دونوں ہاتھوں سے باؤلنگ کروانے والے

کرکٹ میں دونوں ہاتھوں کی مہارت ایک لحاظ سے عام بھی ہے اور بہت خاص بھی۔ عام اس لیے کہ آپ کو بہت سے کھلاڑی ایسے ملتے ہوں گے جو بلے بازی تو دائیں ہاتھ سے کرتے ہوں گے لیکن باؤلنگ میں اپنے بائیں ہاتھ کے کمالات دکھاتے ہیں، یا پھر اس کے الٹ بھی کرتے ہیں لیکن بہت کم ایسے ہیں جو دونوں طرف سے بلے بازی بھی کر سکتے ہوں اور گیندبازی بھی۔ ایسے باؤلرز کی تعداد تو انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے جو کرکٹ تاریخ میں دونوں ہاتھوں سے باؤلنگ کرواچکے ہوں لیکن ایسا کوئی نہیں جو دونوں ہاتھوں سے تیز باؤلنگ کرواتا ہو۔ ایک ایسا نایاب باؤلر لاہور قلندرز کی جانب سے راولپنڈی میں لگائے گئے کیمپ سے سامنے آیا ہے جس کو دونوں ہاتھوں سے باؤلنگ کرنے پر ملکہ حاصل ہے، وہ بھی تیز گیندبازی اور اسی رفتار سے بھی۔

یہ یاسر جان ہیں جو دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں سے یکساں رفتار کے ساتھ باؤلنگ کر سکتے ہیں اور ان کی لائن اور لینتھ بھی دونوں ہاتھوں سے یکساں ہی ہے۔ وہ "جیز رائزنگ اسٹار" ٹرائلز سے دریافت ہوئے۔ جس کا مقصد ملک میں نچلی سطح پر موجود کرکٹ ٹیلنٹ کو سامنے لانا ہے اور بہترین کھلاڑی کو پاکستان سپر لیگ کے اگلے سیزن کے لیے لاہور قلندرز کے دستے میں منتخب کرنا ہے۔

یاسر جان کا تعلق دراصل صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے چارسدہ سے ہے لیکن وہ اسلام آباد میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بچپن ہی سے دونوں ہاتھوں سے باؤلنگ کی مشقیں کرتے رہے ہیں۔ لاہور قلندرز کے کوچ اور سابق ٹیسٹ باؤلر عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا کوئی باؤلر نہیں دیکھا جو دونوں ہاتھوں سے تیز باؤلنگ کرتا ہو۔

کرکٹ تاریخ میں دونوں ہاتھوں سے گیندبازی کی مہارت پہلی بار عظیم پاکستانی حنیف محمد نے ظاہر کی تھی۔ دنیا بھر میں جہاں ان کی بلے بازی کا شہرہ تھا، وہیں وہ دیگر صلاحیتیں بھی رکھتے تھے جیسا کہ وکٹ کیپنگ اور آف اسپن باؤلنگ بھی۔ لیکن کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ دونوں ہاتھوں سے گیند پھینکنے کی صلاحیت کے بھی حامل تھے۔ 1958ء کے دورۂ ویسٹ انڈیز میں جس مقابلے میں گیری سوبرز نے ریکارڈ 365 رنز بنائے تھے، وہاں حنیف نے بھی باؤلنگ کی تھی بلکہ چند گیندیں محض 'منہ کا ذائقہ' بدلنے کے لیے بائیں ہاتھ سے بھی پھینکی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ون ڈے کرکٹ کی یادگار ترین اننگز، جو نشے میں کھیلی گئی

ایک اور عظیم بلے باز انگلستان کے گراہم گوچ تھے کہ جو ملک کی تاریخ کے بہترین بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنے عروج پر تھے تو اچھی باؤلنگ بھی کر لیتے تھے اور 23 وکٹیں بھی ان کے ٹیسٹ کیریئر کا حصہ ہیں لیکن ان کی بائیں ہاتھ سے بھی گیند پھینکنے کی صلاحیت کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں۔

سری لنکا کے لیے 83 ٹیسٹ اور 200 ایک روزہ مقابلے کھیلنے والے ہشان تلکارتنے بھی دونوں ہاتھوں سے یہ کارنامہ کر لیتے تھے۔ 1996ء کے عالمی کپ میں کینیا کے خلاف مقابلے میں آخری اوور میں تلکارتنے نے دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں سے گیندیں پھینکی تھیں۔

جس گیندباز نے آخری بار دونوں ہاتھوں کی مہارت کی وجہ سے شہرت حاصل کی تھی وہ سری لنکا ہی کے کمنڈو مینڈس تھے۔ اس نوجوان نے رواں سال بنگلہ دیش میں ہونے والے انڈر19 ورلڈ کپ میں یہ کارنامہ دکھایا تھا۔ 17 سالہ مینڈس دائیں ہاتھ سے آف اسپن باؤلنگ کرتے ہیں اور اس اہم ٹورنامنٹ میں بارہا انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ سے بھی اسپن باؤلنگ کی۔ افغانستان کے خلاف مقابلے میں انہوں نے 36 رنز دے کر 3 وکٹیں بھی حاصل کیں۔

Facebook Comments