چیمپئنز ٹرافی کے لیے بھاری بجٹ پر بھارت ناراض

اگلا سال ایک روزہ کرکٹ کے دوسرے سب سے بڑے ٹورنامنٹ 'چیمپئنز ٹرافی' کا سال ہے، جس کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے 135 ملین ڈالرز کے بجٹ کا اعلان کیا ہے جس پر بھارت سخت ناراض دکھائی دیتا ہے۔

آئی سی سی اپنے زیر اہتمام ہونے والے ٹورنامنٹس کے لیے میزبان ملک کو بجٹ فراہم کرتا ہے اور بھارتی کرکٹ بورڈ کی ناخوشی کی وجہ یہ ہے کہ رواں سال مارچ و اپریل میں بھارت میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے کونسل نے صرف 45 ملین ڈالرز کا بجٹ مختص کیا تھا حالانکہ وہ چیمپئنز ٹرافی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑا ٹورنامنٹ تھا۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کل 58 میچز کھیلے گئے تھے جن میں سے 35 مردوں کی چیمپئن شپ میں ہوئے۔ دوسری طرف چیمپئنز ٹرافی میں صرف 15 مقابلے کھیلے جانے ہیں۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کے ایک سینئر اہلکار نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ جب بھارت میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کروایا گیا تو ایک نسبتاً طویل ٹورنامنٹ کے لیے چیمپئنز ٹرافی 2017ء کے لیے مختص رقم کا صرف ایک تہائی دیا گیا۔ بھارت میں اخراجات برطانیہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھے کیونکہ ایک سے دوسرے شہر کے لیے ہوائی سفر کرنا پڑتا تھا جبکہ برطانیہ میں صورت حال ایسی نہیں۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے اپنے سالانہ اجلاس میں ٹورنامنٹ کے بجٹ کا خاکہ جائزے کے لیے رکن ممالک کو پیش کیا تھا۔ بی سی سی آئی اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکا ہے اور اب رواں ماہ دبئی میں طے شدہ آئی سی سی چیف ایگزیکٹوز میٹنگ کے دوران اس موضوع پر بحث کرے گا۔

دوسری جانب لندن میں کونسل کے ایک نئے دفتر کے قیام کا منصوبہ بھی زیر عمل ہے جسے چیمپئنز ٹرافی کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے حوالے کیا جائے گا۔ بھارت کی جانب سے اس پر بھی اعتراض کیا گیا ہے کہ صرف ایک رکن ملک کے لیے دفتر پر اتنے اخراجات کیوں کیے جارہے ہیں؟

واضح رہے کہ آئی سی سی کے تمام رکن ممالک میں سب سے زیادہ آمدنی بھارتی کرکٹ بورڈ کی ہے اور کونسل کے اخراجات کے لیے اسی کی جانب سے سب زیادہ حصہ ڈالا جاتا ہے۔

BCCI-logo

Facebook Comments