کیا کرکٹ میدان میں امپائروں کی ضرورت باقی ہے؟

کھیلوں کی دنیا میں ایک کہاوت ہے کہ ’’امپائر نہ ہوتے تو کھیل نہ ہوتے۔ ‘‘ بعض لوگوں کو اس سے اختلاف ہوسکتا ہے۔ ہم گلی کوچوں میں نوجوانوں کو اکثر کسی امپائر یا ریفری کے بغیر کھیلتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات کھیلنے والوں ہی میں سے کوئی عارضی طور پر امپائرنگ کے فرائض انجام دینے لگتا ہے۔ مقامی سطح پر کرکٹ کھیلتے ہوئے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بلے بازی کرنے والی ٹیم ہی کا کوئی کھلاڑی اپنی باری آنے سے پہلے یا بعد میں قائم مقام امپائر بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ ایسے امپائر کی غیر جانبداری پر جو سوال اٹھتے ہیں، وہ ایک الگ موضوع ہے۔

عالمی سطح پر کرکٹ میں بھی ایسا ہی کچھ ہوتا تھا۔ جس ملک میں مقابلے ہوتے، عموماً اسی ملک کے امپائر میدان میں موجود ہوتے اور اگر مہمان ٹیم کے خلاف کچھ متنازع فیصلے دے دیے جاتے تو امپائروں کی غیر جانبداری پر خوب شور شرابا ہوتا۔

ایک بار بھارت کے خلاف ہوم سیریز سے قبل پاکستانی کپتان عمران خان نے امپائرنگ پر اٹھنے والی انگلیوں اور مہمان ٹیم کی شکست کا سبب میزبان ملک کے امپائروں کی ناقص یا غیر جانبدارانہ امپائرنگ قرار دیے جانے والے مسائل سے چھٹکارا پانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے انگلستان سے تعلق رکھنے والے جان ہیمپشائر اور جان ہولڈر کو امپائرنگ کی دعوت دی۔ جلد ہی آئی سی سی کو بھی غیر جانبدار امپائروں کی اہمیت کا اندازہ ہوگیا۔ چنانچہ 1992ء میں تجرباتی طور پر ٹیسٹ مقابلوں میں ایک غیر جانبدار امپائر کا تقرر کیا جانے لگا۔ اس تجربے کے نتائج دیکھتے ہوئے دو سال بعد یہ نظام نافذ کردیا گیا۔ یہاں تک کہ 2002ء سے میدان میں موجود دونوں امپائر ہی ایسے مقرر کیے جانے لگے جن کا تعلق نہ میزبان ملک سے ہوتا اور نہ ہی مہمان ملک سے۔ غیر ملکی جامعات میں ہونے والی تحقیق یہ بات ثابت کرتی ہے کہ ہوم امپائر اپنی ٹیم کا ساتھ دیا کرتے تھے اور اس کی ایک ممکنہ وجہ مقامی تماشائیوں کا دباؤ تھا۔

بہرحال، کرکٹ کی معلوم تاریخ میں ہمیشہ امپائر موجود رہے۔ تاہم، امپائروں کی اہمیت اور مقام کا تعین جس زمانے میں کیا گیا تھا تب کرکٹ میدان آج جیسی ٹیکنالوجی سے محروم تھے۔ گیند کے راستے سے آگاہ کرنے والی ہاک آئی، گیند کے بلے کو چھونے کی آواز بتانے والا اسنیک او میٹر، گیند کی گردش بتانے والا آر پی ایم، گیند اور بلے کے ٹکراؤ کی خبر دینے والا ہاٹ اسپاٹ؛ یہ وہ سہولیات ہیں جو دورِ حاضر میں تقریباً ہر بین الاقوامی اور قومی سطح پر کرکٹ مقابلوں میں موجود ہوتی ہیں۔ میدان کو اپنے گھیرے میں لیے کیمرے ہر زاویے سے عکسبندی کرتے ہیں اور میدان میں نصب بڑی بڑی اسکرینوں پر تمام مناظر دکھاتے ہیں اور بار بار دکھاتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی اور کیمروں کی نظر سے اب نہ کوئی نو بال پوشیدہ رہتی ہے، نہ ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ مشکل ہوتا ہے، اور نہ ہی رن آؤٹ سر درد بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  یاسر شاہ، عرش سے فرش پر

