ٹیسٹ کرکٹ کی ڈویژنز میں تقسیم، پاکستان اور بھارت مخالفت کریں گے

ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے سامنے ٹیسٹ کو 'مقابلے کی دوڑ' میں برقرار رکھنے کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کو دو ڈویژنز میں تقسیم کرنے کا مشورہ پیش کیا گیا تھا تاکہ باہمی مقابلوں میں دلچسپی کا عنصر بڑھ سکے لیکن خدشہ یہ ہے کہ 6 ستمبر کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اجلاس میں بھارت سمیت پانچ ممالک اس تجویز کو مسترد کردیں گے۔

رواں سال کے آغاز میں پیش کردہ اس تجویز کا مقصد ٹیسٹ کرکٹ میں عوام کی دلچسپی کو دوبارہ بحال کرنا تھا۔ تجویز کردہ قوانین کے مطابق 10 ٹیسٹ ٹیموں میں سے اولین 7 ٹیموں پہلے ڈویژن میں ہوں گی جبکہ باقی تین ٹیموں کو نچلے ڈویژن میں مقابلے کرنے ہوں گے۔ دوسرے ڈویژن کی سرفہرست ٹیم کی اگلے ڈویژن میں ترقی اور اسی طرح پہلے ڈویژن کی نچلی ٹیم کی پچھلے میں تنزلی ہوگی۔

بھارت کے علاوہ پاکستان، سری لنکا، ویسٹ انڈیز، زمبابوے اور بنگلہ دیش تجویز کے خلاف ہيں جبکہ آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ اس حق میں محسوس ہو رہے ہیں۔

اس نظام کی سب سے پہلی مخالفت بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے کی تھی جن کے مطابق اس سے ٹیسٹ فارمیٹ میں کمزور ٹیمیں جیسے بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے بری طرح نظر انداز ہو جائیں گی۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کے اہلکاروں کے مطابق اس نظام سے ٹیسٹ درجہ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھنے والی نئی ٹیموں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

افغانستان اور آئرلینڈ دوسرے ڈویژن کی تین ٹیموں کے ساتھ کھیلیں گی جو ویسٹ انڈیزکے لیے بہت خفت کا مقام ہو گا۔ ماضی کی نمبر ایک ویسٹ انڈیز اس وقت سرفہرست 7 ٹیسٹ ٹیموں میں شامل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بابر اعظم، نظریں ایک نہیں دو ریکارڈز پر

بی سی سی آئی ذرائع کے مطابق اگر اس تجویز کا مقصد صرف پیسے کا حصول ہے تو کیا بھارت کو صرف انگلینڈ اور آسٹریلیا کے ساتھ ہی کھیلنا چاہئے؟ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارتی بورڈ دیگر ممالک کے متعلق بھی سوچ رہا ہے جبکہ آئی سی سی ٹیسٹ میں عوام کی عدم دلچسپی کے واحد نقطہ نظر سے اس معاملے کو دیکھ رہا ہے۔ آجکل سوائے ایشیز سیریز اور بھارت کے مقابلوں کے دیگر ممالک کے ٹیسٹ میچز میں خالی میدان نظر آتے ہیں اور کرکٹ کے کرتا دھرتا سمجھتے ہیں کہ اس حالت سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے۔

اس وقت ایشیز اور بھارت کی سیریز ہی میں ایسے ٹیسٹ کھیلے جاتے ہیں جن میں تماشائی میدان میں ہوتے ہیں

اس وقت ایشیز اور بھارت کی سیریز ہی میں ایسے ٹیسٹ کھیلے جاتے ہیں جن میں تماشائی میدان میں ہوتے ہیں

Facebook Comments