انگلستان میں جدید لیگ طرز پر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی تجویز

پاکستان، بھارت اور آسٹریلیا جیسے کرکٹ کھیلنے والے بڑے ممالک میں ٹی ٹوئنٹی لیگ کا چلن عام ہو چکا ہے لیکن "کرکٹ کی جنم بھومی" انگلستان اس معاملے میں کچھ پیچھے رہ گئی ہے۔ بہرحال، کرکٹ کے متعلق اپنی قدامت پسند سوچ کے باوجود انگلستان نے 'دیر آید، درست آید' کے مصداق آئی پی ایل، بگ بیش اور پی ایس ایل کی طرح شہروں کی بنیاد پر فرنچائز انداز میں لیگ کروانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ویسے تو انگلینڈ میں اس عنوان پر طویل عرصے سے بحث جاری تھی اور اکثر کاؤنٹیز کی شدید مخالفت کے باعث کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا تھا مگر گزشتہ سال کی نسبت اب 18 میں سے 15 کاؤنٹیز کی طرف سے مثبت اشارے ملنا شروع ہو گئے ہیں جسے "بڑا قدم" قرار دیا جا رہا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس لیگ کو حسب روایت ایک ماہ کی مدت میں 8 ٹیموں کے ساتھ ہی منعقد کیا جائے گا یا اس کے برعکس کوئی نیا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔ بہرحال، اس پر سب یکسو ہیں کہ طریقہ کوئی بھی ہو بس ہونا ضرور چاہیے۔

کاؤنٹیز کو نئی ٹیموں کے ملکیتی حقوق، کھلاڑیوں کی فروخت اور اپنے میدانوں کے استعمال سے اضافی مالی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی شہروں کی بنیاد پر لیگ کروانے کی تجویز کے خلاف سب سے شدید ردعمل کینٹ اور سسیکس کی جانب سے تھا جنہوں نے اس کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی مگر اب ان کی بھی حمایت کے حصول بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ امید کی جا رہی ہے آئندہ چند ہفتوں میں فیصلے کو حتمی شکل دے کر باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔

lancashire-yorkshire-gloucestershire

Article Tags

Facebook Comments