ایک اور حادثہ، ایک اور زخمی

کرکٹ اب بہت زیادہ تیز ہو چکا ہے، اتنا کہ پہلے قریب کھڑے وکٹ کیپرز کے لیے ہیلمٹ لازمی ہوا، اب امپائروں نے بھی پہننے شروع کردیے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب میدان میں دوڑتے فیلڈر بھی اپنی کھوپڑیاں بچانے کی کوشش کرتے نظر آئیں۔ گزشتہ روز ہم سے پاک-انگلستان واحد ٹی ٹوئںٹی میں ہم نے عماد وسیم کو فیلڈنگ کے دوران اچانک ایک شاٹ پکڑتے ہوئے زخمی ہوتے دیکھا کیونکہ گیند یکدم اچھل گئی تھی۔ وہ تو بھلا ہوا کہ انہیں زیادہ نقصان نہیں پہنچا لیکن بھارت کے پراگیان اوجھا اتنے خوش نصیب ثابت نہیں ہوئے۔

دلیپ ٹرافی کے فائنل کے دوران جب بلے باز پنکج سنگھ نے ایک شاٹ کھیلا تو گیند زمین کے ساتھ تیزی سے آگے جا رہی تھی اور اس کی راہ میں اوجھا حائل تھے۔ انہوں نے گیند کو روکنے کے لیے پوزیشن سنبھالی لیکن گیند کسی ناہموار جگہ سے ٹکرا کر یکدم اٹھی اور سیدھا ان کے سر پر لگی۔ درد کی شدت کی وجہ سے وہ فوراً زمین پر لیٹ گئے۔ بعد ازاں انہیں نیم بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کی جاری کردہ ایک وڈیو میں دیکھا گیا کہ گیند کس طرح اچھل کر اوجھا کے سر کے بائیں حصے پر لگی جس سے وہ بے سدھ ہوکر گرگئے۔ یہ مقابلہ ڈے/نائٹ تھا یعنی اس میں گلابی گیند کا استعمال کیا گیا۔

اوجھا بھارت کی قومی ٹیم کے ایک اہم رکن تھے اور تینوں طرز میں ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ 24 ٹیسٹ مقابلوں میں سے آخری انہوں نے 2013ء میں کھیلا تھا۔ اس کے علاوہ 18 ایک روزہ اور 6 ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی بھی کھیل رکھے ہیں۔

pragyan-ojha

Facebook Comments