تو کیا آج کے دور میں بھی دو کرکٹ امپائر میدان میں کھڑے کرنے کی ضرورت باقی رہ گئی ہے؟

billy-bowden

کرکٹ کا کھیل اب نہ صرف تیز سے تیز تر ہوچکا ہے، بلکہ کئی معاملوں میں قدامت پسندی چھوڑ کر جدت اپنا رہا ہے۔ فیصلے پر نظرِ ثانی کا نظام (ڈی آر ایس) بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں دونوں ٹیمیں امپائر کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے ٹی وی امپائر سے رجوع کرنے کا حق رکھتی ہیں۔ تو جب ٹی وی امپائر کی رائے ہی حتمی تصور کی جاتی ہو اور اسی کے پاس تمام تر ٹیکنالوجی اور وسائل ہوں، تو میدان میں دو لوگوں کو کئی گھنٹوں تک کھڑے رہنے، گیندوں اور رنز کا حساب کتاب کرنے، اور بلے بازوں کے خطرناک شاٹس کا خطرہ مول لینے کی کیا ضرورت ہے؟

میدان میں امپائر کھڑے کرنے کی حمایت میں عموماً یہ دلائل دیے جاتے ہیں کہ وہ فوری فیصلہ کر پاتا ہے، کھیل کا نظم و نسق برقرار رکھتا ہے، اور وہ کھیل کی روایات کا پاسدار ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر ہر فیصلے کے لیے ٹی وی امپائر پر نظر کرنی پڑے تو کھیل پورا ہونے میں نسبتاً زیادہ وقت لگے گا۔ بعض لوگ کھیل کے دوران دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والی نوک جھونک اور تلخ کلامی کو روکنے کا ذریعہ بھی امپائروں کو بتاتے ہیں۔

لیکن درحقیقت یہ ایسے مضبوط دلائل نہیں جو دو افراد کو طویل دورانیے کے لیے میدان میں پل پل ہوشیار خبردار کھڑے رہنے پر مجبور کریں۔ میدان میں نصب جہازی اسکرینیں جہاں کھلاڑیوں کو میچ کی تمام تر صورتحال اور اعداد و شمار سے باخبر رکھتی ہیں، وہیں ہر گیند کے بعد کے نتیجے سے بھی آگاہ کرسکتی ہیں۔ کھلاڑیوں کو امپائر کی طرف دیکھنے کی بجائے اسکرین کو دیکھنے کی ضرورت ہوگی۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے فیصلے کہیں زیادہ درست ہوں گے اور امپائرنگ پر اعتراضات کے امکانات برائے نام رہ جائیں گے۔ ان کے علاوہ کرکٹ کے میدان میں جتنی باقاعدگی سے حادثات ہونے لگے ہیں، ان کے خطرات سے کم از کم امپائروں کو محفوظ رکھا جاسکے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  کلارک اور ہیڈن بھی نصیحتیں کرنے لگے

ویسے کرکٹ کی دنیا میں ایک موقع ایسا آیا ہے جب ایک میچ لیگ امپائر کی عدم موجودگی ہی میں شروع ہوگیا تھا۔ یہ ویسٹ انڈیز اور بھارت کے درمیان ایک روزہ میچ تھا اور جب بھارتی کھلاڑیوں نے ایک گیند پر رن آؤٹ کی اپیل کی اور فیصلے کے لیے لیگ امپائر کی طرف دیکھا تو وہ اپنی جگہ پر موجود ہی نہیں تھا۔ کیمرے نے دکھایا کہ موصوف کوئی ہدایت دینے کے لیے باؤنڈری لائن سے باہر گئے تھے اور باقی لوگوں نے ان کی غیر موجودگی کا احساس کیے بنا ہی کھیل شروع کردیا۔

بہرحال، میدان میں امپائروں کی اہمیت خواہ کتنی ہی کم کیوں نہ ہوجائے اور ان سے بتدریج کتنے ہی اختیارات لے لیے جائیں، بظاہر انھیں مکمل طور پر ٹیکنالوجی اور ٹی وی امپائر سے بدلنا مشکل نظر آتا ہے۔ کرکٹ انگریزوں کا کھیل ہے اور انگریز خاصے روایت پسند واقع ہوئے ہیں۔ جب جمہوری نظام ہونے کے باوجود ان کے ہاں بادشاہ، ملکہ اور شہزادے شہزادیاں اب تک موجود ہیں تو کوئی بعید نہیں کہ کرکٹ امپائر کو بھی روایات ہی کی خاطر آئندہ کئی سالوں تک یونہی علامتی طور پر برقرار رکھا جائے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟

Facebook Comments