٹ میں بلے بازوں اور گیند بازوں کا مقابلہ تقریباً برابر کا ہوا کرتا تھا لیکن آج کرکٹ بلے بازوں کا کھیل بن چکا ہے۔ ان کے بلّے انتہائی ہلکے لیکن بہت بڑے اور طاقتور بن چکے ہیں۔ باؤنڈری جو کسی زمانے میں 90 گز سے کم نہیں ہوتی تھی، اب تک کہیں کہیں 60 گز سے بھی نیچے تک آ جاتی ہے اور شاید ہی کوئی میدان ایسا ہو جہاں باؤنڈری 90 گز کے فاصلے پر ہو۔ اب تو 90 گز کے فاصلے پر مارے گئے شاٹس تماشائیوں میں جا گرتے ہیں۔ پھر گیند بازوں کو نو-بال پر "فری ہٹ" کی سزا بھی دی گئی یعنی نہ صرف اس گيند پر ہونے والا آؤٹ نہیں مانا جائے گا، اضافی رن دینا پڑے گا اور اضافی گیند پھی پھینکنا پڑے گی بلکہ اگلی گیند پر بھی بلے باز کو کھلی چھوٹ دے دی گئی کہ وہ آؤٹ کے خطرے کے بغیر گیند کو ایک مرتبہ پھر میدان سے باہر پھینک دی۔ کرکٹ کی اس نئی "دنیا" میں گیند بازوں کے لیے وکٹ لینا اب کسی امتحان سے کم نہیں۔

saeed-ajmal

جو کسر رہ گئی تھی وہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی مقبولیت نے پوری کردی۔ اب تو اس کی تیز رفتاری ایک روزہ کرکٹ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ چنانچہ جس کھیل میں کبھی 300 رنز بنانا بھی ایک خواب تھا، وہ تین نہیں بلکہ چار سو سے زیادہ رنز بھی بن جاتے ہیں بلکہ اب تک 18 ایسے مواقع آ چکے ہیں کہ کسی ٹیم کا مجموعہ 400 کا ہندسہ بھی عبور کر گیا ہو۔

چند روز قبل انگلستان نے پاکستان کے خلاف 50 اوورز میں 444 رنز بنا کر ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹوٹل بنایا لیکن جس طرح ایک روزہ کرکٹ نے ارتقائی مراحل طے کیے ہیں، یا اس میں جان بوجھ کر ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ ریکارڈ بھی زیادہ عرصے نہیں رہے گا بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ’ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے‘۔

Alex-Hales

Article Tags

Facebook Comments