'لالا' نے باعزت رخصتی کا راستہ طلب کرلیا

ہر کھیل کی طرح کرکٹ میں بروقت فیصلے کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ پلک جھپکنے کی تاخیر ہو تو شاٹ کا نتیجہ چھکے کے بجائے آؤٹ ہو سکتا ہے، ہک شاٹ کی کوشش کھوپڑی پر بال پڑنے کی صورت میں نکل سکتی ہے، یا گیند کور ڈرائیو پر چوکے کے بجائے وکٹوں میں گھس سکتی ہے۔ بالکل یہی کلیہ کھلاڑیوں کے کرکٹ چھوڑ دینے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ مقبولیت کے عروج پر شائقین کی تشنگی کو برقرار رکھتے ہوئے دستبردار ہونا کھلاڑی کو ہمیشہ کے لیے عظمت کی بلندیوں پر سرفراز کر دیتا ہے بجائے اس کے بعد 'بڑے بے آبرو ہوکر' نکالے جا سکتے ہیں، یا پھر باعزت علیحدگی کے لیے بھیک مانگنی پڑتی ہے۔

شنید یہی ہے کہ شاہد خان آفریدی نے ٹیسٹ اور ایک روزہ کے بعد ٹی ٹوئنٹی سے بھی ریٹائر ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شکست کے بعد پاکستانی کرکٹ سے غائب کردیے جانے والے شاہد آفریدی کی خواہش ہے کہ انہیں ویسٹ انڈیز کے خلاف الوداعی مقابلہ کھیلنے کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ پروقار انداز میں بین الاقوامی کرکٹ سے رخصت ہو سکیں۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس امر کا انکشاف قومی سلیکشن کمیٹی کے ایک رکن نے کیا ہے لیکن 'لالا' کی یہ تمنا پوری ہوتی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ شہریار خان کریں گے جو اس وقت لندن میں زیر علاج ہیں۔

جارحانہ بلے بازی کی بدولت مقبولیت حاصل کرنے والے لیگ اسپنر شاہد آفریدی کی عمر اس وقت 36 سال ہے اور وہ 20 سال سے کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے 98 ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلے اور 97 وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ 1405 رنز بنائے۔ اس میں سے 43 مقابلوں میں انہوں نے پاکستان کی قیادت کی اور صرف 19 میں کامیابی حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیں:  پشاور کے اوسان پھر خطا ہوگئے، کوئٹہ فائنل میں

شاہد آفریدی نے رواں سال کے اوائل میں ایشیا اور اس کے بعد ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بدترین کارکردگی کے بعد قیادت چھوڑ دی تھی کیونکہ پاکستان ان دونوں ٹورنامنٹس میں 8 میں سے پانچ مقابلوں میں شکست کھا گیا تھا۔ لیکن گزشتہ روز ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے 'لالا' نے کہا کہ "میڈیا کون ہوتا ہے جو صرف ایک اچھی یا ایک بری کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا فیصلہ کرتا پھرے؟ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک میچ کی بنیاد پر کسی کو ہیرو بنا دیا جائے جبکہ 20 سالہ تجربہ رکھنے والوں کو لمحوں میں زیرو بنادے؟۔ ریٹائرمنٹ کے سوال پر سابق کپتان نے کہا کہ ابھی میری تمام توجہ ملکی اور کاؤنٹی کرکٹ پر مرکوز ہے اور جب محسوس کروں گا کہ مزید نہیں کھیل سکتا کسی کو زحمت دیے بغیر الگ ہو جاؤں گا۔

ویسے پاکستانی میڈیا پر شاہد آفریدی کی طرح ہی ناقابل یقین ہے، اس لیے ضروری نہیں کہ ان کی ہر بات ٹھیک بھی ہو۔

Facebook Comments