قصوروار اظہر علی نہیں، ڈومیسٹک کرکٹ اور بیٹنگ لائن ہے

ایک روزہ کرکٹ میں پاکستان کی کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ 2009ء میں چیمپئنز ٹرافی اور 2011ء کے عالمی کپ مں سیمی فائنل مقابلوں تک رسائی کے بعد سے اب تک سوائے چند ایک فتوحات کے پاکستان کے دامن میں کوئی قابل ذکر کامیابی نہیں ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس پر ماہرین اور شائقین کی رائے تقسیم ہے۔ قیادت کے دفاعی انداز پر بھی تنقید ہے تو ملک میں کرکٹ نہ ہونے کو بھی سبب قرار دیا جا رہا ہے لیکن سابق کپتان مصباح الحق سارا ملبہ ڈومیسٹک کرکٹ اور بلے بازوں کی غیر مستقل مزاجی پر ڈال رہے ہیں یعنی کپتان اظہر علی کو کلین چٹ دے دی ہے، جو اس وقت سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

مصباح الحق کہتے ہیں کہ ایک روزہ دستے کی مسلسل تنزلی کا سبب ملکی کرکٹ کا نظام ہے، جس کے معیار کو بڑھانا اور ایک روزہ مقابلوں کی تعداد کو بڑھانا اب ضروری ہے۔ "ناکامی کا ذمہ دار صرف کپتان کو قرار دے کر قیادت تبدیل کرنے کا چلن بدلنا ہوگا کیونکہ اس سے ہر آنے والا کپتان دباؤ کا شکار رہتا ہے۔"

ٹیسٹ کپتان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اظہر علی انگلستان کے خلاف بدترین کارکردگی کی وجہ سے سخت تنقید کی زد میں ہیں اور سابق کرکٹرز اور شائقین کی بڑی تعداد انہیں قیادت سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس نازک مرحلے پر مصباح کی جانب سے حمایت اظہر علی کے لیے حوصلہ افزا بات ہوگی۔ یاد رہے کہ اظہر علی کو غیر متوقع طور پر کپتان بنانے کے پیچھے مصباح ہی کی سفارش تھی، جن کی وجہ سے وہ ڈھائی سال بعد ایک روزہ دستے میں واپس آئے، وہ بھی کپتان کی حیثیت سے۔

یہ بھی پڑھیں:  گرین شرٹس کی مثبت اپروچ تاریخ بدل سکتی ہے!

بلے بازوں کی غیر مستقل مزاجی بھی مصباح کی نظر میں ایک روزہ میں پاکستان کی تنزلی کی اہم وجہ ہے۔ ملکی سطح پر بھی ایک روزہ مقابلوں میں کافی کمی ہے یہی وجہ ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے بلے بازوں میں ٹھیراؤ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ گیندبازی میں سعید اجمل کے منظرنامے سے غائب ہو جانے سے بھی پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ سعید کے بعد کوئی 'میچ ونر' گیندباز پاکستان کو نہیں ملا، اور حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔

اب پاکستان کا مقابلہ ویسٹ انڈیز سے ہے کہ جو متحدہ عرب امارات میں گرین شرٹس سے تین ون ڈے میچز کھیلے گا۔ پاکستان کی ایک روزہ ٹیم کے لیے اگلا ایک سال بہت اہم ہے کیونکہ اس دوران کامیابی ہی پاکستان کو 2019ء کے عالمی کپ میں براہ راست پہنچا سکتی ہے، بصورت دیگر اسے کوالیفائنگ راؤنڈ کھیل کر ورلڈ کپ تک پہنچنا پڑے گا۔

Azhar-Ali-Misbah-ul-Haq

Facebook Comments