ڈی کوک نے آسٹریلیا کو گھما کر رکھ دیا

جنوبی افریقہ کی سرزمین پر پہنچتے ہی وکٹ کیپر بلے باز کوئنٹن ڈی کوک نے 178 رنز کی طوفانی اننگز کھیل کر آسٹریلیا کا 'شاندار استقبال' کیا ہے۔

295 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کو جیسا آغاز درکار تھا، ڈی کوک نے بالکل ویسی ہی ابتدا فراہم کی۔ ریلی روسو کے ساتھ صرف 17 اوورز میں 145 رنز جوڑے بلکہ اس وقت تک آسٹریلیا کے سینے پر مونگ دلتے رہے جب تک جنوبی افریقہ فتح کے قریب نہیں پہنچ گیا۔

ڈی کوک کی غیر معمولی اننگز صرف 113 گیندوں پر مشتمل تھی جس کے دوران انہوں نے 11 چھکے اور 16 چوکے لگائے اور 178 رنز بنائے۔ یہ ایک روزہ میں گیری کرسٹن کے 188 رنز کے بعد کسی بھی جنوبی افریقی بلے باز کی بہترین اننگز ہے۔

صرف 65 ایک روزہ مقابلے کھیلنے والے 'ننھے' ڈی کوک کی یہ کوئی دوسری یا تیسری نہیں بلکہ پوری گیارہویں سنچری تھی۔ صرف 23 سال کی عمر میں وہ سنچریوں کو دہرے ہندسے میں پہنچا چکے ہیں بلکہ اتنے میچز کے بعد سوائے ہاشم آملا کے کسی کی اتنی سنچریاں نہیں تھی۔ اپنے پسندیدہ میدان سنچورین پر اب 9 اننگز میں ڈی کوک کی چار سنچریاں اور دو نصف سنچریاں ہوچکی ہیں کہ جن کی مدد سے انہوں نے 762 رنز بنائے، وہ بھی 95 سے زیادہ کے اوسط سے۔

آسٹریلیا کی دوسرے درجے کی باؤلنگ لائن کو ڈی کوک نے تیسرے درجے کا بنا دیا۔ کوئی گیندباز ایسا نہیں تھا جس نے چھ رنز فی اوور سے کم کے حساب سے رنز دیے ہوں۔ اسکاٹ بولینڈ نے 7 اوورز میں ہی 67 رنز کھا لیے۔ تین وکٹیں ضرور ان کو ملیں لیکن ان وکٹوں کا آسٹریلیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ آسٹریلیا کے گیندبازوں کو کبھی کسی بلے بازی کی جانب سے اتنی مار نہیں پڑی۔ ہاں! روہیت شرما نے 209 رنز ضرور بنائے تھے، یہ اس کے بعد آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی سب سے بڑی اننگز بن گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مارٹن کرو کی چند یادگار اننگز

ڈی کوک ان چند بلے بازوں میں سے ایک ہیں جو ایک روزہ میں مسلسل تین سنچریاں رکھتے ہیں۔ یعنی انہیں تسلسل کے ساتھ کھیلنے کی عادت ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ سیریز کے دوسرے مقابلے میں بھی ان کے بلّے کا جادو سر چڑھ کر بولے؟ اگر ایسا ہوا تو آسٹریلیا کے لیے پانچ مقابلوں کی سیریز مزید مشکل ہوجائے گی۔

Quinton-de-Kock

Facebook Comments