سب سے مشکل باؤلر شعیب اختر تھے، کرس گیل کا اعتراف

جدید کرکٹ کے تیز ترین بلے بازوں میں سے ایک کرس گیل کی خود نوشت سوانح حیات’’سکس مشین‘‘ کے عنوان سے شائع ہوگئی ہے۔ گیل آج کل اس کتاب کی مشہوری میں مگن ہیں اور اسی لیے انہوں نے بھارت میں ایک تشہیری تقریب میں شرکت کی۔تقریب میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر انوراگ ٹھاکر اور سابق بھارتی بلے باز وریندر سہواگ بھی موجود تھے۔ شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے گیل نے اپنی زندگی اور سوانح حیات کے کئی پہلو بیان کیے۔

کرس گیل کا کہنا تھا کہ وہ اپنی کتاب کا پہلا نسخہ معروف فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کو دینا چاہیں گے۔ اس خواہش کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے رونالڈو کے بارے میں پڑھا ہے کہ وہ کیسے پلے بڑھے، کتنی مشکلات کا سامنا کیا اور ایک سپر اسٹار بننے کے لیے کون کون سے مراحل طے کیے۔ گیل نے کہا کہ وہ بھی اس مقام تک کچھ اسی طرح پہنچے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’رونالڈو جس مقام کے مستحق تھے، وہ انہیں نہیں ملا اور یہی ماجرا میرے ساتھ بھی ہے۔‘‘

گیل نے اس گیند باز کا نام بھی بتایا جسے کھیلنا ان کے لیے سب سے زیادہ مشکل ہے۔ وہ گیند باز کوئی اور نہیں، پاکستان کے شعیب اختر ہیں۔ "شعیب اختر۔ اسے مارنا بہت آسان ہے (مذاق کر رہا ہوں)۔ اختر بہت تیز ہے۔ جب بھی آپ برصغیر کا دورہ کرتے ہیں تو باؤلرز ہمیشہ بلے بازوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں خاص طور پر اسپن گیند باز۔ دھیمی وکٹوں پر کھیلنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔" گیل نے اپنی سوانح حیات کا آغاز ہی ان الفاظ میں کیا ہے کہ "میں عجیب ہوں، بہت عجیب۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ مجھے جانتے ہیں تو آپ غلطی پر ہیں۔"

یہ بھی پڑھیں:  کرس گیل آ گیا میدان میں، ہو جمالو!

گیل اپنا موازنہ دو فٹبالروں، زلاتان ابراہیموویچ اور کرسٹیانو رونالڈو سے کرتے ہیں۔ تقریب میں انہوں نے اپنے کئی ریکارڈز کے بارے میں بھی گفتگو کی۔ گیل ان چار کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں دو بار ٹرپل سنچریاں بنائی ہیں۔ تاہم گیل کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی ریکارڈ بنانے کی پروا نہیں کی، یہ تو بس خود بخود بنتے چلے گئے۔

کرس گیل ویسٹ انڈیز کی ان ورلڈ ٹوئنٹی ٹیموں کا حصہ تھے جنہوں نے 2012ء میں اور رواں سال ٹی ٹوئنٹی کے عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

chris-gayle-s-six-machine

Facebook Comments