تیسرا ون ڈے: پاکستان ورلڈ کپ کی جانب قدم بڑھاتا ہوا

پاکستان ٹیسٹ میں نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے لیکن محدود طرز کی کرکٹ میں ان کی درجہ بندی شرمناک زوال کو چھو رہی ہے۔ البتہ گزشتہ چند ماہ سے لگتا ہے کہ پاکستان کھویا ہوا کرشمہ حاصل کر رہا ہے۔

اس نے حال ہی میں ٹی ٹوئنٹی میں دومرتبہ کے عالمی چیمپیئن ویسٹ انڈیز کو شکست دی اور اب ایک روزہ میں میں دو-صفر کی فاتحانہ برتری کے ساتھ آگے ہے۔ اب تیسرا ایک روزہ آج کھیلا جائے گا اور پاکستان سیریز جیتنے کے باوجود اس مقابلے کو ہلکا نہیں لے گا اور کلین سویپ کے لیے مکمل طاقت استعمال کرے گا۔

فل سیمنز کے اچانک اخراج کے بعد ویسٹ انڈیز ویسا نظر نہیں آتا۔ ان کے بلے بازوں کے پاس پاکستانی باؤلرز کا کوئی جواب نظر نہیں آتا۔ مارلون سیموئلز کی بیٹنگ کارکردگی ویسٹ انڈین ٹیم کا واحد روشن پہلو ہے، لیکن وہ بھی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کر سکے۔ بدقسمتی سے انہیں باقی بلے بازوں کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملی۔ جانسن چارلس کی کارکردگی بھی زوال پذیر ہے۔ وہ ٹی ٹوئنٹی میں شاندار فارم کے ساتھ متحدہ عرب امارات پہنچے تھے لیکن اب تک کچھ نہیں کر سکے۔ گیندبازوں کا حال بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے، پاکستان کی بیٹنگ لائن نے ان کے خلاف خوب رنز بٹورے ہیں۔

پاکستان کو اس سیریز میں بابر اعظم کی صورت میں ایک 'ہیرا' بھی ملا ہے۔ 21 سالہ بلے باز بہترین فارم میں ہیں اور پہلے دونوں ایک روزہ مقابلوں میں سنچریاں بنا کر مرد میدان رہ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  عالمی درجہ بندی: دوسری پوزیشن کے لیے مقابلہ مزید سخت

البتہ کپتان اظہر علی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، خاص طور پر ان کی بھیانک بیٹنگ کی وجہ سے۔ وہ آخری ایک روزہ میں رنز بنانا چاہیں گے۔ تیسرے ون ڈے میں پاکستان کو محمد عامر کی خدمات بھی حاصل نہیں ہوں گی جو اپنی بیمار والدہ کی وجہ سے پاکستان لوٹ آئے ہیں۔

پاکستان اس وقت ایک روزہ کی عالمی درجہ بندی میں نویں نمبر پر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ موجودہ حالت میں عالمی کپ 2019ء کے لیے براہ راست کوالیفائی نہیں کر سکتا۔ اگلے عالمی کپ میں 10 ٹیمیں کھیلیں گی جو پچھلے دونوں ورلڈ کپس سے کم تعداد ہے کہ جہاں 14 ٹیمیں کھیلیں۔ اس لیے درجہ بندی کو بہتر بنانے اور اگلے عالمی کپ کے لیے براہ راست جگہ حاصل کرنے کی خاطر پاکستان کو ویسٹ انڈیز کے خلاف یہ مقابلہ جیت کر اپنی درجہ بندی کو بہتر بنانا ہوگا۔

اگر پاکستان ایسا کرنے میں ناکام رہا تو اسے افغانستان، زمبابوے اور آئرلینڈ کے خلاف کوالیفائنگ مرحلہ کھیلنا پڑے گا جو 2018ء میں بنگلہ دیش میں ہوگا۔ اس ہزیمت سے بچنے کے لیے پاکستان کو اگلے سال ستمبر تک خود کو ٹاپ 8 میں پہنچانا ہوگا۔ اس سمت میں پہلا قدم آج کا پاک-ویسٹ انڈیز تیسرا ایک روزہ ہوگا جہاں کامیابی پاکستان کو آٹھویں نمبر پر لے آئے گی۔

pak-west-indies-2016-3rd-t20i

Facebook Comments