بھارتی بورڈ کی زبان درازیاں، احسان مانی کا سخت جواب

پاک-بھارت سرحدی کشیدگی کے آغاز سے اب تک بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ، اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما، انوراگ ٹھاکر پاکستان کے خلاف مسلسل آگ اگل رہے ہیں حالانکہ یہ بین الاقوامی کرکٹ کا قانون ہے کہ رکن ممالک ایک دوسرے کے بارے میں توہین آمیز یا اشتعال انگیز گفتگو نہیں کر سکتے بلکہ آئی سی سی کے نزدیک وہ بورڈ قابل قبول ہی نہیں جس میں سیاسی مداخلت ہو۔ لیکن بھارتی بورڈ ان دنوں ان قواعد کی کھلی خلاف ورزی کرتا نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف پاکستان کے خلاف مسلسل بیان بازی اور دوسری طرف حکمران جماعت کے رکن پارلیمانٹ انوراگ ٹھاکر کا بورڈ کا سربراہ ہونا، جو اس وقت کھلم کھلا پاکستان کے خلاف نہ کھیلنے کو دراصل حکومت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کہا ہے اور کیوں خاموش ہے؟ اس کا جواب نجانے کون دے گا لیکن آئی سی سی کے سابق پاکستانی صدر احسان مانی میدان مین ضرور آ گئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ پی سی بی کو انوراگ ٹھاکر کے بیانات کا سخت نوٹس لینا چاہیے اور اگلے ہفتے کیپ ٹاؤن میں آئی سی سی کے ایگزیکٹو اجلاس میں اس اشتعال انگیزی پر جواب طلب کرنا چاہیے۔ احسان مانی نے یہاں تک کہا کہ پاکستان کے ساتھ نہ کھیلنے کے اعلان کے تناظر میں پاکستان کو مطالبہ کرنا چاہیے کہ آئندہ آئی سی سی کا کوئی ایونٹ بھارت میں منعقد نہ ہو۔

سابق صدر آئی سی سی نے مزید کہا کہ انوراگ ٹھاکر کے غیر سنجیدہ اور بچگانہ بیانات نے پاکستان کو بھارت کے خلاف مضبوط کیس پیش کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے جس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آئی سی سی کے کسی ٹورنامنٹ میں بھارت کے ساتھ ایک ہی گروپ میں شمولیت پر راضی نہ ہو کیونکہ ان دونوں ممالک کو باقاعدہ منصوبہ بندی سے ایک گروپ میں رکھا جاتا ہے تاکہ شائقین کرکٹ بڑے پیمانے پر متوجہ ہوں۔ اس طرح آئی سی سی بہت پیسہ کماتا ہے جس کا تیسرا حصہ بھارت کو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ایس ایل کا بخار

احسان مانی کے مطابق پاکستان نے گزشتہ چند سالوں میں دو طرفہ کرکٹ کی بحالی کے لیے بھارتی بورڈ کی بہت منت سماجت کی ہے کیونکہ 2007ء کے بعد سے دو طرفہ کرکٹ نہ ہونے سے پاکستان کو 100 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے مگر اب بھارت کی وجہ حالات اور مشکل ہیں۔ ایسے میں اپنے نقصان کا ذمہ دار بھارت کو ٹھہرانے کے لیے پاکستان کا کیس مضبوط ہو گیا ہے۔

آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں نجم سیٹھی آئی سی سی ایگزیکٹیو اجلاس میں پاکستان بورڈ کی نمائندگی کریں گے کیونکہ چیئرمین شہریارخان بیمار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے بھارت کی دھمکیوں کا موثر جواب دینے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے اور قوم کی امنگوں کی بھرپور ترجمانی کی جائے گی۔

Ehsan-Mani

Facebook Comments