شاہد آفریدی کو الوداعی مقابلہ نہیں ملے گا

پاکستان کے سابق کپتان شاہد آفریدی کو کو کم از کم پاک-ویسٹ انڈیز سیریز میں تو الوداعی مقابلہ کھیلنے نہیں دیا جائے گا۔

ذرائع ابلاغ میں 'الوداعی مقابلے' کی گونج آنے کے بعد شاہد آفریدی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس کی تصدیق بھی کی اور کہا کہ دباؤ تو بورڈ اور مجھ پر بھی کوئی نہیں لیکن یہ ایک اچھی مثال قائم کرے گا۔ یہاں کھلاڑیوں کو باعزت رخصتی کی روایت نہیں ہے۔ انہیں ملک کے لیے خدمات پر عزت کے ساتھ رخصت کرنا چاہیے۔ اس معاملے پر انضمام الحق سے بھی بات ہوئی ہے۔

لیکن یہ تجویز چیئرمین شہریار خان کے لندن میں زیر علاج ہونے اور سربراہ ایگزیکٹو کمیٹی نجم سیٹھی کے تعطیلات پر انگلستان میں ہونے کی وجہ سے حتمی فیصلے تک نہیں پہنچی۔

شاہد آفریدی نے اعلان کیا تھا کہ وہ بھارت میں کھیلے گئے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے لیکن بعد میں "لالا" نے کہا کہ ان پر اہل خانہ اور دوستوں کا سخت دباؤ ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ واپس لے لیں۔ البتہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ناقص کارکردگی کی وجہ سے شاہد آفریدی نے قیادت ضرور چھوڑ دی جو اب وکٹ کیپر سرفراز احمد کے پاس ہے۔

شاہد آفریدی نے ستمبر 2014ء میں محمد حفیظ کے استعفے کے بعد قیادت سنبھالی تھی لیکن 24 مقابلوں میں صرف 11 فتوحات نے ثابت کیا کہ ان کا یہ دوسرا دور اچھا ثابت نہیں ہوا۔ اس پورے عرصے میں انہوں نے کوئی نصف سنچری تک نہیں بنائی اور صرف 14 کے اوسط سے رنز اسکور کیے اور محض 20 وکٹیں لیں۔ ویسے آفریدی کی ریٹائرمنٹ ہمیشہ ایک متنازع معاملہ رہی ہے۔ جب انہیں 2010ء میں ٹیسٹ میں واپس بلایا گیا تھا تو وہ ایک ہی مقابلے میں شکست کے بعد دوبارہ ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ گئے۔ ایک روزہ کو "لالا" نے عالمی کپ 2015ء کے ساتھ ہی الوداع کہا جبکہ ٹی ٹوئنٹی کا معاملہ اب بھی لٹکا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پشاور کے اوسان پھر خطا ہوگئے، کوئٹہ فائنل میں
shahid-afridi2

Facebook Comments