دورۂ انگلستان کے بعد

پاکستانی کرکٹ ٹیم دس ہفتوں پر مشتمل دورۂ انگلستان سے واپس لوٹ آئی ہے۔ مجموعی طور پر اس دورے کے نتائج پاکستان کے لیے ملے جلے رہے، لیکن اس دورے سے کئی مثبت اور بہترین واقعات وابستہ رہے۔ اور اگر 2010ء کے افسوس ناک اور شرمناک دورۂ انگلستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ اس دورے کو پاکستان کرکٹ کے لیے بلاشبہ حوصلہ افزا قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس دورے کے اختتام پر کئی توقعات ٹوٹیں، اور کئی نئی توقعات وابستہ ہوئیں۔ مثلاً دورے سے قبل بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آنے والے محمد عامر سے متعلق مختلف آرا کا اظہار کیا جارہا تھا۔ ایک عام تصور یہ تھا کہ محمد عامر کی واپسی پاکستانی کرکٹ کے بدن میں ایک نئی زندگی پھونک دے گی اور انگریز بلے باز یکے بعد دیگرے پویلین کا رخ کریں گے۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوسکا۔ محمد عامر ٹیسٹ سیریز میں 12 اور ایک روزہ سیریز میں صرف 4 وکٹیں لے سکے۔ دوسری طرف یاسر شاہ نے ایک ٹیسٹ میچ میں خوب مقابلہ لوٹا اور 10 وکٹوں کا شکار کیا۔ ایک روزہ سیریز میں حسن علی نمایاں گیند باز بن کر سامنے آئے جنھوں نے انگلستان کے خلاف چار میچوں میں آٹھ وکٹیں لیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم اپنے باصلاحیت اور منفرد طرز کے کپتان مصباح الحق کی قیادت میں جب میدان میں اتری تو ایک نیا روپ دیکھنے کو ملا۔ اس دورے کی چند خوشگوار یادوں میں سے ایک وہ ڈنڈ (پش اپ) بھی تھے، جو پہلے مصباح نے اپنی سنچری مکمل ہونے کی خوشی میں پیلے اور پھر اس میچ میں فتح کے بعد ٹیم کے تمام کھلاڑیوں نے ڈنڈ پیل کر ایک سماں باندھ دیا۔

team-pakistan-at-lords-2016

پاکستان اور انگلستان کے مابین ٹیسٹ سیریز بھی کرکٹ شائقین کو یاد رہے گی۔ پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی شاندار پرفارمنس، اور اس کے بعد دو ٹیسٹ مقابلوں میں انگلستان کی عمدہ واپسی، پھر چوتھے اور آخری ٹیسٹ میں پاکستان کی لاجواب پرفارمنس کے ذریعے سیریز کا دو-دو سے برابر ہونا، اور پاکستان کا ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ون ہونے کا اعزاز حاصل کرنا۔ یہ سب وہ لمحات ہیں جو پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اگلے چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ دیں گے اور پاکستانی شائقین کو اپنی ٹیم سے نئی توقعات وابستہ کرنے پر ابھاریں گے۔

تجربہ کار مصباح اور یونس کی غیر موجودگی میں پاکستان کی ایک روزہ ٹیم خاصی کمزور نظر آئی اور اسے چار-ایک سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان ناکامیوں میں بھی ایک نام نمایاں رہا۔ سرفراز احمد۔ پاکستانی وکٹ کیپر سرفراز احمد نے ایک روزہ سیریز میں 300 رنز بناکر سیریز کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ سرفراز کی زیر قیادت پاکستانی ٹی20 ٹیم انگلستان کے خلاف واحد ٹی20 میچ بہترین انداز میں جیت کر اس دورے کا خوشگوار اختتام کرنے میں کامیاب رہی۔

یہ بھی پڑھیں:  سرفراز احمد کا متبادل کون؟ محمد رضوان یا عمر اکمل؟

سرفراز احمد کے لیے یہ دورہ متاعِ زندگی کی مانند ہے۔ سرفراز نے آسٹریلوی کرکٹ ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اس دورے سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار یوں کیا: ’’تمام تر دورہ ہی بہت اچھا تھا۔ ہم ٹیسٹ کرکٹ میں بہترین رہے، اور بدقسمتی سے ایک روزہ سیریز نہیں جیت سکے۔ لیکن میں سیریز کا اختتام عمدگی سے کرنا چاہتا تھا اور مجھے خوشی ہے کہ ہم ایسا کرسکے۔‘‘

دورۂ انگلستان کی آخری پریس کانفرنس بدھ کی شام منعقد ہوئی جس میں سرفراز احمد اور وہاب ریاض موجود تھے۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر ایک انگریز صحافی نے اس دورے کو ممکن بنانے اور اچھے مہمان ثابت ہونے پر ان کا شکریہ ادا کیا، جس پر تمام شرکا نے خوب تالیاں بجائیں۔

پاکستان کے سامنے اگلا چیلنج دورۂ آسٹریلیا کی صورت میں موجود ہے۔ اس سال کے اواخر میں پاکستان کرکٹ ٹیم آسٹریلیا کا دورہ کرے گی اور دسمبر سے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز ہوگا۔ آسٹریلیا وہی ٹیم ہے جس سے پاکستان نے ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ون ہونے کا اعزاز چھینا ہے اور آسٹریلوی ٹیم یہ حساب چکتا کرنے کے لیے بے تاب ہوگی۔

لیکن آسٹریلیا روانگی تک، کیا پاکستان ٹیسٹ رینکنگ میں سرفہرست رہ سکے گا؟ اس کا تمام تر انحصار دورۂ آسٹریلیا سے قبل ویسٹ انڈیز اور پھر نیوزی لینڈ سے مقابلوں پر ہے۔ دوسری طرف آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے مابین سیریز کے علاوہ بھارت کرکٹ ٹیم کے اپنی ہی سرزمین پر نیوزی لینڈ اور انگلستان کے خلاف مقابلے بھی اس رینکنگ میں اہم کردار ادا کریں گے۔

پاکستان کے دورۂ انگلستان سے قبل آسٹریلوی کھلاڑی یہ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ پاکستانی ٹیم کو بآسانی ٹھکانے لگاسکیں گے۔ تاہم دورۂ انگلستان نے انھیں یہ احساس ضرور دلادیا ہوگا کہ پاکستانی ٹیم تر نوالہ ہرگز ثابت نہیں ہوگی۔

team-pakistan2

Facebook Comments